آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد وسابق وزیراعظم آزادکشمیر سردارعتیق احمد خان نے کہا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور سیز فائر لائن پر خلاف ورزیوں کے حوالہ سے مذاکرات پر نئی امریکی انتظامیہ کی توجہ اس جانب مبذول ہونا ایک اچھی شروعات ہے ،آنے والے وقت میں مسئلہ کشمیر پر پیش رفت ہو سکتی ہے،ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے امریکن محکمہ خارجہ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا،انہوں نے کہا کہ برطانیہ پارلیمنٹ کے اراکین کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش اور اقدامات اور یورپین پارلیمنٹ کی جانب سے اس معاملہ پر بات کرنا اور امریکی وزرات خارجہ کی جانب سے یہ بات یقین سے کی جاسکتی ہے کہ بین الاقوامی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا احساس ہورہا ہے ،قائد مسلم کانفرنس نے مزید کہا کہ امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں جن کو برطانیہ ارکان پارلیمنٹ نے بے نقاب کیا ہے ،بین الاقوامی برادری مسئلہ کشمیر کو سنجیدگی سے لے کیونکہ ہندوستان توسیع پسندانہ ملک ہے اور اس کی جانب سے کوئی بھی ایڈونیچر خطے کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے ،کیونکہ ہندوستان اس وقت شدید ترین خلفشار کا شکار ہے اور اپنے اندرونی مسائل سے توجہ اُٹھانے کیلئے کوئی بھی کھیل شروع کر سکتا ہے ،جسکے سنگین نتائج ہوں گے ۔مودی نے کشمیریوں کو 18ماہ سے یرغمال بنا رکھا ہے جس کیلئے عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ،ہندوستان کیخلاف اپنی آواز بلند کرنی ہوگی ،ہندوستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے انکار کرکے جنوبی ایشیاء کے امن کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے اقوام متحدہ نے اس مسئلہ کے حل کیلئے اقدامات نہ اُٹھائے توخطہ کسی بڑی تباہی کا شکار ہوسکتا ہے۔ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آباد ی کے تناسب کو تبدیل کرنے کیلئے مذموم کوشش میں مصروف ہے دنیا نے اس کو شش کو ناکام نہ بنایا تو جنوبی ایشیاء میں جنگ چھڑ سکتی ہے۔
بین الاقوامی برادری کو مسئلہ کشمیر کی سنگینی کا احساس ہورہا ہے، سردارعتیق
