گزشتہ ہفتے وزارت خزانہ میں ہونیوالے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلا س میں ہندوستا ن سے چینی اور کپاس در آمد کرنے کی سفارش کی گئی ۔ چینی کی قیمت اس وقت بلند ترین سطح پر ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ شوگر مافیا اور ذخیرہ اندوزوں نے پیداوار کا بڑاحصہ ذخیرہ کر رکھا ہے اور وہ مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر ناجائز منافع خوری کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت بھی چینی کی کمی نہیں کیونکہ امسال چینی کی پیداوارخاصی بڑی مقدار میں ہوئی ہے۔ قیمتوں میں ہوشربا اضافے کی اصل وجہ ذخیرہ اندوزوں کا کردار ہے جنھوں نے طلب اور رسد میں عدم توازن پیدا کرکے مصنوعی قلت پیدا کر رکھی ہے۔ایک عام آدمی کی جیب پر اس بے تحاشا بوجھ کو کم کرنے کیلئے جن مختلف جہتوں پر کام ہورہا ہے ان میں ایک تجویز یہ بھی سامنے آئی کہ چینی اور کاٹن ہندوستان سے در آمد کرکے ذخیرہ اندوزوں کا زور توڑدیا جائے اور قیمتوں کو معمول کی سطح پر لایاجائے۔اس تجویز کا سامنے آنا تھا کہ ہر سطح پر اسکی بھر پور مخالفت کی گئی اور وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اسے مکمل طو پر مسترد کردیا گیا۔ وزیر اعظم پاکستان نے مسئلۂ کشمیر پر اپنے اصولی موقف کا اعادہ کیا اور بالخصوص آزاد جموں و کشمیر کے عوام کو دوٹوک پیغام دیا کہ جب تک ہندوستان اگست 2019ء کے اقدامات پر نظر ثانی نہیں کر لیتا اسکے ساتھ پینگیں نہیں بڑھائی جاسکتیں۔یہ بات درست ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی مشکلات کا سامنا کررہاہے ۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے اور عام آدمی کی قوت خرید پہلے جیسی نہیں رہی ۔ اسکی بہت سی وجوہات میں سرفہرست کورونا وبا کا بڑھتا ہوا زور، گزشتہ سال کے طویل لاک ڈاؤن کے دوران کاروبار زندگی کا معطل رہنا ، زراعت پرٹڈی دل کے حملے اور ان سب سے بڑھ کر ذخیرہ اندوزوں کا کالا دھندہ ہے۔ان وجوہات کا تفصیلی تجزیہ کرنے اور ان کے نتیجے میں ملکی معیشت پر مرتب ہونیوالے اثرات پر بحث کیے بغیر ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ معاشی اور اقتصادی مشکلات وقتی مسائل ہوتے ہیں اورحکومتیں صائب فیصلوں سے معاشی اتارچڑھاؤ پر قابو پالیتی ہیں ۔ طلب اور رسد کا تفاوت کم کیا جاسکتا ہے اور مہنگائی کے شتر بے مہار کو نکیل ڈالی جاسکتی ہے۔لیکن قوموں کوکبھی بھی اپنی نظریاتی اور فکری اساس پر سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے ۔ اس لیے کہ اقوام کی بقاء انکے نظریاتی ستونوں پر استوار ہوتی ہے ۔ اگر یہ ستون ہی گرادئیے جائیں تو قوموں کی عمارت منہدم ہونے میں وقت نہیں لگتا ۔
کشمیر کے مظلوم مسلمان گزشتہ صدی کے آغاز سے ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پر مجبور ہیں۔پہلے ڈوگرہ راج کے آہنی ہاتھوں نے اہلِ کشمیر پر مشقِ ستم روا رکھی پھر ہندوستانی سرکار کے دستِ تطاول نے ظلم کا ہر حربہ آزمایا۔ظلم و بربریت، وحشت وسفاکیت، قتل وغارت گری، دخترانِ کشمیر کی عصمت دری اورمعصوم نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں کے باوجود نہ تو کشمیر کے عوام جھکے ہیں اور نہ ہی ان کا جذبۂ حریت ماند پڑا ہے۔آج بھی ان کا دل ہر وقت پاکستان اور اسلامیان پاکستان کے ساتھ دھڑکتا ہے۔اس مضبوط تعلق کی بنیاد وہ نظریاتی اساس ہے جس پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔ مسلمانانِ برصغیر نے جب دوقومی نظریے کے تحت ایک الگ وطن کے حصول کافیصلہ کیا تو مسلمانانِ کشمیر کی سیاسی قیادت نے بھی پاکستان میں شمولیت کی قرارداد منظور کی۔ پاکستان کے ساتھ الحاق ہر کشمیری مسلمان کی دیرینہ آرزو تھی جس کی بنیاد اسلامی قومیت پر استوار تھی۔اس کے علاوہ بھی اہلِ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ گہرے تاریخی اور جغرافیائی روابط ہیںجن کی بنا پر قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قراردیاتھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلۂ کشمیر قیام پاکستان سے ہی ہمارے خارجہ محاذ کی اولین ترجیح رہا ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس مسئلے پر کئی جنگی معرکے بپا ہوچکے ہیں۔ لہٰذا اس اہم ترین مسئلے کے کسی منطقی حل سے قبل بھارت کے ساتھ معمول کے تعلقات استوار کرنا اہلِ کشمیر کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
دوست تھے، دشمنی کی طرف کیوں دھکیلا جا رہا ہے، انتقامی کارروائی کیوں؟جہانگیرخان ترین
اگست 2019ء میں ہندوستان کے غاصبانہ اقدامات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے کشمیری عوام کی امنگوں کیمطابق ایک اصولی مؤقف دنیا کے سامنے رکھا ۔مسئلۂ کشمیر کے تاریخی تناظر میں اسکے منصفانہ حل پر زور دیا ۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے ہوتے ہوئے کشمیر پر ہندوستان کے یک طرفہ اقدامات کو اقوام متحدہ میں زیرِ بحث لایاگیا۔جناب وزیر اعظم پاکستان نے ہر ممکنہ فورم پر مسئلۂ کشمیر کی سنگین نوعیت کو دہرایا اور اقوام عالم کو یہ باور کرایا کہ دو ایٹمی ممالک کے درمیان موجود یہ تنازع ہندوستان کے جارحانہ رویے کے نتیجے میں کسی بھی وقت بڑی تباہی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔اگرچہ مودی سرکار کا رویہ اور طرز عمل حددرجہ سفاکانہ اور غیرذمہ دارانہ رہاہے لیکن پاکستان نے حتی المقدور ایک ذمہ دارریاست ہونے کا ثبوت دیا ہے۔مسئلۂ کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بحیثیت مجموعی ہندوستان کے رویے کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔کسے معلوم نہیں کہ ہندوستان اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے وطن عزیز میں افتراق و انتشار پیداکرنے کے درپے رہتا ہے۔بلوچستان ہو یا کراچی، آئے روز ’را‘ کی تخریبی سرگرمیوں کے شواہد ملتے رہتے ہیں۔ کلبھوشن جادیو کی صورت میں بھارتی مداخلت کے کھلے ثبوت منظر عام پر آچکے ہیں۔پاکستان میں ہونیوالے فرقہ وارانہ فسادات، لسانی جھگڑوں اور دیگر بہت سی تخریب کاریوں کے ڈانڈے پڑوسی ملک سے ملتے ہیں ۔ اسی طرح بھارت نے عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کیلئے ہر چال چلی اور وطن عزیز کا مثبت تشخص مسخ کرنے کیلئے اپنی پروپیگنڈہ مشینری کا بھر پور استعمال کیا۔
ایسے حالات میں وقتی منفعتوں کے حصول کیلئے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کسی طور بھی پاکستان کے مفاد میں نہیں ہیں ۔یہی پاکستان اور کشمیری عوام کی رائے ہے جس کا کھلم کھلا اظہار وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہوا ۔ بعد ازاں وزیر اعظم صاحب نے بھی ’’آپ کا وزیر اعظم آپکے ساتھ‘‘ کے عنوان سے ٹیلیفون پر عوام کے ساتھ براہِ راست بات چیت کے دوران اس امرکا از سر نو عادہ کیا کہ مسئلۂ کشمیر کے اصولی اور منطقی حل تک ہندوستان کے ساتھ تجارتی روابط استوار نہیں ہوسکتے۔ بلاشبہ جناب وزیر اعظم کی یہ پالیسی عوامی امنگوں اور پاکستان کی نظریاتی اساس کے عین مطابق ہے ۔
