Input your search keywords and press Enter.

کیا ہم کشمیر کو بھول رہے ہیں؟

آج پاکستان میں بھی بہت سی خبریں جن پر بات کی جا سکتی ہے۔ یہاں پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹ ٹکٹوں کے حوالے سے مسائل چل رہے ہیں۔ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ کی سرگرمیاں ہیں، حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے ایک دوسرے پر حملے ہیں، اشیاء خوردونوش کے مسائل ہیں لیکن ان تمام باتوں سے ہٹ کر سب سے اہم خبر آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے بھارت کے وزیراعظم نریندرا مودی کی اس مکروہ حرکت کو بینقاب کیا ہے جس کے ذریعے وہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں بڑی تعداد میں ہندوؤں کو داخل کر رہے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ جس روز آزاد کشمیر کے صدر کا یہ بیان سامنے آیا ہے ملک کے تمام بڑے چھوٹے، معروف غیر معروف، تمام سیاسی و غیر سیاسی شخصیات اپنے اپنے کاموں میں مصروف رہے۔ جب تک کہ میں یہ کالم لکھ رہا ہوں ہر جگہ دیکھ چکا ہوں کہ کہیں کسی نے صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کے بیان پر کسی نے کوئی دو لفظ ہی کہہ دیے ہوں۔ بدقسمتی سے کوئی کچھ نہیں بولا۔ سب سے پہلے یہ کام پاکستان کے سیاستدانوں کا ہے انہیں اس مسئلے پر تمام سیاسی و ذاتی اختلافات بھلاتے ہوئے یک زبان ہو کر مقبوضہ کشمیر میں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہندوؤں کی آباد کاری کے خلاف آواز بلند کرنی چاہیے تھی۔ اتحاد کی اس آواز سے ناصرف کشمیریوں کے جذبے بلند ہوتے بلکہ ان میں یہ احساس پیدا ہوتا کہ پاکستان کے حکمران پاکستان کے سیاستدان، پاکستان کی سول سوسائٹی سب ان کے پیچھے کھڑے ہیں۔ سب متحد ہو کر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ بدقسمتی ایسا نہیں ہو سکا کیا حکومت کیا اپوزیشن کیا کشمیر کمیٹی کے سابق چیئرمین کیا بڑی بڑی بڑھکیں لگانے والے سب خاموش بیٹھے ہیں اور صدر آزاد کشمیر نے حقیقت دنیا کے سامنے بیان کر دی ہے۔

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نیکہا ہے کہ "کشمیری مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے، کشمیری مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کر کے ہندوؤں کی آبادکاری کی جا رہی ہے اور یہ سب کچھ آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور مسلمانوں کی اکثریت ختم کرنے کے منصوبے کے تحت ہو رہا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی طرف سے گذشتہ آٹھ مہینوں میں دو سے تین ملین ہندوؤں کومقبوضہ کشمیر میں آباد کیا گیا ہے۔ صدر آزاد کشمیرکا کہنا تھا کہ کشمیر پر پاکستان کی توجہ تقسیم نہیں ہونی چاہیے۔کشمیری پاکستان اور پاکستانیوں کو اپنا وکیل مانتے ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی نسل کشی اور انسانیت کیخلاف جرائم میں ملوث ہے۔”

صدر آزاد کشمیر کی یہاں تک کی باتیں ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں ان کی طرف سے صرف یہی کہہ دینا کہ پاکستان کی کشمیر پر توجہ تقسیم نہیں ہونی چاہیے یہ الفاظ ہی ہمیں حقیقت بتانے کے لیے کافی ہیں۔ ایسا کیا ہوا ہے کہ صدر آزاد کشمیر کو ایسا بیان دینا پڑا ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر یہ احساس دلایا ہے کہ ہم پاکستان والے کشمیریوں کے وکیل ہیں اور کشمیری ہمیں اپنا وکیل سمجھتے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ قابل غور و فکر ہیں اور ہمیں سنجیدگی اور اتحاد کے ساتھ مسئلہ کشمیر پر آگے بڑھنا چاہیے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے، ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کی آباد کاری کے پیچھے کیا محرکات ہیں۔ اگر آبادی کا تناسب بدلے گا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہو گا۔ میں نے کشمیر میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے شروع کے دنوں میں مسلسل کشمیر میں ہونے والے مظالم پر لکھا ہے۔ میری خوش قسمتی ہے کہ نوائے وقت جیسے تاریخی اخبار میں جس کی پالیسی ہی نظریہ پاکستان اور مسئلہ کے گرد گھومتی ہے یہاں مجھے کھل کر کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کا موقع ملا ہے۔ مجھے اس وقت ہی اندازہ تھا کہ مودی کا اگلا قدم کیا ہونا ہے کیونکہ مودی سرکار کا فلسفہ ہی مسلمانوں کی مخالفت ہے۔

صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کہتے ہیں کہ "بعض ممالک نے معاشی فوائد کیلیے بھارتی مظالم پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ عالمی طاقتیں اور سلامتی کونسل سمیت سب کشمیریوں کی نسل کشی پر خاموش ہیں۔نریندرا مودی اکھنڈ بھارت کے لیے کام کر رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر ہمیں عالمی عدالت میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔”

یہ صورتحال خطرناک ہے۔ ہماری وزارت خارجہ کو جگانے کے لیے کافی ہے۔ کشمیر میں ہونے والے لاک ڈاؤن کے شروع میں وزارتِ خارجہ متحرک تھی لیکن شاید اب انہوں نے اس مسئلے کو پس پشت ڈال دیا ہے ورنہ ان کی طرف سے مسلسل بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کا مقدمہ لڑتے رہنے، دنیا کی توجہ حاصل کرنے اور بھارتی مظالم دنیا کے سامنے پیش کرتے رہنے کا سلسلہ جاری رہتا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے لیے یہ اہم نہیں ہونا چاہیے کہ سینیٹ انتخابات میں کون حصہ لے رہا ہے یا کون حصہ نہیں لے رہا ان کے لیے یہ اہم ہونا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں کیا ہو رہا ہے اور آزاد کشمیر والے اپنے کشمیری بھائیوں کے لیے کیا کہہ رہے ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ آج اتوار کے روز حکومت کی طرف سے اس حوالے سے بھرپور جواب آنا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سخت موقف اپنایا جائے اور کشمیریوں کے جذبات کی ترجمانی کی جائے۔ کشمیریوں میں یہ سوچ پیدا نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستانی عوام یا ہماری حکومت انہیں نظر انداز کر رہی ہے یا ہم انہیں بھول رہے ہیں یا ہماری توجہ تقسیم ہو گئی ہے یا ہماری دلچسپی کم ہو گئی ہے۔ آج دو تین ملین ہندوؤں کو کشمیر میں صرف اس لیے آباد کیا جا رہا ہے کہ وہاں دہائیوں سے بسنے والے مسلمان کسی صورت بھارت کے ساتھ رہنا نہیں چاہتے۔ بھارت کے تمام مظالم کو برداشت کرنے اور قیمتی جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود وہ آج بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔ بھارت اپنی تمام تر کوششوں اور طاقت کے استعمال کے باوجود کشمیریوں کے خیالات و جذبات کو بدل نہیں سکا۔ وہ ہمارے لیے دہائیوں سے ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہے ہیں ان حالات میں ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ہم اندرونی سیاست میں اتنے مگن جو جائیں کہ کشمیر نظر انداز ہو جائے۔ ابھی پانچ فروری کے موقع پر ہم نے یوم یکجہتی کشمیر منایا ہے ہماری یکجہتی عملی طور پر نظر آنی چاہیے۔ یہ یکجہتی نمائشی یا سالانہ نہیں ہونی چاہیے یہ ہر سانس کے ساتھ تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں اس عزم کو دہرانا چاہیے۔

ایک طرف بھارتی فوج نے کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی انتہا کر دی ہے تو دوسری طرف لداخ میں چینی فوج سے پھینٹی کھا رہے ہیں۔کانگریس رہنما راہول گاندھی نے لداخ سے بھارتی فوجی کی واپسی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مودی نے بھارت کی زمین چین کو دے دی ہے۔ ہمیں اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا ہو گا کیونکہ بھارت اور مودی کا حل صرف پھینٹی ہے جب تک ہم پھینٹی نہیں لگائیں گے اس وقت تک اس نے راہ راست پر نہیں آنا۔ ہمیں بھی اسے پھینٹی لگانے کی تیاری کرنی چاہیے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے چین اور بھارت نے لداخ میں افواج پیچھے ہٹانی شروع کردی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارتی فوج کو وہاں پھینٹی پڑی ہے۔ راہول گاندھی نے اسے سمجھوتہ قرار دے کر حقیقت بیان کی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ملک یمن میں خانہ جنگی کے باعث رواں سال غذائی قلت کے باعث پانچ سال سیکم عمر کم از کم چار لاکھ بچوں کے بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے۔ یہ اعداد و شمار اقوام متحدہ نے جاری کیے ہیں۔ یمن میں جنگ اور کرونا وائرس کے سبب غذائی قلت کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رواں سال پانچ برس سیکم عمر بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح میں بائیس فیصد تک اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ایک طرف دنیا کے امیر ممالک میں جانوروں کے بھی حقوق ہیں تو دوسری طرف یمن کے بچے بھوک سے مریں گے۔ یہ انسانی تاریخ کا بہت بڑا المیہ ہے۔ دنیا کو ایسے تمام ممالک کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے