لوٹن (شہزاد علی) جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے زیر اہتمام ایک ورچوئل انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، اس موقع پر شرکاء نے کہا کہ ریاست جموں کشمیر ایک نا قابل تقسیم وحدت ہے۔ ریاست کی تقسیم کی سازش کے خلاف اندرون ریاست اور دنیا بھر میں بھرپور احتجاج کیا جائے گا اور اس کی وحدت کی بقا کے لئے کسی بھی طرح کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ دو کروڑ سے زیادہ نفوس پر مشتمل ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق صرف پشتنی باشندگان ریاست کے پاس ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دیگر مسائل میں مسئلہ کشمیر کی جداگانہ اور عالمی حیثیت ہے۔اس لیے اسے دیگر مسائل میں سرفہرست رکھا جائے، سیز فائر کو ویلکم کرتے ہیں اور امن کے متمنی ہیں لیکن کوئی بھی حل جس میں ریاست کے عوام کی جمہوری رائے شامل نہیں ہو گی نا قابل قبول ہو گا، کانفرس میں مختلف کشمیری سیاسی و سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ کانفرس کی صدارت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ برطانیہ کے کنوینر یوسف چوہدری نے کی جبکہ نظامت کے فرائض سیکرٹری کنویننگ کمیٹی برطانیہ تنویر ملک اور سابق جنرل سیکرٹری برطانیہ زون لیاقت لون نے مشترکہ طور پر ادا کیے۔ انٹرنیشنل کشمیر کانفرس کووڈ19 کی وجہ سے آن لائن (زوم) منعقد کی گئی جس میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ سفارتی بیورو کے ہیڈ ظفر خان، سابق صدر برطانیہ زون صابر گل، انسانی حقوق کے ممتاز علمبردار ڈاکٹر سید نذیر گیلانی ( لندن ) ڈاکٹر اخلاق برلاس(امریکہ) ، حنیف الرحمن مقدم (گلگت) ، مشتاق ملک، طارق شریف، شوکت مقبول بٹ ( یو کے) ناصر رضا میر ( فن لینڈ) روف لون ( جموں) کلیئر بڈویل(Let KashmiriDecide)، ڈاکٹر شاہین شورا(ایسوسی ایشن آف برٹش کشمیری UK )، اورنگزیب چوہدری ( یو کے) ، سردار نسیم اقبال، ڈاکٹر شفاق(ایسوسی ایشن آف برٹش کشمیری UK)،، مقبوضہ کشمیر کے رہنماارشاد ملک ( لندن) چوہدری نجیب افسر ( برمنگھم )سردار انور خان (امریکہ)، شمائیلہ راجہ( ہالینڈ)، ظفر قریشی ( لوٹن یو کے)، مشتاق پاشا (کنوینر JKLF یورپ، فرانس) اور عبدالمجید بٹ(قطر) نے خطاب کیا جبکہ صنور حسین، مشتاق ملک، سردار ساجد خان، اعجاز ملک، یاسر نوید، ذوالقرنین، حفیظ خان، گلفراز خان، راسب کشمیری، لطیف ملک، ڈاکٹر اشتیاق، خرم اتفاق، سردار جمیل، عبدالرحیم ملک(چیئرمین JKSLF) ، سردار قمر اسلم( کنوینر JKLF متحدہ عرب امارات) اور محمود حسین نے آن لائن کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ منقسم ریاست جموں کشمیر ایک نا قابل تقسیم وحدت ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ریاستی عوام کے پاس ہے۔ کوئی ایک علاقائی اسمبلی یا انڈیا و پاکستان کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر دو طرفہ مذاکرات کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی یہ فیصلہ کشمیری عوام کبھی تسلیم کریں گے۔ سیز فائر لائن پر پاکستان اور ہندوستان کے درمیاں فائر بندی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ سیز فائر لائن کو اسلحہ فری زون قرار دیتے ہوئے ہر طرح کے اسلحہ کے استعمال پر پابندی لگائی جائے ۔ ریاست کے تمام حصوں کے باسیوں کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ پر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے تاکہ عوامی سطح پر میل ملاپ سے سماجی تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔ شرکاء نے ہندوستان کی طرف سے 5 اگست 2019 کے اقدامات اور ان سے رونما ہونے والے واقعات کی مذمت کی۔ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر گلگت اور بلتستان کو پاکستان کا صوبہ بنانے کی کوشش کی گئی تو اس کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔ ریاست کے پر امن اور مستقل حل کے لئے ریاستی عوام سے کئے گئے وعدے اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق کشمیری عوام کو حق خواردیت دیا جائے تاکہ وہ ایک جمہوری عمل کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکیں، شرکا کانفرس نے بھارت کی طرف سے ریاست جموں کشمیر میں غیر ریاستی افراد کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ کے اجرا پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی ایک سازش قرار دیا اور اقوام عالم سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو اسرائیلی طرز کے منصوبہ پر عمل کرنے سے روکے ۔ اس سے نہ صرف ریاستی وسائل پر قبضہ جمایا جا رہا ہے بلکہ وہاں کے پشتنی باشندوں کو بھی در بدر کیا جا رہا ہے۔ منقسم ریاست کے تمام حصوں کے باسیوں کو باشندہ ریاست سرٹیفکیٹ پر نقل و حرکت اور آپس میں ملنے کا موقع دیا جائے ۔ بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قید جملہ آزادی پسند سیاسی اسیران کو غیر مشروط رہا کیا جائے ۔ منقسم ریاست کے تمام حصوں کے مابین ایک نیا عمرانی معاہدہ کیا جائے اور ریاست کے پر امن اور دیرپا حل کے لئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ریفرنڈم کا انعقاد کیا جائے تاکہ ریاستی عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ پر امن جمہوری عمل کے ذریعے کر سکیں، کانفرس میں شرکا نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اگر ریاست جموں کشمیر کی بندر بانٹ کرنے کی کوشش کی تو دنیا بھر میں پھیلے باشندگان ریاست جموں کشمیراحتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ کانفرس میں موجود تمام شرکا نے باہمی مفاہمت اور اتحاد پر زور دیتے ہوئے مشترکہ ایجنڈا بالخصوص تقسیم کشمیر کے خلاف اور غیر مشروط حق خودارادیت کو اپنانے پر زور دیا۔
تقسیم کشمیر کی کسی بھی سازش کیخلاف دنیا بھر میں احتجاج کیا جائے گا، کشمیر رہنما JKLF برطانیہ کے زیراہتمام ورچوئل کانفرنس
