Input your search keywords and press Enter.

کمزور وضاحت اور مسئلہ کشمیر

یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ، اگر یہ کمزور وضاحت اور مسئلہ کشمیرچ کی مشاورت کے بغیر ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ان لوگوں کے مقاصد کیاتھے ، ؟کیاانہوں نےیہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ، اگر یہ پارٹی قیادت کی مشاورت کے بغیر ہوا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ان لوگوں کے مقاصد کیاتھے ، ؟کیاانہوںنے ، اوفا 2کو تقویت دی یا کسی کے اشارے پر ایسا کیا ؟ اگر آج ان سوالات کو نظرانداز کیاگیا اور انہیں چھوڑ دیا گیا ، تو یہ لوگ کل کیا گل کھلائیں گے اور قیادت قومی اور عالمی سطح پر معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرتی رہے گی ۔ جیسا کہ گزشتہ دو ، دنوںمیں ہورہا ہے ۔
اس حقیقت سے کوئی فرد یا طاقت انکار نہیں کرسکتی کہ اس عمل سے ایسا نقصان ہوچکا ہے جس کا ازالہ ناممکن ہے ۔ تیسرا نقطہ اپنی اہمیت رکھتا ہے ، کہ وزیر خارجہ کہتے ہیں کہ جب تک بھارت 05اگست کے اقدامات واپس نہیں لیتا اس سے تجارت نہیں ہوسکتی ، ، اس بیان سے ظاہرہوتا ہے کہ عہدے پر براجمان ہونا اہم نہیں اس کی حساسیت کے مطابق ذمہ داریاں بھی ادا کرنا ہوتی ہیں ۔ اگر شاہ محمود قریشی کو قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس میںاپنے بیان کئے ہوئے ((05 اقدامات کا بیان ہی یاد کرلیتے ۔
حکومت پاکستان اور ذمہ داران کو یہ بات یقینی بنانا ہوگی کہ قائد اعظم ؒکے فرمان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،یہ شہ رگ بھارت کے قبضے میں ہے ۔ اس کا تعلق ایک کروڑ کشمیری مسلمانوں کی زندگیوں سے ہے ،جو 1948ء سے اب تک کم سے کم آٹھ لاکھ جانوں کی قربانیاںدے چکے ہیں۔
وہ نہ صرف مقبوضہ جموںوکشمیر کی آزادی بلکہ دوقومی نظرئے اور تحریک تکمیل پاکستان کی جدوجہد کررہے ہیں ۔ ان کی لازوال جدوجہد اور بے مثال قربانیوںسے بھارت کی دیگرمحکوم اقوام کو نیا حوصلہ ملا اور بھارت کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کا راستہ ہموا رہوا۔ ریاست پاکستان اور حکمرانوں کو انتہائی زیادہ احتیاط کرنا ہوگی کہ وہ ایسے بیانات نہ دیں ،نہ ایسے اقدامات کریںکہ کل کمزور قسم کی وضاحتیں دے کر مسئلہ کشمیر کو بچوں کا کھیل تماشہ بنا کر دنیا میں تماشہ بن جائیں۔
یاد رہے پاکستان نے جب بھارتی ائیر لائن کیلئے اپنی فضائی حدود بند کیں تو بھارتی ائیر لائن تباہی کے دھانے پر پہنچ گئی ۔ اس وقت بھی بھارت نوازوں نے اندرون خانہ اپنے آقائوں کا حق نمک ادا کرنے کی کوشش کی ۔ پاکستان نے جب قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے سرخ نمک کے معاہدے کو ختم کرنے کا ارادہ کیا تو بھارتی غلاموں اور جندال کے دوستوں نے بھارت کو کئی سالوں کیلئے نمک سٹور کرنے کا موقع دیا ۔ پاکستانی قوم کو یاد دلاتے چلیں کہ بھارت پاکستان سے یہ نمک 50پیسے فی کلو لے کر اپنے نام سے عالمی منڈی میں 500روپے فی کلو تک فروخت کرتا تھا۔ پاکستان میں رہ کر بھارتی جمہوریت کے گیت گانے والے تین دھائیوں تک دنیا کا بہترین پاکستانی باسمتی چاول دوبئی کے راستے بھارت کو سپلائی کرتے رہے جو وہ اپنے ٹریڈ مارک سے عالمی منڈی خاص طور پر یورپی ممالک کو فروخت کرکے اربوں ڈالر کماتا رہا ۔جب پاکستان نے یورپی منڈی میں اپنے ٹریڈ مارک سے رجسٹر کروانے کا سلسلہ شروع کیا تو بھارت نے سخت مزاحمت کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
