خونریزی کے خاتمہ کیلئے پاکستان سے بات چیت ناگزیر: محبوبہ
عارف بلوچ
پی ڈی پی صدر اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کشمیر میں جاری خونریزی کے خاتمے کیلئے پاکستان سے بات چیت کرنے کی وکالت کی ہے۔ جمعہ کے روز سری نگر میں جنگجو کے حملے میں ہلاک ہونے والے کانسٹیبل سہیل احمد کے سوگوار کنبہ کے ساتھ تعزیتی ملاقات کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی ضرورت ہے ، جو بھارت کے مطابق کشمیر میں تشدد پھیلا رہا ہے تاکہ خونریزی کو یہاں ختم کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت ہند کو یہ سوچنا چاہئے کہ کب تک جموں و کشمیر کے لوگوں کو ہر روز تشدد کا سامنا کرنا ہوگا، روزانہ ہمارے نوجوان چاہیے پولیس یا عام شہری ہو ،تشدد کا نشانہ بن رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے لوگ امن چاہتے ہیں اور مرکز میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت کو جموں و کشمیر کی صورتحال کے بارے میں سوچنا چاہئے اور یہاں حالات کو معمول پر لانے کے لئے سبھی متعلقین سے بات چیت کا آغاز کرنا چاہئے۔مہلوک پولیس اہلکار کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے والد کو بھی اس وقت ہلاک کردیا گیا تھا جب وہ صرف چار سال کا تھا اور اب پسماندگان کس کے سہارے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کشمیر میں تشدد پھیلا رہا ہے تو پھر حکومت ہند کو کم از کم کشمیر میں تشدد کے خاتمے کے لئے پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنی ہوگی کیوں کہ اب کشمیر کے لگ بھگ سبھی قبرستان بھر گئے ہیں۔
کشمیری کب تک لاشیں اٹھاتے رہیں گے
