( تجزیہ:سلمان غنی) جاری ہفتہ میں مقبوضہ کشمیر کے مقامات شوپیاں،بارہ مولا اور دیگر حصوں میں گھر گھر تلاشی کے عمل کے دوران ایک درجن سے زائد کشمیری نوجوانوں کی شہادت کا عمل ظاہر کر رہا ہے کہ نریندرا مودی اور ان کی افواج ٹارگٹ کلنگز کے اس عمل کے ذریعے کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں ، انہوں نے پوری ریاست کو ایک قید خانہ میں تبدیل کر رکھا ہے ۔ تشویشناک خبریں موصول ہو رہی ہیں، اشیائے ضروریہ اور خصوصاً خوردونوش کی قلت کے باعث فاقہ کشی کی نوبت آ چکی ہے لیکن بھارتی حکومت ظلم و درندگی اور وحشت ناک طرزعمل پر نظرثانی کیلئے تیار نہیں۔ ہمیں اس امر کا جائزہ لینا ہوگا ، آخر ریاستی دہشت گردی کے اس بدترین عمل پر دنیا خاموشی کیوں ہے ۔ کیا حق خود ارادیت مانگنے کا جرم گولی مارنا ہے ، اس مسئلہ کا بنیادی فریق اور وکیل پاکستان اپنا بنیادی کردار کیونکر ادا نہیں کر پا رہا۔ریاست جموں و کشمیر کے حصے بخرے کرنے اور اسے دہلی کے زیرانتظام لانے کے اقدام سے بھارتی دہشت گرداور توسیع پسند حاکموں نے اسے نوآبادیاتی کالونی بنانے کیلئے نام نہاد جمہوریت کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ جنگی صورتحال پیدا کر کے یہاں کے مظلوم، معصوم اور نہتے عوام کو مسلح افواج کے حوالے کر رکھا ہے اور انہیں اس حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ، یہ رجحان مہذب دنیا کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں۔ وادی میں روا رکھے گئے مظالم کے باوجود کشمیریوں کا جذبہ مزاحمت پوری طرح بیدار ہے ، کوئی دن ایسا نہیں جا تا کہ مقبوضہ وادی میں آزادی کشمیر اور پاکستان سے رشتہ کیا لا اِلہ اِلا اﷲ کا نعرہ نہ گونجتا ہو۔ کشمیری کسی صورت اور کسی بھی قیمت پر بھارتی سرکار اور افواج کے سامنے سرنڈر کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اس صورتحال میں کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا بھیانک عمل بڑھتا جا رہا ہے لیکن عالمی ضمیر حرکت میں آتا نظر نہیں آتا۔ اس پہلو کو ساری دنیا میں اور خصوصاً بین الاقوامی اداروں بشمول اقوام متحدہ،انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس میں اٹھایا جانا ضروری ہے لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ اصل ایشو بھارت کا یہاں غاصبانہ قبضہ ہے جس کے ردعمل کو طاقت سے کچلنے کا کوئی مذہب اور قانون اجازت نہیں دیتا ۔ غاصبوں سے آزادی حاصل کرنا بنیادی انسانی حق ہے جسے اقوام متحدہ کا چارٹر قبول کرتا ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کا مکروہ چہرہ اور اسکے سفاک کردار کو دنیا کے سامنے مو ثر انداز میں بے نقاب کیا جانا چاہیے تھا۔ وزیراعظم عمران خان خود کو کشمیر کا سفیر بھی قرار دیتے رہے ہیں ، انہیں اپنی حکومت کی پالیسی اور خاموشی کا جائزہ لینا چاہئے ۔ انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں جاری ہیں اور ہم اپنی بنیادی ذمہ داریاں ادا کرنے سے غافل ہیں۔ کشمیری آج ظلم و بربریت برداشت کرکے بھی پاکستان کی جانب دیکھتے ہیں تو اگر ہم نے صرف نظر کی پالیسی جاری رکھی تو کشمیری مایوس ہوں گے اور یہ صورتحال ہمارے قومی مفادات کی پامالی کے مترادف ہوگی ،ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کشمیر میں جاری ظلم پر آواز اٹھائے اور دنیا کو باور کرائے کہ بھارت کا ہاتھ روکو ورنہ یہ مسئلہ جنوبی ایشیا کے امن کیلئے خطرناک ہو سکتا ہے ۔
کشمیر میں بھارتی فوج کی ٹارگٹ کلنگز پر دنیا خاموش کیوں؟
