مکرمی! مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کے بدترین کرفیو کو 586 دن ہو چکے ہیں۔ بھارتی جبر اور غضب کے باعث مقبوضہ کشمیر کے عوام ترمیم کی پابندیوں کے نرغے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی پابندیوں کے باعث کشمیری عوام کا رابطہ دنیا سے منقطع ہے۔ حکومت پاکستان نے 5 اگست 2019ء کے بھارتی غیرقانونی اقدام کے بعد مسئلہ کشمیر کو بڑی جرأت‘ دلیری سے عالمی اداروں‘ بالخصوص یو این او میں اٹھایا۔ عمران خان وزیراعظم نے 27 اکتوبر 2019ء کو جنرل اسمبلی میں خطاب کرکے دنیا کو اس خطے کے سنگین مسئلے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ ماضی قریب میں بھی امریکہ‘ یورپ کے بین الاقوامی اداروں نے بھارت کی اس قانونی دہشت گردی کی مذمت کی مگر نام نہاد بھارتی متعصب وزیراعظم نریندر مودی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ کشمیری قوم نے ہزاروں قربانیاں دیکر تاریخ رقم کر دی ہے۔ بھارت کو فوری طورپر کشمیر سے دستبردار ہوکر جانا چاہئے یا عالمی طاقتیں اس کو گردن سے دبوچ کر مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرائیں۔(تصور اقبال بھون ۔ حافظ آباد)
مقبوضہ کشمیر میں بدترین کرفیوکے 586 روز
