Input your search keywords and press Enter.

بھارت سے تعلقات کی بحالی یا تقسیم کشمیر

آرمی چیف کے بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بیان پر جو ردعمل آ رہا ہے۔ اسکے گرد میں ٹریک ٹو کہہ لیں یا خفیہ ڈپلومیسی کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان جو بات چیت چل رہی ہے جسے ہم آسان لفظوں میں سلسلہ جنبانی کہہ سکتے ہیں۔ اسکی کی بھنک تک عوام کو پڑنے نہیں دی جا رہی ۔ سب خاموش ہیں دیکھتے ہیں اس خاموش سفارتکاری کی تہہ سے اچھلتا ہے کیا۔ ’’گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا‘‘بے شک کسی کام کو کرنے سے پہلے گرائونڈ تیار کیا جاتا ہے۔ اسکے اہداف کا تعین کیا جاتا ہے۔ پھر دوستوں کی مدد سے باہمی اعتماد کی بحالی کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اسکے بعد خاموش سفارتکاری کا کڑا مرحلہ درپیش ہوتا ہے۔ اس میں ذرا سی بے احتیاطی اور اکڑفوں پانسہ پلٹ سکتی ہے۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کافی عرصہ بعد کنٹرول لائن پر جنگی صورتحال ختم ہونے سے جو عارضی خاموشی چھائی ہے اسکے تناظر میں یہی لگتا ہے کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ سرحدی فوجی کمانڈروں نے اوپر سے اجازت ملنے کے بعد سرحدی خلاف ورزیاں روکنے اور جنگ بندی کے معاہدے پر سختی سے عمل کرنے کی ٹھانی ہے۔ ورنہ بھارت کی طرف سے آئے روز جنگی طرز کے حملوں سے کنٹرول لائن پر حالات واقعی نازک ہو چکے تھے۔ خطرہ یہی لگا رہتا تھا کہ کہیں پاکستانی افواج کا صبر بھی جواب دے جائے اور وہ بھارتی حملوں کے جواب میں وہی طریقہ اختیار کریں جو بھارت نے اپنایا ہے۔ مگر شکر ہے پاکستانی فوج نے تمام زیادتیاں صبر و تحمل سے برداشت کیں اور علاقائی امن تباہ ہونے سے بچ گیا۔ اس وقت امریکی فوجوں کی افغانستان میں موجودگی اور وہاں سے انکے پرامن انخلا کی صورتحال کے علاوہ افغانستان میں طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اتار چڑھائو کی وجہ سے نئی امریکی حکومت دبائو میں ہے۔ اس دبائو سے نکلنے کیلئے اسے پاکستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ یہی نہیں وہ اس معاملے میں بھارت کا تعاون بھی چاہتا ہے۔ اس صورتحال میں امریکہ کے پاس اسکے سوا کوئی چارہ نہیں رہتا کہ وہ ان دونوں ممالک کو جو ایک دوسرے کے سخت حریف بھی ہیں حالت جنگ سے نکال کر حالت امن کی طرف لائے۔ انکے درمیان تنائو کو کم کرنے کی سعی کرے۔ ابھی تک کبھی تجارت کبھی معیشت کبھی دوستی کبھی امن کبھی خوشحالی کے نام پر دونوں ملکوں کو قریب لانے کی جتنی بھی کوششیں ہوئیں وہ ناکام ثابت ہوئیں کیونکہ دونوں ملکوں کے حکمران اور عوام جانتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن مسئلہ کشمیر کے پرامن حل سے ہی ممکن ہے ورنہ بے کار وقت ضائع کرنے کی پریکٹس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم وزیر خارجہ کے بعد آرمی چیف کی طرف سے بھارت سے تعلقات میں بہتری کا جو بیان آیا ہے اس پر پاکستان کی بیشتر سیاسی جماعتیں اور مذہبی جماعتیں شور کررہی ہیں کہ موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کو رول بیک کردیا ہے اور وہ کنٹرول لائن کو سرحد تسلیم کرنے پر آمادہ ہے یوں کنٹرول کے اس پار بھارت کا اور اس پار پاکستان کا حصہ قرار دے کر کوئی معاہدہ جسے عالمی حمایت بھی حاصل ہوگی متوقع ہے جو مسئلہ کشمیر پر پاکستانی موقف کیخلاف ہے اور اسے تباہ کردیگا۔ ان باتوں سے ہٹ کر حکومتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں کی بات کی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان ایک بار مودی کو ایک قدم بڑھانے پر دس قدم آگے آنے کی بات کہہ چکے ہیں۔ مگر حکمرانوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ کشمیر کے حوالے سے جو بھی مذاکرات ہوں خفیہ سفارتکاری ہو اس میں اولیت کشمیر کی آزادی اور کشمیریوں کو حق رائے شماری کودینا ہوگی۔ یہ کوئی سرحدی تنازعہ نہیں کہ کچھ لو کچھ دو کے اصولوں پر نمٹایا جائے ۔ یہ ایک کروڑ سے زیادہ انسانوں کے مستقبل کا انکی زندگیوں کا سوال ہے۔بے شک کوئی بھی فریق پاکستان ہو یا ہندوستان جنگ سے یہ مسئلہ حل نہیں کرسکتا نہ ہی جبری طور پر اپنے کسی اقدام سے یہ مسئلہ حل کرسکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اول تو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی وہاں رائے شماری کو ہی اولیت دی جائے۔ اگر یہ ممکن نہیں تو پھر کشمیریوں کو بطور تیسرے فریق کے ساتھ بٹھا کر کوئی حل نکالا جائے۔ اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو پھر سوائے تقسیم کشمیر کے کوئی حل نہیں بچتا اس کیلئے بھی ضروری ہے کہ کم از کم وادی کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقوں جہاں آزادی کی تحریک چل رہی ہے جہاں روزانہ قربانیاں دی جارہی ہیں انہیں یکجا ہی رکھا جائے۔ کشتواڑ سے لیکر رام بن‘ کٹھوعہ سے لیکر نیلم اور زنسکار سے لیکرکارگل تک کے خطے کو کسی صورت پاکستان سے جدا نہ ہونے دیا جائے۔ لداخ‘ جموں کے بودھ اور ہندو اکثریتی علاقے بھارت اور کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کے ساتھ ملا کر ہی یہ سلسلہ مذاکرات کہہ لیں یا افہام تفہیم سے حل کیا جاسکتا ہے۔ جبری تقسیم ہی سہی کم از کم اس طرح کشمیر اور کشمیریوں کا تحفظ تو ممکن ہوگا ورنہ شور تو یہی ہے کہ کنٹرول لائن کو سرحد تسلیم کیا جارہا ہے۔ یہ نہ کشمیری تسلیم کرینگے نہ خود پاکستان کے غیور عوام اور مسلح افواج ایسا کرنیوالوں کا انجام کیا ہوگا یہ سب جانتے ہیں۔ کشمیری کوئی بے زبان بھیڑ بکری یا زمین کا بے جان ٹکڑا نہیں اس لئے کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت لاکھوں کشمیریوں کی جانی و مالی قربانیوں کو فراموش نہ کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے