واشنگٹن:عالمی کشمیر آگاہی فورم کے سکریٹری جنرل ، ڈاکٹر غلام نبی فائی نے حریت پسند کشمیری رہنما مسرت عالم بٹ سمیت بھارتی جیلوں میں قید تمام کشمیری سیاسی رہنماں اور کارکنوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ مسلم لیگ جموں وکشمیر کے چیرمین مسرت عالم بٹ2015 سے مسلسل بھارتی قید میں ہیں۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی نے واشنگٹن میں مسرت عالم بٹ اور دوسرے کشمیری قیدیوں بارے اجلاس میں شرکت کی ۔ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی وکالت کرنے پر بھارتی حکومت نے مسر ت عالم بٹ سمیت بے شمار کشمیریوں کو حراست میں لے رکھا ہے ۔ 48سالہ مسرت عالم ایک سیاسی قیدی ہیں۔ انہوں نے 24 سال بھارتی جیلوں میں گزارے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیری عوام کو خود اپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کا اختیار ہوناچاہئے۔ فائی نے کہا کہ مسرت عالم کے خلاف ہندوستانی حکومت نے 30 سے زائد الزامات عائد کر رکھے ہیں مگر کوئی بھی الزام ثابت نہیں ہوا۔ انھیں کسی ایک جرم میں بھی سزا نہیں سنائی گئی۔
بھارتی حکومت کشمیریوں کے خلاف منظم دہشت گردی کر رہی ہے ۔مسرت عالم بٹ کے نمائندے سلیم قادری نے اجلاس میں بتایا کہ مسرت کو کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ اگرچہ ، عدالتوں نے ان کے خلاف 38 واںپی ایس اے بھی ختم کردیا ہے تاہم ان کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی ۔کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کسی کو بھی کسی جرم کے بغیر دو سال تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے ۔ مسرت عالم کے خلاف پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) کی ایک مدت پوری ہونے کے بعد دوباری پی ایس اے لگا دیا جاتا ہے۔
واشنگٹن میں کشمیر یکجہتی کونسل کے صدر ، سردار ظریف خان نے کہا کہ حق خودارادیت کے حصول کے مطالبے پرکشمیری عوام سڑکوں پر ہیں۔ اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ کے دفتر کی طرف مارچ کرچکے ہیں، کشمیریوں کی جدوجہد جاری ہے مگر عالمی برادری خاموش ہے ۔اجلاس میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے اپیل کی گئی کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرائیں ،غیر مشروط طور پر تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرائیں ،۔ قیدیوں میں مسرت عالم بٹ ، محمد یاسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، محمد اشرف صحرئی بھی شامل ہیں ۔ آسیہ اندرابی ، نعیم خان ، الطاف احمد شاہ ، ناہیدہ نسرین ، فہمیدہ صوفی اور نسیمہ بانو بھی قید ہیں
