Input your search keywords and press Enter.

ہمیں کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اصولی موقف کو کوئی گزند نہیں پہنچنے دینی چاہیے

گلگت بلتستان اسمبلی میں جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کی قرارداد کی متفقہ منظور ی اور اسکے مضمرات

گلگت بلتستان اسمبلی نے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ قومی اسمبلی‘ سینٹ اور دیگر وفاقی اداروں میں ایک صوبے کی حیثیت سے گلگت بلتستان کو نمائندگی دی جائے۔ اس سلسلہ میں گزشتہ روز گلگت بلتستان اسمبلی میں جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ جی بی کو عبوری صوبے کا درجہ دینے کیلئے آئین پاکستان میں ترامیم کا بل منظور کرایا جائے۔ قرارداد کے مطابق آئینی ترامیم میں اس امر کا خیال رکھا جائے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا موقف برقرار رہے۔ گلگت بلتستان کے عوام کشمیریوں کی آزادی کیلئے انکی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھیں گے۔ گلگت بلتستان اسمبلی کی منظور کردہ یہ قرارداد وزیراعظم سیکرٹریٹ کو بھجوا دی گئی۔

عدل و بالادستی قانون کے بغیر ریاستیں بکھر جاتی ہیں: وزیراعظم عمران خان
شمالی علاقہ جات میں شامل ہونے کی بنیاد پر گلگت بلتستان چونکہ وادیٔ کشمیر کا حصہ ہے جس کے بارے میں آزاد جموں و کشمیر سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے اور کشمیر کو شامل کرکے تیار کئے گئے پاکستان کے نقشے میں بھی گلگت بلتستان کو کشمیر ہی کا حصہ دکھایا گیا ہے اس لئے اسکی انتظامی حیثیت کے بارے میں ہمیں کوئی قطعی فیصلہ کرتے وقت کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اصولی موقف کو ہر حال میں پیش نظر رکھنا ہوگا۔

پاکستان کی شہ رگ ہونے کے ناطے اگرچہ کشمیر نے پاکستان کا حصہ ہی بننا ہے جس کیلئے کشمیری عوام خود بھی اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کرنے کے حق میں قیام پاکستان سے بھی قبل فیصلہ دے چکے ہیں تاہم ریاست جموں و کشمیر کے جموں اور لداخ والے حصے پر اپنا تسلط جمانے کے بعد بھارت نے کشمیر کو متنازعہ مسئلہ بنا کر اسکے حل کیلئے اقوام متحدہ میں قرارداد پیش کر دی تھی جس پر سلامتی کونسل کے روبرو پاکستان نے یہ اصولی موقف اختیار کیا کہ کشمیری عوام کی مرضی اور خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر کا حل نکالا جائے۔ اسی بنیاد پر سلامتی کونسل نے کشمیری عوام کا استصواب کا حق تسلیم کیا اور بھارت کو ان کیلئے رائے شماری کے اہتمام کی ہدایت کی۔ پاکستان نے اس قرارداد کے تناظر میں کشمیر کا متنازعہ علاقہ ہونا تسلیم کیا اور اسی بنیاد پر پاکستان سے ملحقہ آزاد کشمیر کو آج تک پاکستان کے صوبے کا درجہ نہیں دیا گیا۔ ہمارا بھارت کیخلاف یہی کیس اور اصولی موقف ہے کہ یواین قراردادوں کی بنیاد پر کشمیری عوام کو استصواب کا حق دیا جائے جبکہ بھارت نے اسکے برعکس کشمیر پر اٹوٹ انگ والی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے غیرقانونی زیرقبضہ کشمیر کو اپنی ریاست کا درجہ دیا بلکہ پانچ اگست 2019ء کو مقبوضہ وادی کا یہ آئینی سٹیٹس بھی ختم کرکے اسے مکمل طور پر بھارتی سٹیٹ یونین میں ضم کردیا اور کشمیری عوام کا ممکنہ احتجاج روکنے کیلئے پوری مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کرکے اسے بھارتی فوج کے حوالے کر دیا جو وہاں آج کے دن تک کشمیریوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ برقرار رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری بھارت کے اس جبری اقدام کیخلاف سراپا احتجاج ہے۔

پاکستان نے اس بھارتی اقدام کیخلاف اب تک ہنگامی بنیادوں پر منعقد ہونیوالے سلامتی کونسل کے تین اجلاسوں میں بھی اپنا یہی اصولی موقف برقرار رکھا ہے کہ کشمیر کا تنازعہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب کا حق دیکر حل کیا جائے۔ اس تناظر میں اگر ہم گلگت بلتستان کو باضابطہ طور پر صوبے کا درجہ دیتے ہیں تو مسئلہ کشمیر پر ہمارا دیرینہ اور اصولی موقف نہ صرف غارت ہو جائیگا بلکہ اس سے بھارت کو بھی عالمی رائے عامہ اپنے حق میں ہموار کرنے کا موقع مل جائیگا کہ ہم نے بھی تو کشمیر کو اپنی ریاست کا ہی درجہ دیا تھا۔ اس طرح بھارتی تسلط سے اپنی آزادی کی تڑپ رکھنے والے کشمیری عوام کی قربانیوں سے لبریز اور گزشتہ 70 سال سے زیادہ عرصے سے جاری جدوجہد میں ان کا سارا سفر کھوٹا ہو جائیگا۔ اس تناظر میں مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں کے مطابق حل ہونے تک ہمیں آزاد جموں و کشمیر یا اسکے کسی بھی حصے کو باضابطہ صوبے کا درجہ دینے سے بہرصورت گریز کرنا چاہیے کیونکہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اسکے نقصانات ہمیں نمائندہ عالمی فورمز پر اٹھانا پڑ سکتے ہیں۔ بے شک جی بی کے عوام کو انتظامی بنیادوں پر انکے حقوق ملنے چاہئیں جو انہیں جی بی کے موجودہ سیٹ اپ میں مل بھی رہے ہیں تاہم جی بی کی مکمل صوبائی حیثیت کا پنڈورہ بکس کھولنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

گلگت بلتستان کا ایشو پیپلزپارٹی کے سابقہ دور سے چل رہا ہے جب اسے آئینی تقاضوں سے ہٹ کر انتظامی بنیادوں پر صوبے کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس کا یہ سٹیٹس مسلم لیگ (ن) نے بھی اپنے دور اقتدار میں برقرار رکھا اور اب پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی جی بی کا یہی سٹیٹس برقرار ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان جی بی کے انتخابات کے موقع پر خود بھی گلگت بلتستان کو باضابطہ صوبے کا درجہ دینے کے اقدامات اٹھانے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اگر آئین کے تقاضوں کے تحت کوئی قدم اٹھانا ہے تو اس کیلئے پہلے گلگت بلتستان کا آئینی سٹیٹس طے کرنا ہوگا کیونکہ آئین کی دفعہ 239 کے تحت جس صوبے میں سے کوئی نیا صوبہ نکالنا مقصود ہو اس کیلئے متعلقہ صوبے کی اسمبلی میں تین چوتھائی اکثریت کے ساتھ نئے صوبے کی قرارداد منظور کرائی جائیگی جس کے بعد قومی اسمبلی وہی قرارداد دو تہائی اکثریت کے ساتھ منظور کریگی۔ اس بنیاد پر جی بی کو پہلے صوبے خیبر پی کے کا حصہ بنایا جائیگا جس سے ایک نیا آئینی تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے کیونکہ شمالی علاقہ جات خیبر پی کے کی بجائے کشمیر کا حصہ ہیں۔

اسی طرح جی بی کو ملک کا پانچواں صوبہ بنانے کی صورت میں ایک آئینی بحران یہ بھی پیدا ہوگا کہ ملک کا موجودہ وفاقی پارلیمانی ڈھانچہ آئین پاکستان کے تحت وفاق اور اسکی چار اکائیوں پر مشتمل ہے۔ اگر اکائیوں کی تعداد پانچ کرنا مقصود ہو تو اس کیلئے آئین میں باضابطہ ترمیم کرکے نیا وفاقی پارلیمانی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا جبکہ موجودہ اسمبلی میں ایسی آئینی ترمیم منظور کرانا عملاً ناممکنات میں شامل نظر آتا ہے اس لئے بہتر ہوگا کہ اس نازک ایشو پر سیاست کرنے اور چمکانے سے گریز کیا جائے کیونکہ یہ بہرحال کشمیر پر پاکستان کے دیرینہ اصولی موقف کے ساتھ وابستہ ہے جسے کسی قسم کی گزند نہیں پہنچنے دی جانی چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے