۔جو بائیڈن کی صدارت میں امریکہ کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔امریکی انتظامیہ نے برملا کہاہے کہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیاجاناچاہیے۔ امریکہ کی نئی انتظامیہ کی کشمیر سے متعلق اس پالیسی بیان نے بھارت کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق ’’اٹوٹ انگ‘‘ کاپروپیگنڈہ ختم کردیا ہے۔ بھارت کو یہ امید تھی کہ جو بائیڈن سابق امریکی صدر کی طرح مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ تسلیم کرلیںگے۔
ایسا نہیں ہوا‘ اس طرح بھارت کی امیدوں پرپانی پھرگیاہے ۔ جیسا کہ ساری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ کشمیر بھارت اورپاکستان کے درمیان ایک متنازع مسئلہ ہے‘ تقسیم ہند سے یہ مسئلہ ان دونوں ملکوں کے درمیان ایک متنازع مسئلہ رہاہے۔ اس مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں بھی ہوئی ہیں۔لیکن ان جنگوں کے باوجود یہ مسئلہ جوں کا توں رہا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ نہیں رہناچاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں جتنے بھی بین الاقوامی سروے ہوئے ہیں‘ ان تمام سروے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے ساتھ کسی بھی قیمت پر نہیں رہنا پسند نہیں کرتے ہیں ‘ خصوصیت کے ساتھ جب سے بھارت کے انتہا پسند پاکستان دشمن نریندر مودی نے 5اگست2019ء میں ایک آرڈیننس کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کواسپیشل اسٹیٹس سے متعلق370 آئین کی شق کوختم کردیاہے اور35اے کوبھی اور مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے جس میں لداخ کا بھارت اور چین کے درمیان متنازعہ علاقے بھی شامل ہے۔ اس علاقے یعنیLOACپر چین اور بھارت کے درمیان فوجی تصادم بھی ہواتھا‘ جس میں بھارت کی فوج کی پٹائی بھی ہوئی تھی(تقریباً 20بھارتی فوجی مارے تھے) جبکہ بھارت کو عالمی سطح پر بڑی ہزیمت کاسامنا کرنا پڑتھا۔اس وقت بھی بھارت اور چین کے درمیان یہ کشیدگی بدستور قائم ہے اور سکم کی سرحدوں تک پھیل چکی ہے۔ جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے جہاں کشمیر کو ایک بار پھر اپنے بیان میں متنازعہ علاقہ قرار دیا ہے‘وہیں بھارت پرزور دیا ہے کہ وہ استصواب رائے کرائے تاکہ کشمیر کے عوام کی مرضی ومنشا سے اس مسئلہ کا حل ممکن ہوسکے ۔ انہوں نے یہ بیان اس لئے بھی دیاہے کہ لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے مسلسل فائرنگ کی وجہ سے صورتحال تشویشناک ہوتی جارہی ہے جوکسی بھی وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ کا موجب بن سکتی ہے‘ جونہ صرف جنوبی ایشیاء کے لئے بلکہ پوری دنیا کیلئے انتہائی خطرنا ک اور ہولناک ثابت ہوگی۔ بھار ت نہ صرف ایل او سی پر جنگ کا آغاز کرنے کی صورتحال پیداکررہاہے بلکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ انتہائی ظالمانہ سلوک کررہاہے‘ہرگزرتے دن کے ساتھ کشمیری نوجوانوں کو جعلی فوجی مقابلہ میں ماراجارہاہے۔ انہیں بلاوجہ گرفتار کرکے بھارت کی مختلف جیلوں میں قید کیاجارہاہے‘ ان کے لواحقین کو یہ نہیں بتایاجارہاہے کہ انہیں کہاں اور کن جیلوں میں بند کیا گیاہے۔‘ اس طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں شدید نوعیت کی انسانی حقوق کی پامالی کررہاہے۔
امریکہ کی نئی انتظامیہ کو مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق بھی بیانات دینے چاہیے بلکہ پرزور مذمت کرنی چاہیے۔ عالمی اصولوں کے مطابق بھارت مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ جو نازیبا سلوک کررہاہے‘ وہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ امریکہ کیونکہ بھارت کا اسٹرٹیجک پارٹنر ہے ‘ اس لئے اس پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بھارت کومقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ کئے جانے والے ظالمانہ سلوک کوروکے‘ ورنہ اس بہیمانہ ظلم کے خلاف مقبوضہ کشمیر کے عوام کی موجودہ تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ امریکہ بھارت کا ساتھ صرف اور صرف چین کی عداوت (دشمنی) میں دے رہاہے‘ بلکہ میرے خیال کے مطابق ناداں اور کم ظرف اور بزدل بھارت کو امریکہ کی شہ پر چین کی دشمنی بہت مہنگی پڑے گی۔ چین آئندہ چند سالوں میں (2025ء ) میں معاشی طور پر ایک سپرپاور بن جائے گا۔امریکہ کی اکانومی دوسرے نمبر پر آجائے گی۔ اس صورت میں بھارت کہاں کھڑاہوگا؟ ویسے بھی بھارت اپنی اندرونی پالیسیوں کی وجہ سے (خصوصیت کے ساتھ اقلیتوں کے سلسلے میں) ساری دنیا میں نہ صرف بدنا م ہوا ہے بلکہ تنہا ہوگیاہے۔ دوسری طرف سکھ کسانوں کے احتجاج کی وجہ سے بھارت ایک ایسی صورتحال سے دوچار ہوا ہے جس کا ازالہ فی الحال نظر نہیں آرہاہے۔اگر کسان آئندہ دنوں میں اپنا احتجاج ختم بھی کردیں گے اور بظاہر بھارت میں صورتحال نارمل ہوجائے گی۔ لیکن جوزخم سکھوں کے علاوہ بھارت کے دیگر کسانوں کولگے ہیں۔ وہ جلد مندمل نہیں ہوسکیںگے۔ کم از کم سکھوں نے اب یہ محسوس کرلیاہے کہ انہوں نے اپنے گرو ماسٹر تارا سنگھ آنجہانی پنڈت نہرو کے بہکانے میں آگئے تھے اور بھارت کے اندر رہنا پسند کیا تھا۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں‘ بھارت ایک انتہا پسند ہندو ملک بنتاجارہاہے۔ جہاں اقلیتوں کو باعزت زندگی گزارنے کی کوئی گنجائش نظر نہیں آرہی ہے ۔بھارت کی اقلیتوں سے متعلق موجودہ پالیسیوں سے سب سے زیادہ نقصان سکھوں اور مسلمانوں کا ہوا ہے۔ جن کو آر ایس ایس کے غنڈے کسی نہ کسی بہانے سے ہراساں کرتے رہتے ہیں‘ اور ان پر عرصہ حیات تنگ کیاجارہاہے۔ یہ دونوں اقلتیں اپنے ہی دیس میں اجنبی ہوکر رہ گئی ہیں۔ اس ہی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی بھارت کی بے رحم‘ ظالم اور انسان دشمن فوج کے ہاتھوں ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ شہید بھی ہورہے ہیں‘ لیکن انہوں نے اس روا ظلم کے آگے سرتسلیم خم نہیں کیاہے۔ بلکہ ان کا جذبہ حریت ‘ آزادی اور زیادہ قوی ہوگیاہے۔ جو بھارت کے لئے آئندہ تباہ کن ثابت ہوگا۔ دوسری طرف بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی تمام تر کوششیں بھی کامیاب نہیں ہوسکیں گی۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کی اس چال کو سمجھ رہے ہیں اورآئندہ ان کی جانب سے اس کا تدراک بھی کیاجائے گا جو بھارت کیلئے غیر معمولی تباہی کاباعث بنے گا۔مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے پاس اس کے علاو اور کوئی دوسراراستہ نہیں ہے۔ ذرا سوچیئے۔
