صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی مسلمانوں کی نسل کشی پر سلامتی کونسل کے ارکان نے اپنے لب سی لیے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہندوؤں کی غیر قانونی آباد کاری کا سلسلہ جاری ہے ۔ ریاست پاکستان کشمیر کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کر سکتی ہے ۔ کشمیر پر ہم 6 جنگیں لڑ چکے ہیں۔ بھارت نے جنگ شروع کی ہے ، ختم ہم کریں گے اور وقت کا تعین بھی ہم کریں گے ۔ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی امریکا کے سابق صدر ٹرمپ کی کوشش غیر سنجیدہ تھی۔ امریکی صدر جوبائیڈن کا فرض ہے کہ وہ کشمیر میں ہونے والا قتل عام رکوائیں اور سلامتی کونسل میں اس معاملے پر متحرک کیا جائے ۔ بھارتی مظالم جاری رہے تو ایک روز ہندوستان کا شیرازہ بھی بکھر جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو کراچی پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے حکومت مخالف حلقوں کے اس تاثر کی تردید کی کہ موجودہ حکومت نے کشمیر پر سمجھوتا کر لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے ،ریاست پاکستان کشمیر کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کر سکتی۔ صدر آزاد جموں و کشمیر نے مزید کہا کہ کراچی ایک بڑا شہر ہے ۔غیر ملکیوں کی آمد سے پتا چلتا ہے کہ ملک کی معیشت بہتر ہو گئی ہے ۔
ریاست پاکستان کشمیر پر سمجھوتا نہیں کر سکتی: صدر آزاد کشمیر
