Input your search keywords and press Enter.

میری آنکھوں میں سجے خواب

یورپ سے خیال تازہ … شہزادعلی
میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے مگر پاکستان اور بھارت کے عوام ابھی تک ایک دوسرے سے کوسوں دور کھڑے ہیں اور کشمیری عوام کئی دہائیوں کے گزرنے کے باوجود ابھی تک نہ صرف اپنے پیدائشی حق خودارادیت سے محروم چلے آرہے ہیں بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حقوق مزید سلب کر دیئے گئے ۔ چونکہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کی بنیادی وجہ ہے اور یہ مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے امن کی طرف پیش قدمی کے لئے مذاکرات کی داغ بیل ڈالنے کی کوششیں بھی بعض اوقات ابتدائی دور میں ہی ناکام ہو جاتی ہیں۔میں جب برطانیہ میں دیکھتا ہوں کہ کیسے ہر طرح کے مذہب، رنگ، ثقافت اور نسل کے لوگ بشمول پاکستانی، کشمیری اور بھارتی یہاں اکٹھے مل جل کر رہ رہے ہیں اور ان لوگوں کو قطع نظر ان کے پس منظر کے ہر طرح کے حقوق دیئےگئے ہیں جس سے یہ اس قابل ہو گئے ہیں کہ برطانوی معاشرے میں اپنے اپنے حصے کا کردار بخوبی ادا کر رہے ہیں اور اپنے بیک ہومز کے اختلافات کے باوجود برطانیہ کے اندر مختلف قومی سیاسی جماعتوں کے اندر بھی اور مختلف اداروں میں بھی باہم مربوط ہوکر کام کر رہے ہیں تو میری آنکھوں میں یہ خواب سجنے لگتے ہیں کہ کاش ایسا ہی ماحول ہمارے لوگ بیک ہومز میں بھی تخلیق کر لیں۔ بھارت کے اندر کروڑ بے شماراقلیتی برادریاں آباد ہیں، پاکستان میں بھی اقلیتی طبقے کے لاکھوں لوگ رہ رہے ہیں، کاش دونوں ممالک پہلے مرحلے پر برطانیہ کی طرح اپنی اپنی اقلیتوں کو عملی طور پربرابری کے حقوق دیں، مذہبی تعصب اور استحصال کو جڑوں سے اکھیڑ دیں، دونوں ممالک کشمیر اور پانی کے تنازعات سمیت تمام مسائل پر سنجیدہ مذاکرات کی داغ بیل ڈالیں۔ دل سے یہ صدا نکلتی ہے کہ کاش پاکستان اور بھارت کے تمام متنازع امور ٹیبل ٹاک کے ذریعے طے ہوجائیں اور وہاں کے عوام بھی امن اور سکون کی زندگی بسر کر سکیں۔ دونوں ممالک جو وسائل ایک دوسرے کے خلاف جنگ کی تیاریوںپر صرف کرتے ہیں وہی وسائل اپنے اپنے عوام کے حالات زندگی بہتر بنانے اور کشمیر کی ڈویلپمنٹ کے لئےمختص کر دیں ۔ پاکستان اور بھارت میں ایسے لوگوں کی یقینی طور پر کمی نہیں جو ماضی کی دشمنیوں کو دفن کر دینے کے متمنی ہیں لیکن سب سے پہلے تو اس کیلئے عوام اور حکومتوں کی سطح پر خلوص چاہئے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ اگر خلوص نیت سے کسی کام کا ارادہ کیا جائے تو اس کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچایا جا سکےلیکن کہیں نہ کہیں سے تو اس بات کا آغاز کرنا ہوگا۔ آفاقی سچائی ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی جنگ کا بھی فیصلہ آخر کار مذاکرات کی میز پر ہی ہوتا ہے تو اگر ایسا ہے تو مجھے یہ خیال آتا ہے کہ پھر مختلف اقوام اور ممالک مذاکرات کی میز پر پہنچنے کے لئے اتنا جنگ و جدل کیوں کرتے ہیں؟ جب آپ نے بالآخر بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرنا ہے تو کیا یہ ضروری ہے کہ اس سے پہلےمعصوم جانوں کا ناحق قتل عام کروایا جائے؟ اپنے وسائل کا ضیاع کیا جائے ۔ آخر جیو اور جینے دو کا اصول کیوں نہیں اپنایا جاسکتا؟ اگر برطانیہ، امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کےاندر ہم پاکستان اور بھارت کے باشندے امن سے رہ سکتے ہیںتو اپنے آبائی ملکوں کے اندر بھی یہی سوچ کیوں لے کر نہیں جاسکتے؟ برطانیہ کے دونوںایوانوں میں پاکستان، بھارت اور کشمیر سے سے تعلق رکھنے والے پارلیمنٹیرینز کی ایک معقول موجود ہے، یہی لوگ اگر اپنی اپنی حکومتوں کو کہیں کہ آپ ماضی سے نکل کر حال میں زندہ رہنے کی کوشش کریںاور بہتر مستقبل پر فوکس کریں تو شاید پیش رفت ہو پائے ۔اس بات کو اجاگر کیا جائے کہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قرارداوں کے مطابق حق دے دیں اور جو فیصلہ بھی خود کشمیری عوام کریں دونوں ملک تسلیم کرلیں، باقی مسائل زیادہ تر اسی ایک مسئلہ سے جڑے ہوئے ہیں اور جو دیگر اہم مسائل ہیں وہ بھی باہمی تعاون سے حل کرنے کی کوشش کی جائے اور اس سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام ترقی یافتہ ہوسکیں گے بلکہ کشمیری بھی آزادی اور چین سے رہ سکیں گے۔ فروری میں سیز فائر معاہدے کی بحالی اور دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان حالیہ خطوط نے بھی پاک بھارت تعلقات کار میں کسی حد تک بہتری کی امید پیدا کی ہے تاہم ساتھ ہی کشمیری عوام اور ان سے ہمدردی رکھنے والے افراد میں بعض تحفظات بھی پیدا کردیئے ہیں ۔ دونوں ممالک کے درمیان جنگی صورت حال اور کشیدگی کے باعث سب سے زیادہ متاثر کشمیری عوام ہو رہے ہیں، جن کی سنجیدہ فکر قیادت میں یہ تحفظات بھی پائے جاتے ہیں کہ یہ نہ ہو کہ بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر بنانے کے عمل میں کشمیر کی بندر بانٹ کردیں ۔کئی سیانے اس کے ڈانڈے پرویز مشرف کے دور میں شروع کئے گئے کشمیر فارمولوں سے ملاتے ہیں اور ثبوت کے طور پر بھارت کے 5 اگست کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدامات اور پاکستانی حکومتوں کی گلگت بلتستان کے بارے میں بتدریج اقدامات کو پیش کرتے ہیں ،ان کے نزدیک اگلہ مرحلہ آزاد کشمیر کا ہے اور پھر عالمی طاقتوں کی آشیرباد سے اس تقسم کو مستقل شکل دینا ہے ۔ اس لئے جہاں یہ حقیقت ہے کہ امن اور اچھے دوستانہ تعلقات کی ضرورت دونوں ملکوں کے درمیان آج پہلے سے کئی زیادہ ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ امن کے کسی بھی میکانزم کے آغاز میں دونوں ملکوں کی حکومتوں کو ایسے اقدامات اٹھانے کی ازحد ضرورت ہے جس سے کشمیریوں کو قلبی سکون اور اطمینان مل سکے اور ان کے شکوک و شبہات اور بدگمانیوں کو دور کرنے میں مدد مل سکے، اس کیلئے چند فوری اقدامات بھارت کی جانب سے یہ ہوسکتے ہیں کہ اس نے کشمیر کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لئے جو اقدامات کئے تھے وہ واپس لے، تمام کشمیری سیاسی قائدین کو بلا تاخیر اور غیر مشروط طور پر رہا کرے، اپنی فورسز کی تعداد کو نہایت کم سطح پر لے جائےکیوں کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر عملی طور پر ایک بڑی فوجی چھاونی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ ( جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے