Input your search keywords and press Enter.

پاک بھارت امن روڈ میپ اور کشمیر

شہزادعلی
یہ اطلاعات خوش آئند ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معمول کے تعلقات کار کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جس کے لئے متحدہ عرب امارات اور نئے امریکی صدر جوبائیڈن کی نئی امریکی انتظامیہ کی پس پردہ کاوشوں کا خصوصی تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے خیال میں اس کا محرک چاہے کچھ بھی کیوں نہ ہو بذات خود ایسا امن عمل جنوبی ایشیائی خطے کے وسیع تر مفاد میں ہے اور ظاہر ہے کہ جب دو پڑوسی ممالک جو جنگ کے دہانے پر کھڑے ہوں اور ایٹمی توانائی سے بھی لیس ہوں تو کوئی چھوٹی سے بھی غلطی ایٹمی چنگاری کا باعث بن سکتی ہے اور پورا خطہ جہنم کا حقیقی نمونہ پیش کر سکتا ہے پھر ایسا کوئی بھی واقعہ پھر بیرونی اسٹیک ہولڈرز جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور امریکہ ہیں کے اس خطے کے اندر مفادات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے ایٹمی جنگ نہ بھی ہوتب بھی پاک بھارت کشیدگی بدلتے ہوئے عالمی حالات میں بعض طاقتوں کے مفاد میں نہیں۔ یہ بھی خیال رکھا جائے کہ بھارت میں انتہا پسند بھارتیہ جنتا پارٹی مسلسل دوسری بار برسر اقتدار میں ہے اور اس کی پاکستان اور مسلمانوں کے علاوہ دیگر اقلیتوں کے ساتھ دشمنی بھی مسلمہ ہے ۔ اب اس طرح کے روڈ میپ سے اگر کسی حد تک ہی سہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے توسیع پسندانہ عزائم کو اگر لگام مل سکے اور اس خطے میں بسنے والے لوگوں کو کچھ ریلیف مل سکے تو ہمارے خیال میں یہ بھی ہوا کا تازہ خوشگوار جھونکا ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اب اس باہمی دلچسپی کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان معمول کے تعلقات کی بحالی اور کشمیر کے دیرینہ تنازع سمیت دیگر باہمی متنازع ایشوز کے حل کیلئے دو طرفہ مذاکرات شروع کرنے کے جو امکانات روشن ہوئے ہیں امن کی خواہش رکھنے والا ہر ذی شعور انسان ان کی حمایت ہی کرے گا۔ اسی لئے وہ تمام مبصرین جو خطے کی صورتحال پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اپنے پہلے ردعمل میں وہ پاک بھارت امن روڈ میپ کو نہ صرف جنوبی ایشیا کے ممالک بلکہ عالمی امن کے مفاد میں بھی ایک انتہائی خوش آئند پیش رفت سے تعبیر کر رہے ہیں۔ اگر واقعی مذاکرات کے ایجنڈے میں تنازع جموں و کشمیر، دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی بحالی، پانی کے تنازعات جیسے اہم مسائل شامل کر لیے جائیں تو پھر اس عمل کو واقعی وسیع تر روڈ میپ کا آغاز قرار دیا جاسکتا ہے۔ مختلف جائزہ کاروں کے مطابق کشمیر کی کنٹرول لائن اور ورکنگ بائونڈری پر حالتِ جنگ ختم کرنے کا حالیہ اقدام ان ہی پس پردہ کوششوں کا نتیجہ ہے جس کے تحت دونوں ملکوں کے عسکری حکام کے درمیان 2003کے سیز فائر معاہدے پر مکمل عملدرآمد پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان اور بھارت کا شنگھائی تنظیم کے تحت انسداد دہشت گردی کی مشقوں میں حصہ لینا بھی اسی روڈ میپ کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے اسی طرح امریکہ کی طرف سے افغانستان میں پاکستان اور بھارت کی مخاصمت ختم کرانے کی کوششیں بھی اسی روڈ میپ کے تحت ہیں۔ 23 مارچ یوم پاکستان کے تاریخی موقع پر وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے نام پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے تہنیتی پیغام میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری لانے کی خواہش کا اظہار اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ نریندر مودی نے جو پاکستان دشمنی میں تمام حدود و قیود کو پھلانگ چکے تھے اپنے مذکورہ مکتوب میں انہوں نے اس بدیہی حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان قریبی اور خوشگوار مراسم کے لئے دشمنی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے جو یہ لکھا ہے کہ وہ پاکستانی عوام کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور یہ کہ اس کے لئے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور دہشت گردی سے پاک اعتماد سازی کی فضا قائم کرنا ضروری ہے ہم ان کے ان خیالات کا شکوک و شبہات کے بغیر خیر مقدم کرتے ہیں مگر ان کو اپنے خیالات کو سچ ثابت کرنے کے لئے چند مزیدفوری اقدامات بھی اٹھانے ہوں گے۔ بھارت اور مقبوضہ کشمیر کی جیلوں میں قید تمام سیاسی رہنماؤں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔ شہری علاقوں سے فوجوں کا انخلاء کیا جائے کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دینے کا جو وعدہ بھارت کی بانی قیادت نے کیا تھا اس کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کیا جائے، پاکستان بھی اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شدت سے یہ بات مجوزہ مذاکرات میں شامل کرے کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی مسلمہ قرارددوں پر عمل درآمد کے لئے اقدامات کریں گے اور ان تمام خدشات کو دور کرنے کیلئے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے کہ کشمیر کی ریاست کے حصے بخرے نہیں کیے جائیں گے بلکہ کشمیر کی جغرافیائی وحدت کی بحالی کی دونوں ممالک ضمانت دیں گے ۔ ایک آزادانہ رائے شماری یا ریفرنڈم کے ذریعے ریاست جموں کشمیر کے عوام کو یہ حق دیا جائے گا کہ وہ اپنے مستقل سٹیٹس کا فیصلہ کریں ۔ہمارے ان بعض تحفظات کی وجہ یہ ہے کہ کشمیری کے ایک حصے میں یہ شکوک پائے جاتے ہیں کہ اس روڈ میپ سے کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ کہیں انہیں مستقل طور تقسیم نہ کر دیا جائے ۔ اس پس منظر میں ہم یہاں متحدہ عرب امارات اور امریکہ سمیت تمام سٹیک ہولڈرز پر یہ واضح کر دینا چاہئے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کشمیر کے پرامن حل سے منسلک ہے اور کشمیر کے مسئلے کا وہی حل پائیدار اور مستحکم ہو سکتا ہے جس میں تمام ریاست جموں کشمیر کے عوام کی آزادانہ مرضی اور منشاء شامل ہو اور آزادانہ مرضی اور منشاء معلوم کرنے کا مروجہ طریقہ کار اقوام متحدہ کا فریم ورک ہی ہو سکتا ہے ۔ ریاست کی تقسیم مسئلہ کا حل نہیں اور اگر وقتی طور پر اپنے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری آبھی جاتی ہے تو یہ عارضی بندوبست ہی ثابت ہو گا اس لیے بنیادی ایشو جو کہ کشمیر کا مسئلہ ہے یہ سنجیدہ طور پر حل کرنے پر فوکس کیا جائے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے