Input your search keywords and press Enter.

یوم کشمیر پر وزیر اعظم کا خطاب

’’مقبوضہ اور آزاد کشمیر کے لوگ جب اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ریفرینڈم میں اپنے مستقبل کا پاکستان کے حق میں فیصلہ کریں گے تو اس کے بعد پاکستان کشمیر کے لوگوں کو حق دے گا کہ آپ آزاد رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔‘‘ وزیر اعظم عمران خان نے یہ غیر معمولی اعلان گذشتہ روز یوم کشمیر پر کوٹلی میں منعقدہ جلسے سے خطاب میں کیا۔ بعض مبصرین اسے کشمیر پر پاکستانی قوم کے سات عشروں کے متفقہ موقف سے انحراف قرار دے رہے ہیں جس کی رو سے کشمیری عوام کو استصواب میں پاکستان یا بھارت سے الحاق کے حق میں فیصلہ دینا ہے، خود مختار کشمیر کا کوئی آپشن اس میں شامل نہیںجبکہ کشمیریوں کی سات عشروں سے جاری تحریک کا ہدف بھی واضح طور پر پاکستان میں شمولیت ہی ہے۔ تقسیم ہند کے موقع پر جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے الحاق پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی تھی اور اسی کی بنیاد پر اقوام متحدہ نے کشمیری عوام کو بذریعہ استصواب رائے پاکستان یا بھارت سے الحاق کے فیصلے کا حق دینے کی قرارداد منظور کی تھی۔تاہم دفتر خارجہ کے ترجمان نے صراحت کی ہے کہ جموں و کشمیر کے تنازع پر پاکستان کے اصولی موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اقوام متحدہ کے زیر نگرانی آزادانہ اور

غیرجانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے جموں و کشمیر تنازع کے حل کے لئے پُرعزم ہے۔ جمعے کو میڈیا بریفنگ میںایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر اپنے خطاب میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لئے پاکستان کے دیرینہ موقف اور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیر اعظم نے بار بار جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے بارے میں بات کی اور ان قرار دادوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی یہ وضاحت وزیر اعظم کے خطاب کے ان الفاظ کے عین مطابق ہے کہ ’’آج میرے یہاں آنے کا مقصد دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ دنیا نے کشمیر کے لوگوں سے 1948 میں ایک وعدہ کیا تھا۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے لوگوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کاحق ملنا تھا ۔ آج میں سب سے پہلے دنیا کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ جو حق دیا گیا تھا کشمیر کے لوگوں کو وہ پورا نہیں ہو سکا جبکہ اسی اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے مشرقی تیمورکو انڈونیشیا جیسے مسلمان ملک میں، جو ایک جزیرہ تھا اور وہاں عیسائی زیادہ تھے،کو وہ حق دیا اور وعدہ جلدی پورا کیا گیا، ریفرنڈم کرا کر ان کو آزاد کردیا گیا۔ میں اقوام متحدہ کو یاد کرانا چاہتا ہوں کہ کشمیر میں آپ نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ۔‘‘ وزیر اعظم نے تاریخی حقائق کی روشنی میں اس حقیقت کی بخوبی نشان دہی کی کہ کسی خطے کے لوگوں کو جبر اور ظلم کے ذریعے کوئی ملک ہمیشہ اپنا حصہ نہیں بنائے رکھ سکتا۔اس سلسلے میں انہوں نے ویت نام اور افغانستان کی مثالیں دیتے ہوئے بھارت کے حکمرانوں پر واضح کیا کہ تمام کشمیری بھارت کی غلامی سے نجات پر متفق ہیں اس لیے بھارت انہیں زیادہ دیر اپنا حصہ بناکر نہیں رکھ سکتا۔فی الحقیقت کشمیر تاریخ میں کبھی ہندوستان کا حصہ نہیں رہا بلکہ سلطان شہاب الدین کے دور میں بیشتر ہندوستان اور موجودہ چین کا علاقہ کاشغر کشمیرکا حصہ تھے۔ تاہم اپنے خطاب میں وزیر اعظم نے کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ کشمیریوں کی طرف سے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ ہوجانے کے بعد بھی پاکستان انہیں خود مختار ریاست کی حیثیت اختیار کرنے کا موقع دینے کو تیار ہے۔ لیکن ایسی صورت میں جب کشمیری عوام کی پوری تحریک ہی الحاق پاکستان کی بنیاد پر استوار ہے ، اس اعلان کا کوئی جواز نظر نہیں آتا اور اگر اس کے پیچھے کوئی حکمت ہے تو ضروری تھا کہ پہلے قوم کو اس پر اعتمادمیں لیا جاتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے