Input your search keywords and press Enter.

کشمیر …پاکستان کا قدرتی اور نظریاتی حصہ

قیام پاکستان کے وقت برطانوی حکومت نے بھارتی کٹر ہندوراہنماوں کے ساتھ ساز باز کر کے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیر کو متنازعہ بنایا۔ اس سازش میںبرطانوی حکومت، اُن کے برصغیر میںموجود وائیسرائے لارڈ مونٹ بیٹن ، کانگریسی رہنماجواہر لال نہرو، مہاتما گاندھی اور اُن کے ایجنٹ شیخ محمد عبداللہ شامل تھے۔ اس سازش کے نتیجے میں 27اکتوبر1947کو بھارتی فوجیں کشمیرمیں اتار د ی گئیں اور غاصبانہ قبضہ کر کے کشمیریوں کی خواہشات کا خون کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال کشمیر ی عوام 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں۔ کشمیری عوام کے غیض و غضب کو دیکھتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے لال چوک پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر ی عوام کو رائے شماری کا حق دینے کا اعلان کیا اور اقوام متحدہ میں اس حوالے سے ایک قرارداد منظور کی گئی۔ لیکن بھارت 73سال گزرنے کے باوجود اس قرارداد پر عمل کرنے اور کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دینے کے کئے تیار نہیں ہوا۔ کشمیر ی عوام کی آزادی کی جدوجہد جاری رہی۔ 1990میں اس میں شدت آگئی لیکن تیزی 2017میں برھان وانی کی شہادت کے بعد آئی۔ آزادی کی یہ تحریک کسی کی تھوپی ہوئی تحریک نہیں بلکہ یہ کشمیریوں کی اپنی قومی ا ور دیسی تحریک تھی۔ عملاََ2017سے کشمیری اپنے گھروں میںنظر بند ہیں۔جدوجہد آزادی میںتیزی اور مزید شدت اُس وقت آئی جب 5اگست 2019کو BJP/RSSکی مذہبی جنوبی حکومت نے کشمیر کی بھارتی آئین میں موجود خصوصی حیثیت ختم کرنے کے لئے آرٹیکل370 اور35-Aکو ختم کیا۔ اس دن سے آج کے دن تک کشمیر محاذ جنگ بنا ہوا ہے۔ مقبوضہ وادی میں سناٹے کا عالم ہے۔ کشمیریوں پر بھارت کی 10لاکھ قابض فوج مظالم ڈھا رہی ہے جس کی مہذب دُنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ لیکن ان تمام مظالم کے باوجو آج بھی مقبوضہ کشمیر کے ہر گھرپر پاکستان کا قومی پرچم لہرا یا جا رہا ہے۔ شہیدوں کی لاشیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپرد خاک کی جاتی ہیں۔ کشمیر میں ہر تقریب کے شروع ہونے سے پہلے پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جاتا ہے۔ گلی گلی ،قریہ قریہ ، گاوں گاوں، محلہ محلہ پاکستان زندہ باد ، کشمیر خالی کرو کے فلک شگاف نعرے لگتے ہیں۔یہ ساری باتیں کشمیریوںکی پاکستان سے عقیدت اور محبت اور پاکستان میں شامل ہونے کی دل کی آواز ہے۔ حال ہی میں 26جنوری کو بھارتی یوم جمہوریہ کے دن پورے کشمیر میں یوم سیاہ منایا گیا اوربھارت پر واضح کر دیا گیاکہ کشمیری نہ پہلے بھارتی تھے اور نہ ہی آئندہ بھارتی ہوں گے۔ کشمیری پاکستانی تھے اور پاکستانی رہیںگے۔ بھارتی یوم جمہوریہ کے دن 26جنوری کوپورے پاکستان، دنیا اور گلگت بلتستان میں یوم سیاہ منایا گیا اس سلسلے میں ریلیاں نکالی گئیں۔ جلسے جلوس اور احتجاج کا اہتمام کیا گیا۔ سکردومیں بھی بڑی ریلی نکالی گئی جس میں کشمیری عوام کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا گیا اوربھارتی مظالم کی بھر پور مذمت کی گی۔اس ریلی میںمقررین نے برملااظہار کیا کی مودی حکومت اور رابھارت میں اپنی خیر منائے اور کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کشمیر کی آزادی تک مظلوم کشمیریوںکی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیںگے۔ کشمیری عوام کے حق خود دارادیت کے حوالے سے حکومت کی کشمیر پالیسی کو(جو مقتدر حلقوں کی مشاورت سے بنی ہے) نہ صرف دُنیا میں بلکہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں، امریکہ، یورپی پارلیمنٹ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی بھرپور پزیرائی حاصل ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کی تاریخ میںپہلی مرتبہ مسلہ کشمیر پر کئی مرتبہ غور کیا گیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی خصوصاََ بھارتی آئین کے آرٹیکل370اور35-B کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔OICنے بھی اس حوالے سے قرارداد منظور کی ہے۔ امریکی سینٹ اور کانگریس کے علاوہ برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو تشویش ناک قرار دیا جارہا ہے۔اب تو بھارت کے اندر اُن کے اپنے میڈیا کے لوگ، سابقہ جنرل، سابقہ ججوں، سابقہ بیوروکریٹس اور انسانی حقوق کے ادارے بھی مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو انتہائی تشویشنا ک قرار دیتے ہوئے مستقل حل کی تجویز دے رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ کشمیر پر عملاََ بھارت کا اقتدار ختم ہو چکا ہے۔اب وہ وقت دور نہیں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے جبری قبضے سے جلد آزادی حاصل کریں گے اور اُن کی اپنی شروع کردہ دیسی اور قومی تحریک آزادی جلد منطقی انجام کو پہنچے گی ۔ ایسے میں اقوام متحدہ، برطانیہ، OIC،یورپی یونین اور انسانی حقوق کے اداروں کو نہتے کشمیریوں کے حقوق اور جدو جہد آزادی کی عملی حمایت کرنی چاہیے کیونکہ اس دور میںکوئی بھی ملک طاقت کے بل بوتے پر کسی قوم پر جبری اور ناجائز قبضہ جاری نہیں رکھ سکتا۔5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع قومی مفادات اور ملکی یکجہتی کے حوالے سے کچھ باتیں کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔( باقی آئندہ)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے