اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریس نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر مذاکرات میں سہولت کاری کی پھر پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے دونوں ملکوں کو کشیدگی کم کرنے کا بھی مشورہ دیا انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کے ساتھ زیادتی تھی کہ ایک پرامن ملک کو منفی ریاست کے طور پر پیش کیا گیا۔ دنیا میں امن کے لئے پاکستان کا اہم کردار رہا، پاکستانی عوام نے دریا دلی سے لاکھوں افغان مہاجرین کی بہترین مہمان نوازی کی اب ان مہمانوں کو باعزت طور پر واپس جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ یو این فوجی مبصرین کنٹرول لائن پر تعینات رہیں گے۔ پاکستان نے انسدادِ دہشت گردی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا دورہ، پاکستان میں افغان مہاجرین کے قیام کے چالیس برس مکمل ہونے کی رعایت سے بڑی اہمیت رکھتا ہے، دنیا میں شائد ہی کوئی ملک ایسا ہو جس نے اتنے طویل عرصے کے لئے مہاجرین کی میزبانی کی سعادت حاصل کی ہو، ان کا یہ مشورہ بھی صائب ہے کہ چالیس سال سے پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اب اپنے وطن واپس چلے جائیں۔ اس سلسلے میں اہم بات یہ ہے کہ ماضی میں تمام تر کوششوں کے باوجود افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیجا جاسکا، متعدد بار واپسی کی ڈیڈ لائن مقرر کی جاتی رہی اور جب یہ تاریخ ختم ہونے کو آئی تو اس میں مزید سال دو سال کی توسیع کر دی گئی، واپسی کی تھوڑی بہت کوششیں وقتاً فوقتاً کامیاب بھی ہوئیں، لیکن ہوتا یہ رہا کہ اقوام متحدہ کی طرف سے سفر خرچ وصول کرکے جو تھوڑے سے مہاجرین واپس گئے وہ بھی اپنے آبائی گھروں میں چند روز قیام کے بعد واپس آ گئے۔ اب بھی لاکھوں افغان مہاجرین یہاں مقیم ہیں جو بچے یہاں پیدا ہوئے وہ اب خود صاحب اولاد ہو گئے ہیں۔
ان افغان مہاجرین نے مختلف نوعیت کے کاروبار بھی کر رکھے ہیں۔ پشاور میں ٹرانسپورٹ کے پورے نظام پر ان کی اجارہ داری ہے، یہ مہاجرین اپنی اپنی حیثیت کے مطابق کاروبار کرتے، جس کے پاس زیادہ وسائل ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں اپنے کاروبار جما لئے ہیں، ایسے ہزاروں افغان بھی ہیں جنہوں نے پاکستان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بھی حاصل کر لئے ہیں اور بیرون ملک پاکستانی کی حیثیت میں سفر بھی کرتے ہیں ایسے میں سیکرٹری جنرل کے مشورے کے باوجود اس بات کی امید تو کم ہے کہ یہ مہاجرین واپس جائیں گے زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ پہلے کی طرح چند سو یا چند ہزار مہاجرین واپس جائیں، ان کی واپسی کی تیاریوں کی تصویریں بھی میڈیاپر آئیں جن میں دکھایا جائے کہ مہاجرین اپنا سامان لاد کر واپس جا رہے ہیں۔ لیکن ہو گا وہی جو پہلے بھی ہوتا رہا ہے، کیونکہ افغانستان کے حالات اب بھی مہاجرین کی واپسی کے لئے سازگار نہیں ہیں وہاں روزگار کے وسائل محدود ہیں اس لئے یہ مہاجر افغانستان واپس نہیں جانا چاہتے۔ شائد اسی لئے وزیراعظم عمران خان نے 2018ء کے الیکشن سے پہلے یہ تجویز پیش کر دی تھی کہ ان افغانوں کو پاکستانی شہریت دے دی جائے، لیکن اس تجویز کا ملا جلا ردعمل آیا کچھ حلقے اس کے حق میں تھے اور بعض دوسرے مخالف تھے اس لئے یہ تجویز آگے نہ بڑھ سکی، بہرحال اب سیکرٹری جنرل کو خود اس معاملے پر توجہ دینی چاہیے جس طرح انہوں نے مہاجرین کو واپس جانے کا مشورہ دیا ہے وہ اس پر عملدرآمد بھی کرائیں۔
ایک شخص کی دوران پرواز ایمرجنسی دروازہ کھولنے کی کوشش، ایئرہوسٹس کی حاضر دماغی اور بہادری نے 89 مسافروں کی جان بچالی
کشمیر کے سلسلے میں ان کا معلوم دیرینہ موقف ہے کہ یہ مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت اس سلسلے میں کسی پیش رفت پر آمادہ ہی نہیں ہے اب تو اس نے بھارتی آئین میں ترمیم کرکے کشمیر کی خصوصی حیثیت بھی ختم کر دی ہے اور اسے بھارت میں ضم کر لیا ہے، یہ اقدام اٹھانے سے پہلے بھارتی وزیراعظم نے پوری ریاست کی ناکہ بندی کر دی اور کشمیر کو ایک بڑی جیل میں تبدیل کر دیا، کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی، موبائل فون اور دیگر مواصلاتی سہولتیں ختم کر دیں جو اب تک بحال نہیں ہو سکیں۔کشمیر کے کئی بار وزیراعلیٰ رہنے والے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور ان کے صاحبزادے عمر عبداللہ کو جیل بھیج دیا گیا، محبوبہ مفتی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔ ان کے ساتھ کسی قسم کے رابطے کی سہولت بھی ختم کر دی گئی ان کی صاحبزادی التجا مفتی نے بڑی مشکل سے بیرونی دنیا سے رابطہ کرکے اپنی والدہ کی قید کی روداد بیان کی۔ حریت قیادت بھی گھروں میں نظر بند ہے۔ ہزاروں لوگ اب بھی لاپتہ ہیں، کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق پامال کئے جا رہے ہیں ان حالات میں سیکرٹری جنرل نے بھارت کو یاد دلایا ہے کہ ان کے حقوق کا احترام ضروری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت اس مشورے پر بھی عمل کرے گا؟
جہاں تک مسئلہ کشمیر کے حل کا تعلق ہے اس کے لئے مذاکرات میں سہولت کاری کی جو پیش کش سیکرٹری جنرل نے کی ہے ایسی کئی پیش کشیں بھارت پہلے بھی مسترد کر چکا ہے۔ ایسے میں دیکھنا ہو گا کہ کیا وہ تازہ پیشکش کا مثبت جواب دے گا؟ ابھی چند روز قبل سیکرٹری جنرل کے دورے سے پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کے معاملے پر دوٹوک گفتگو کی تو بھارت اس پر ناراض ہو گیا اور اپنا وہی پرانا موقف دہرایا کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے جس پر بات کرتے ہوئے ”احتیاط“ کرنی چاہیے، حالانکہ عالمی ادارہ اسے متنازع تسلیم کرتا ہے اب سیکرٹری جنرل نے مشورہ دیا ہے کہ یہ مسئلہ مذاکرات کے ذریعے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے تو ضروری ہے کہ عالمی ادارہ اس سلسلے میں عملی اقدامات بھی کرے کیونکہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانا بھی اس کی ذمے داری ہے۔ اقوام متحدہ کی یہ قراردادیں عمل کے بغیر محض کاغذ کا ایک پرزہ ہیں اور بھارت ان قراردادوں کو اہمیت نہیں دیتا، اس لئے یہ ضروری ہے کہ بھارت کو اس سلسلے میں اقدامات پر مجبور بھی کیا جائے۔ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ملکوں میں کشیدگی ہے اس لئے اس کا حل ضروری ہے۔ کشیدہ صورتِ حال سے خطے کا امن بھی خطرے میں ہے کیونکہ اگر دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے ہوں تو نہیں کہا جا سکتا کہ کشیدگی اور لڑائی کے نتیجے میں حالات کیا رخ اختیار کرتے ہیں، اس لئے علاقائی اور عالمی امن کی خاطر بھی مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے۔
