جاوید احمد ۔۔سرینگر
رمضان المبارک اللہ تعالی کی رحمتوں کا موسم بہار ہے، لیکن رمضان کا بابرکت مہینہ شروع ہوتے ہی مہنگاہی اور خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ افسوسناک ہوجاتاہے،مبارک گھڑیوں میں منافع خور و اور ذخیرہ اندوز اس موقعے کا خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں بابرکت مہینے کی آمد آمد ہے جس کا انتظار ہر مسلمان کو ہوتا ہے کیونکہ اس مہینے میں اللہ تعالی اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں اور شیاطین کو قید کیا جاتاہے ، حکومت عوام کو بابرکت گھڑیوں میں بھی ریلیف دینے میں ناکام نظر نہیں آ رہی ہے۔ مہنگائی میں دن بدن اضافہ اور دوسری جانب منافع خور اور ذخیرہ اندوز سرگرم ہو چکے ہیں،حکومت عوام کو ریلیف دینے کے سنجیدہ اقدامات کرنے کے بجائے زبانی جمع خرچ سے کام لے رہی ہے، روز مرہ کی استعمال کی عام اشیاء ہو، پھل فروٹ ہوجیسی شے ان سب کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہوتی ہیں۔ حکومتی ادارے، و محکمے جن کو ان پر نظر رکھنی ہوتی ہے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنا اور عوام کو لوٹنے و نوچنے سے بچانا ان کے فرائض میں شامل ہے وہ کسی طور پر اپنی ذمہ داریوں یا فرائض کی درست ادائیگی سے یکسر محروم دکھائی دیتے
ہیں۔ محکمہ ا مو ر صارفین خواب خرگوش میں مست ہے انکی ذمہ داری بنتی تھی معصوم عوام کو اس مہنگائی کے جن اور منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزی کے ظلم سے بچائیں ان کی حفاظت کریں اصل قیمتوں سے ڈیڑھ گنا اور دوگنا قیمتوں کے مرتکب تاجروں یا جو بھی ہو ان کو لگام دیں اور قانون کے مطابق سخت سزاﺅں پر عملدرآمد کریں۔ تاکہ مہنگائی کا بے قابو جن اور ان کے ا آ قاﺅں، ناجائز منافع خوروں، ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی ہو اور ان تمام کو کنٹرول میں رکھا جاسکے۔ زبانی باتوں ، اعلانات، قیمتوں کی فہرستوں کی نمائش اور بازاروں کے نمائش و اخباری تصویروں کے دوروں سے نہ مہنگائی کم ہوئی ہے اور نہ ہوگی۔ عوام کے ٹیکسوں سے بڑی بڑی تنخواہوں اور عیش و عشرت سے زندگی گزرانے والے غائب ہیں کشمیر میں رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہو جاتا ہے رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے گراں فروشوں نے عوام کی جیبیں کاٹنا شروع کردی ہیں اور ماہ مقدس سے قبل ہی اشیائے خوردونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عام آدمی کو مزید پریشانی میں مبتلا کردیا ہے حالات کی ستائی ہوئی وادی میں عام آدمی کی اقتصادی حالت کمزور ہے اس کے باوجود ایک غریب آدمی کو اشیائے ضروریہ دوگنی قیمتوں میں بیچی جاتی ہے مہنگائی کے ستائے شہریوں کو سحر و افطار کی فکر ستانے لگتی ہے کیونکہ مہنگائی کا جن بے قابو اور ناجائز منافع خور ایک بار پھر سرگرم ہو چکے ہیں دوکاندار شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں کہیں کارروائی کرتی دکھائی نہیں دیتی ضلعی انتظامیہ بھی گراں فروشوں کو نکیل ڈالنے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث سبزی و فروٹ سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں خوفناک اضافے نے گڈ گورننس پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوجاتا ہے کھجور کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہے امور ور صار فین و عوا می تقسیم کاری کا محکمہ نا جائز منا فہ خوروں کے سا منے بے بس دکھائی دے رہا ہے قیمتوں میں اضا فے نے لو گوں کی کمر توڑ کر رکھ دی سبز یوں ،میو ہ جا ت کی قیمتوں میں بے تحا شہ اضا فہ کر دیا گیا ہے جبکہ غیر معیاری اشیاءبا زاروں میں کھلے عام فروخت کر کے لو گوں کی زند گیوں کا کھیلا جاتا ہے
,
رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہوتے ہی کشمیر میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر
