سرینگر(این این آئی) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکام نے اتوار کے روز نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کو اپنے والدفاروق عبداللہ سمیت ان کے اہل خانہ کیساتھ سر ینگر میں گھر میں نظربند کردیا۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گھر کی نظربندی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے عمر عبد اللہ نے ٹویٹ میں کہا یہ اگست 2019 کے بعد نیا جموں و کشمیر ہے۔ ہمیں کوئی وجہ بتائے بغیر اپنے گھرو ں میں نظر بندکیاگیاہے۔ حکام نے میرے والد اور مجھے اپنے گھر میں بند کردیا ہے، انہوں نے میری بہن اور اس کے بچوں کو بھی ان کے گھر میں بند کردیا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیرکے سابق وزیر اعلی نے سرینگر کے علاقے گپکار میں اپنی رہائش گاہ کے دروازے کے باہر پولیس گاڑیوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔عمر عبداللہ نے کہا ان کے گھر کے عملے کو اندر نہیں آنے دیا جارہا ہے۔ آپ کی جمہوریت کے نئے ماڈل کا مطلب یہ ہے ہمیں بغیر کسی وضاحت کے گھروں میں نظربندکیا جاتا ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ گھر میں کام کرنے والے عملے کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جارہی اور پھر آپ حیران ہوتے ہیں کہ میں ابھی بھی ناراض اور تلخ ہوں۔
عمر عبداللہ، فاروق عبداللہ اہلخانہ سمیت گھر میں نظربند
