پاک فوج کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر پر آگاہی بڑھنے کو انتہائی مثبت قرار دیا گیا ہے۔ کشمیر کو اپنی شہ رگ مانتے ہوئے عالمی ‘ علاقائی اور ملکی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر رکھنا ہماری حکومت اور مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں اقدامات کے مقاصد سے قائم ہونے والے اداروں کی ذمہ داری ہے ‘ مگر اس سلسلے میں ماضی کی جو کارکردگی ہمارے سامنے ہے اور اسے کسی لحاظ سے بھی بھرپور قرار نہیں دیا جاسکتا۔ بہت سے پہلو ایسے تھے جن میں تشنگی موجود رہی اور اس خطے کے اس سب سے بڑے علاقائی مسئلے کے جو انسانی‘ علاقائی‘ سیاسی ‘ معاشی اور عسکری مضمرات تھے یا آنے والے وقت میں ہو سکتے تھے ان کا بھر پور انداز سے احاطہ نہیں کیا گیا۔
دانش گاہوں کی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کو سمجھنے سمجھانے اور اس کے مختلف پہلوؤں اور اثرات کے جائزے پر مبنی تحقیقی کام میں کسر رہ گئی‘ باوجود اس کے مقبوضہ کشمیرکی اندرونی صورتحال‘ قابض افواج کے انسانیت سوز مظالم اور مظلوم کشمیریوں کی حالتِ زار نے دنیا کو اس غیر معمولی مسئلے سے لاتعلق نہیں ہونے دیا۔ اگست 2019ء میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی ریاستی حیثیت کو تبدیل کرنے کے ناجائز اقدام اور مظلوم کشمیریوں کے طویل محاصرے نے بھی عالمی ضمیر کو مقبوضہ کشمیر کی تشویش اور احساس سے آگاہ کیا۔یہ بھارتی اقدام مسئلہ کشمیر کیلئے کئی لحاط سے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا کیونکہ ایک طرف جو کشمیری سیاسی دھڑے روایتی طور پر بھارتی پلڑے میں وزن ڈالتے اور کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتے تھے ‘ ریاستی حیثیت میں تبدیلی کے ناجائز اقدام نے انہیں بھی مرکزی دھارے کے ساتھ ملنے اور اپنی ماضی کی غلطیوں پر ندامت پر اکسایا۔ دوسری جانب عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر بحث کا موضوع بنا اور دنیا اس حوالے سے سوچنے پر مجبور ہوئی۔ان حالات میں حکومت پاکستان کی جانب سے بھی مسئلہ کشمیر پر واضح اور زور دار موقف سامنے آیا۔
ستمبر 2019ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب میں مسئلہ کشمیر چھایا ہوا تھا اور یہ زوردار مؤقف اور عالمی و علاقائی سطح پر مظلوم کشمیریوں کے مقدمے کی وکالت پچھلے ایک ڈیڑھ برس سے بلا تعطل دکھائی دیتی ہے‘ مگر یہ مانا جاتا ہے کہ اس کوشش میں ابھی بہت اضافہ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ عالمی سطح پر جمود توڑنے کیلئے اور کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دلانے میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے ابھی کئی چیلنجز درپیش ہیں۔ حکومت پاکستان ‘ عوام اور اداروں کی جانب سے مظلوم کشمیریوں کی اخلاقی ‘ سیاسی اور سفارتی حمایت کی کوششوں کیلئے یہ ایک کامیابی ہے کہ عالمی رائے عامہ اس علاقائی مسئلے اور انسانی المیے سے آگاہ ہو رہی ہے۔ امریکی ریاست نیو یارک کی اسمبلی میں پانچ فروری کو کشمیر ڈے منانے کی قرار داد کی منظوری ‘ ایسی ہی ایک خوش آئند پیشرفت ہے جسے کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کی جدوجہد میں بین الاقوامی حمایت کا ایک مظہر قرار دیا جاسکتا ہے۔
اس قرار داد نے ایک نظیر قائم کر دی ہے کہ انسانی اور جمہوری حقوق کیلئے دنیا کے دیگر بااثر ممالک اور اداروں کو بھی کشمیری عوام کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں جس عالمی رابطے اور سفارتکاری کی ضرورت ہے پاکستان اور خود کشمیری رہنماؤں کیلئے یہ ایک بڑا ٹاسک ہے ۔ کوشش کی جائے کہ آئندہ برس 5 فروری کوپاکستان کے ساتھ کئی ممالک سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کی آواز بلند ہو۔ یہ کام اعلیٰ سفارتی رابطوں اور ذرائع ابلاغ میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر رکھنے اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے دنیا کو لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھنے سے ممکن ہو گا۔ ذرائع ابلاغ کے جدید وسائل نے رابطے کے عمل میں جو انقلاب برپا کیا ہے ہمیں ان سہولتوں کو مظلوم کشمیریوں کی وکالت اور سفارت کیلئے استعمال کرنا چاہیے۔
