اس میں کوی شک نہیں کہ صلح اور امن سے رہنا خصوصا اپنے ہمسایوں کے ساتھ نرمی کا سلوک اور ان کا خیال رکھنا اسلام کا اولین سبق ہے۔ مگر اس بے جوڑ صلح کو کیا نام دیا جاے جو سعودیہ اپنے کاروباری مفادات کی خاطر کروانے کیلئے سرگرم ہوچکا ہے
ہر وقت جہاد کا راگ الاپنے، ہزاروں ماوں کے لاکھوں لخت جگر روسیوں، امریکیوں اور ہندوستانیوں کے ہاتھوں قربان کروانے کے بعد اب ہم صلح کی بات نہیں کرسکتے۔ سعودیہ کا پیسہ اگر فائدہ دیتا ہے تو جنرل راحیل شریف اور عاصم باجوہ جیسوں کو،،،،،، پاکستانی عوام تو بھوکی سوتی ہے اور بھوکی اٹھتی ہے۔ ہمیں سعودیہ کی ثالثی قبول نہیں۔ مزید بیٹے چاہیئں تو مل جائیں گے مگر اب اپنے بچون کو امریکی نیشنیلٹیز اور ہمارے بچوں کو جہادی مدرسوں کا ایندھن بنانے والے اتنی آسانی سے پیچھے نہیں ہٹ پائیں گے قوم ان کو گریبان سے پکڑ کر پوچھے گی کہ پہلے ہمارے بچوں کا حساب دو پھر بے شک صلح کرتے پھرو
سعودیہ بڑے شوق سے صلح کرواے مگر کیا سعودیہ پاکستان کو کشمیر دلوا دے گا؟ جواب ہےنہیں
کیا سعودیہ انڈیا کو صرف سیاچن سے ہی نکل جانے پر رضامند کروا لے گا؟ جواب ہے نہیں
چلئے اس کو بھی چھوڑ دیں،،،،،کیا سعودیہ انڈیا کو راضی کرلے گا کہ وہ کارگل کے نوگو زون سے ہی پیچھے آجاے؟؟؟
سب جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ ناممکن ہے تو پھر صلح کی بھیک کیوں مانگی گئی ہے؟؟؟؟
کرونا ویکسین کی بھیک کیوں لی گئی ہے؟؟؟؟
اگر صلح ہی کرنی ہے تو غریب ترین ملک کے مفلوک الحال عوام کو دفاع کے نام پر ہر سال بارہ ارب ڈالر کا ٹیکا کیوں لگایا جاتا ہے۔ ؟
اگر اوپر دئیے گئے سارے اشوز کو حل کئے بغیر آپ نے صلح کرنی ہی ہے تو پھر ایک شرط عوام کی بھی ماننی ہوگی
جون آنے میں ابھی ڈھای ماہ باقی ہیں۔ کیوں نہ اس جون میں دفاعی بجٹ بارہ ارب ڈالر کی بجاے بارہ ارب روپے کردیا جاے؟؟؟
کیا سعودیہ ہمیں کشمیر دلوا سکتا ہے؟
