Input your search keywords and press Enter.

مودی کا خط، مسئلہ کشمیر اور پاکستان

گزشتہ ماہ لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان سیز فائر کے معاہدوں کی پاسداری کے عزم کے بعد اب 23 مارچ یوم پاکستان کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا خط آتا ہے جس میں نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا اور پڑوسی ملک کے طور پر بھارت کے پاکستانی عوام سے خوشگوار تعلقات کا خواہش ظاہر کی ہے۔

اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان نے بھی کئی مرتبہ ہندوستان سے اچھے تعلقات کو کشمیر کے مسئلے کے حل سے مشروط کیا ہے ۔ اسی طرح پچھلے دونوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی کہا کہ ماضی کو دفن کر کے پر امن اور بامعنی ڈائیلاگ کے لیے پڑوسی ملک کو سازگار ماحول بنانا پڑے گا اور انہوں نے بھی کشمیر کے مسئلہ پر ہی زور دیا۔

ہمارا ہندوستان کے ساتھ دراصل ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ مسئلہ کشمیر ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ وہی مودی ہے جو کہ الیکشن میں یہ نعرہ لگا کر جیتا کہ ہم کشمیر کو انڈیا کا حصہ بنائیں گے اور اس نے پاکستان کو توڑنے کی باتیں کی۔ اور یہ وہی نریندر مودی ہے جس نے سرحدوں پر میزائل نصب کیے۔ سرحد پار دراندازی، کشمیریوں پر مظالم، تجارتی بائیکاٹ، سخت سفارتی بیانات، ڈس انفو لیب، فیٹف میں ہمارے خلاف سازشیں کرنے والا ہندوستان ہی ہے۔

کیا 5 اگست کو کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے والے فیصلے کو واپس لینے جا رہا ہے؟ مودی سرکار ہمارے بنیادی مسئلے پر توجہ نہیں دیتی اور دوستی کا ہاتھ بڑھاتی ہے لیکن ہم اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ اب اس صورتحال میں آنے والا خط عوام میں بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ اس معاملے کو کس طرح سے حل کیا جائے گا اور یہ خط کس طرح سے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی تلافی کر پائے گا؟

کیا چین سی پیک کی وجہ سے گوادر میں جو کشیدگی تھی اس کو ختم کرنے کے لیے پاکستان انڈیا کو مذاکرات کی ٹیبل پر لا رہا ہے؟ ماسکو کانفرنس میں جب روس نے پاکستان اور چائنہ کے کہنے پر بھارت کو کانفرنس سے نکال دیا اور اعلامیہ جاری ہوا کہ اب جنگ نہیں ہو گی ، بات ہو گی کیا یہ اس وجہ سے یہ ہو رہا ہے؟ کیا بین الاقوامی قوتیں اس میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں؟

یاد رہے کہ امریکن وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے بھارت کے دورے کے بعد بھارتی وزیراعظم نے یہ خط لکھا ہے۔ لیکن سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ پاکستان نے کچھ عرصہ قبل جب نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس کیا اور طویل مشاورت کے بعد سفارتی تعلقات کو ختم کرنے کا کہا اور اپنے ہائی کمیشن کو بھی واپس بلا لیا اور پارلیمان کو اعتماد میں لیا گیا اور قرارداد بھی پاس کیں تو پچھلے چند ہفتوں میں جو بھی اقدامات کیے گئے جن میں پاکستانی وفد نے بھارت کا دورہ، سیز فائر کی دوبارہ بحالی وغیرہ ، یہ سب اچانک کیسے ممکن ہوا؟ کیا پارلیمان کو اس حوالے سے اعتماد میں لیا گیا؟ کیا ان فیصلوں کو واپس لینے کے حوالے سے کوئی اجلاس کیا گیا تھا؟

پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان تناؤ کو نارمل ہونا ہی چاہیے۔ جتنی بھی جنگیں کر لیں اس کا نتیجہ مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ اور اللہ کرے ہم معاملات کو سلجھانے میں اس پیش رفت سے مثبت نتائج اخذ کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے