Input your search keywords and press Enter.

یوم یکجہتی کشمیر کو سنجیدہ طریقے سے منائیں

تحریر:خواجہ محمد سلیمان۔۔۔برمنگھم
ہر سال5 فروری کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے، اس کا آغاز امیر جماعت اسلامی پاکستان مرحوم قاضی حسین احمد نے شروع کیا تھا، ان کے نزدیک کشمیر کاز کی جو اہمیت تھی وہ بڑی واضح تھی، جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر نے تحریک آزادی کے لئے جو قربانیاں دی ہیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں، اسی طرح جماعت اسلامی پاکستان اور آزاد کشمیر نے جس طر ح اس کاز کی پشت پنا ہی کی ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور یہی وجہ ہے کہ قاضی حسین احمد مرحوم یہ چاہتے تھے کہ پورا پاکستان تحریک آزادی کشمیر کے لئے سر گرم عمل ہو،کیونکہ کشمیر تقسیم ہند کا وہ تنازع ہے جس کا پاکستان کے مستقبل سے گہرا تعلق ہے، بلکہ پاکستان کا زندہ رہنا اس کے بغیر ممکن نہیں، یہ کوئی جذباتی باتیں نہیں بلکہ بقول بانی پاکستان کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے اور اس کے بہت بڑے حصے پر بھارت نے جبری قبضہ کیا ہوا ہے۔پاکستان کی مختلف حکو متوں نے اس مسئلہ کو حل کرنے کی کوششیں کیں مگر وہ کامیاب نہیں ہوئیں، اس کی بنیادی وجہ قومی پالیسی کا نہ ہونا تھا، مثلاً جنرل ایوب خان کے دور حکو مت میں کشمیر کو آزاد کروانے کی کوشش کی گئی اس کی پلاننگ پوری طرح نہ کی گئی، آخر کار پسپائی کا سامنا کرنا پڑا اور معاہدہ تاشقند کر کے مسئلہ کشمیر
کو سرد خانے میں ڈال دیا گیا، بھا رت نے ایک پلاننگ کے تحت 1971 میں پاکستان پر حملہ کیا اور وہ کامیاب ہو گیا اور پاکستان دو لخت ہو گیا، بھارت کیوں کامیاب ہوا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی عسکری اور سیاسی قیادت ایک پیج پر تھی ،ہمارے ہاں ایسا کبھی نہیں ہوا، اگر فوج کچھ کرنے کے لئے اقدامات کرتی ہے تو سیاسی قیادت ساتھ نہیں دیتی اور اگر سیاسی قیادت آگے بڑھتی ہے تو فوج ساتھ نہیں دیتی۔یہ بنیادی کمزوری ہے موجودہ تحریک دیکھ لیں 1989میں جو تحریک آزادی مقبوضہ کشمیر سے چلی، اس میں عسکریت بھی تھی اور سیاسی جدوجہد بھی تھی، امریکہ کے دبائو میں آکر پاکستان نے عسکریت کی حمایت کرنا چھوڑدی اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو کہا کہ اب سیاسی جدوجہد کریں اور بھارت نے سیاسی تحریک کو کچلنے کیلئے فوجی طاقت کا استعمال کیا اور اس نے حالات کو کنٹرول کیا، یہ تو کشمیریوں کا جذبہ ایمانی ہے کہ وہ ان حالات میں بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں، ہمارے پاس اتنی افواج ہے، ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، وہ کس لئے ہیں، اگر ہم ان ہتھیاروں سے کشمیر کیلئے کچھ نہیں کر سکتے تو پھر کشمیر کا نام لینا چھوڑ دیں۔ یہ مسلمانوں کا شیوہ نہیں وہ موت سے نہیں ڈرتا بلکہ موت کی آنکھوں میں آ نکھیں ڈال کر بات کرتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کی پالیسی صرف تقاریر کی حد تک رہ گئی ہے، اب قوم کو کبھی یہ بتایا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ میں عمران خان ایک تقریر کر ے گا کہ مودی انتہا پسند ہندو ہے، بس پھر بھا رت کا کشمیر سے قبضہ حتم ہو جائے گا، شاید عمران خان کو یہ کسی نے نہیں بتایا کہ جو کحچھ تم کہتے ہواس کاعلم اہل مغرب کو تم سے پہلے ہے، وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے بھارت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے، موجودہ حکومت سے زیادہ امیدیں لگانا حماقت ہے، ملکی نظام چلانا کرکٹ کھلینے یا ہسپتال بنانے سے مختلف ہے، یہاں پر سب کو ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے، جسطرح یوم یکجہتی کشمیر اس سال منایا گیا اس سے بہتر تھا کہ خاموشی اختیار کی جاتی، اپوزیشن والے بھی عمران خان سے بہتر نہیں، انہوں نے بھی پاکستان کو جاگیر سمجھ لیا ہے وہ بس اقتدار کی کرسی کا مزہ لینا چاہتے ہیں، کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے، اگر پاکستانی یہ چاہتے ہیں کہ کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے تو وہ ایک جماعت ہے جس کے پاس کشمیر کو آزاد کروانے کا پروگرام ہے وہ ہے جماعت اسلامی جس نے میدان میں رہ کرثابت کیا ہے کہ ان کو اقتدار کا لالچ نہیں بلکہ وہ پاکستان کے اس نظریہ کے محافظ ہیں جس کے بل بوتے پر لاکھوں مسلمانوں نے قربانیاں دے کر یہ وطن مسلمانوں کے لئے حاصل کیا تھا، اب بھی وقت ہے کہ پاکستانی عوام ان سیاسی چال بازوں کو سمجھیں اور ان کو اقتدار کی کرسی پر دوبارہ نہ بٹھائیں، یہ آزمائے ہوئے لوگ ہیں، عمران خان کو آزما کر دیکھ لیا ہے، یہ سب ایک قسم کے لوگ ہیں جنہیں دھن ودولت سے پیار ہے ،ان کو نہ پاکستان کی پروا ہے اور نہ آخرت کی کوئی فکرہے، کشمیر انشاء اللہ آزاد ہو گا یہ پاکستان کا حصہ ہے کو ئی مائی کا لال اسکو پاکستان سے جدا نہیں کر سکتا، یہ ایک مودی ہے،ایسے ہزار مودی بھی آجائیں پھر بھی وہ کشمیریوں کو غلام نہیں رکھ سکتے، ہم اللہ اور محمدؐ کے غلام ہیں، اپنے اندر یقین پیدا کریں انشاء للہ ٖفتح ہماری ہو گی۔ غلامی میں کام آتی ہیں نہ شمشیریں نہ تدبیریں، جو ہو ذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے