(تجزیہ: سلمان غنی ) وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھارت پر مذاکرات کیلئے پہلا قدم اٹھانے پر اصرارا ور کشمیر کے مسئلہ کے حل کو دونوں ملکوں کے بہترین مفاد میں قرار دینے کی بات دراصل پاکستان کی اس حکمت عملی کی آئینہ دار ہے جس کے تحت متنازعہ ایشوز کے حل کیلئے دونوں ممالک کے درمیان بامقصد مذاکرات ہونا چاہئیں اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کو اپنے مستقبل کے تعین کا اختیار ملنا چاہئے لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر کیونکر بھارت کشمیر سمیت متنازعہ مسائل کے حل کیلئے مذاکرات سے گریزاں ہے اور عالمی قوتیں جنوبی ایشیا میں مستقل امن کے قیام کیلئے بھارت پر مذاکرات کیلئے دباؤ کیوں نہیں ڈال رہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ کی کیفیت دونوں ملکوں کی ترقی و خوشحالی پر کیوں اثرانداز ہو رہی ہے ۔ پاکستان نے ہر فورم پر کشمیر کاز کی بات کی اور مسئلہ کے پائیدار اور منصفانہ حل پر زور دیا مگر بھارت اسے پاکستان کا اندرونی مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس سے صرف نظر برتتا رہا اور برت رہا ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جاتا کہ کشمیر میں نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ نہ ہوتی ہو۔ خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات پیش نہ آتے ہوں اور گھر گھر تلاشی کے عمل کے دوران چادر چار دیواری کا تقدس مجروح نہ ہوتا ہو۔ باوجود خصوصی حیثیت کے خاتمہ کے آج بھی کشمیر بھارت کے خلاف بغاوت کا منظر پیش کر رہا ہے ۔ کشمیر میں بھارتی افواج کی ریاستی دہشتگردی کے عمل نے بھارت کی پوزیشن عالمی محاذ پر خراب کی ہے اور اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بھارت اقلیتوں کے حوالہ سے بدنام ملک کا روپ دھار رہا ہے ۔رپورٹس میں کہا گیا کہ جب تک کشمیر کے مسئلہ کا سیاسی حل نہیں نکل پاتا تب تک خود بھارت میں استحکام نہیں قائم ہو سکتا اور اب کشمیر میں پیدا شدہ صورتحال کے اثرات دیگر ریاستوں میں بھی ہو رہے ہیں ۔ ایسی صورتحال میں ضرورت اس امر کی تھی کہ عالمی قوتیں خصوصاً امریکا بھارت پر متنازعہ مسائل کے حل کیلئے دباؤ ڈالتا اور کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد پر زور دیتا مگر عالمی قوتوں نے بھارت پر مذاکرات کیلئے دباؤ ڈالنے کے بجائے اپنے معاشی مفادات کو پیش نظر رکھا اسے ایک منڈی کے طور پر لیا جاتا رہا جس کی وجہ سے بھارتی سرکار اور خصوصاً نریندرا مودی نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی جاری رکھی۔کشمیر کا تنازع صرف پاکستان اور بھارت تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ دنیا کے امن کے ساتھ جڑا ہوا اور اس خطہ میں امن کیلئے چین بھی ایک بڑا فریق ہے ۔ لداخ میں جو کچھ ہوا یہ اس کا ثبوت ہے ۔ بھارت نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ کشمیر کو چھوڑیں’تجارت کریں مگر پاکستان اس سے متفق نہیں ہو سکتا اور خصوصاً کشمیر پر کمپرومائز کی کوئی حکومت متحمل نہیں ہو سکتی اس لئے کہ کشمیر کا مسئلہ پاکستان کی سلامتی اور اقتصادی ترقی سے جڑا ہوا ہے ۔ بھارت کا کشمیر پر سیاسی کیس نہیں وہ طاقت کے ذریعہ اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے لیکن یہ کوئی دیرپا حل نہیں کیونکہ کشمیر کا بڑا سچ یہ ہے کشمیری بھارت کا تسلط قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔
بھارت کشمیر سمیت متنازعہ مسائل پر مذاکرات سے کیوں گریزاں