اس کے علاوہ بھارت بتدریج پاکستانی دریائوں پر بند باندھ کر پاکستان کو بنجر بنانے کی کوشش کررہا ہے جس میں وہ کافی حد تک کامیاب رہا ۔ پاکستان میں انڈس واٹر کمیشن کا سربراہ بھارتی مفاد کیلئے کام کرتا رہا جونہی حقائق بے نقاب ہوا ، وہ راتوں رات کینیڈا فرار ہوکر وہیں مقیم ہوگیا ۔ لیکن پاکستان کو ناقابل تلافی نقصان ہوچکا ۔
مسئلہ کشمیر کے بارے میں آج تک سنجیدہ کوشش نہیں گئیں ۔جو عالمی قوانین کے مطابق جن ،اداروں کا کام تھا وزارت خارجہ ہو یا داخلہ سب ہی مجرمانہ طور پر خاموشی اختیار کئے رہے یا خاموش کروادیا گیا ۔جس کا اظہار بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے اپنی کتاب میں کیا ۔کہ سفارتی قوانین اور اصولوں کے خلاف منع کرنے کے باوجود بھارتیوں سے ذاتی تعلقات بڑھائے جاتے رہے اور ملاقاتیں کی جاتی رہیں ۔ جبکہ حریت راہنمائوں سے ملاقاتوں سے ہمیشہ گریز کیا گیا ۔
آج کے حکمرانوں نے بھی کسی بیرونی اشارے پر یہ کھیل کھیلا ،چند ٹکوں کی رعائت کی خاطر بھارت سے چینی اور کپاس کی سمری تیارہوئی ،شائد یہ بھول گئے کہ قوموں کیلئے اپنے مفادات اور عزت ووقار سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ نہ اس کی کوئی قیمت ہوتی ہے ، لیکن انہوں نے اپنی ترجیح میں ملکی عزت ووقار کی قیمت چند ٹکے لگائی ۔ انہوں نے یہ دیکھنا بھی گوار ہ نہیں کیا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ ،بھارتی جیلوں سے رہاکئے گئے سنگین جرائم کے مجرم ،RSS بجرنگ دل ، بھارتی سیکورٹی فورسز خاص طور پر بھارتی فوجی اپنے مکروہ مقاصد کی تکمیل کیلئے کس طرح اپنی انتہا پسندانہ مسلم دشمن تربیت کے مطابق عفت مآب خواتین کی عزتوں کی پامالی کی ، کشمیریوں کے کاروباری مراکز اور گھروں کو بارود سے اڑایاجارہا ہے ، پانچ اگست 2021ء کے بعد سے اب تک 350سے زائد کشمیری بیٹیوں کو اغوا کرکے غائب کردیاگیا او ر کشمیری نوجوانوں کا بے دریغ قتل عام کیا جارہا ہے ۔
وہ تحریک تکمیل پاکستان کی جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ورنہ وہ بھی دیگر بھارت نواز لوگوں کی طر ح ہندوتوا کے غلام بن کر زندگی گزار سکتے ہیں۔ بھارت نوازی کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی قیمت چند ٹکے سستی چینی اور کپاس کی تجارت لگائی۔ خالصتان کی تحریک جب کامیابی کے قریب تھی ،ان کی لسٹیں بھارت کو فراہم کرنے کی خبریں قومی اخبارات میں شائع ہوئی ، 1990ء میں جب مقبوضہ جموںوکشمیر میں جدوجہد آزادی ان مراحل میں داخل ہوئی کہ بھارت اپنے غیر ملکی آقائوں کے ذریعے مقبوضہ جموں وکشمیر چھوڑنے کیلئے منتیں کرنے لگا۔ سابق بھارتی وزیر اعظم اندر کمار گجرال نے اپنی کتا ب میں لکھا کہ رات کے ڈیڑھ بجے مجھے پاکستانی وزیر اعظم کی فون کال آئی کہ کچھ لوگوں کے نام بھیج رہاہوں۔ ان سے دوماہ کے اندر اندر نمٹ لیا جائے ۔ ریکار ڈ پر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ یوں محسوس ہوتا ہے ، آج پھر غیر ملکی ایجنڈے کی تاریخ دھرانے کی ناکام کوشش کی گئی ، لیکن پاکستانی عوام کے خوف سے منمناتے ہوئے کمزور سی وضاحت کی جو اس قوم کو قبول نہیں ۔جب تک اس کے ذمہ داروںکے نام عوام کے سامنے لاکر بے نقاب نہیں کئے جاتے موجودہ حکومت اور اس کی قیادت کے نام پر تاریخی سیاہ دھبہ بن جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے