انسانی حقوق کے بارے میں اقوام متحدہ کے ماہرین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اورنئے قوانین کے نفاذ کے بھارتی فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے جس سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی سیاسی شمولیت میں کمی آ سکتی ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تشویش کا اظہاراقوام متحدہ کے پانچ خصوصی نمائندوں کی طرف سے 10 فروری کو بھارتی حکومت کے نام ایک خط میں کیاگیا جسے ہفتے کے روز شائع کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کشمیری، ڈوگری، گوجری، پہاڑی،سکھ، لداخی اور دیگر اقلیتوں جیسے مقامی گروپوں کوعلاقائی حکومت اور اس کے قانون سازی کے اختیارکے خاتمے کی وجہ سے سیاسی نمائندگی اور شرکت کی کمی کا سامنا ہے ۔ شہریت کا نیا قانون علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل ہونے کا سبب بن سکتا ہے اور جموں وکشمیر کے عوام کے لسانی اور ثقافتی حقوق اور مذہب یا عقائد کی آزادی کے حقوق کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے ۔ماہرین نے کہانئے ڈومیسائل قوانین سے سرکاری ملازمتوں تک مقامی باشندوں کی رسائی کو کم کردیاگیا ۔علاقے میں فوج کی موجودگی میں اضافے کا بھی خدشہ ہے جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے ۔بھارتی حکومت کی توجہ ماضی کے خطوط کی طرف بھی مبذول کرائی گئی جن میں انٹرنیٹ کی بندش ، اجتماع اور اظہار رائے کی آزادی کے حقوں پرپا بندیوں اور صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں اور ہراساں کئے جانے پر تشویش کا اظہار کیاگیا تھا۔
اقوام متحدہ کا مقبوضہ کشمیر کا سٹیٹس بدلنے پر اظہارتشویش
