Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ جموںوکشمیر:بھارتی فورسز کشمیری نوجوانوں کو شدید تشددکا نشانہ بنارہی ہیں‘شبیر احمد ڈار

 جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز رمضان کے مقدس مہینے کے باوجود محاصروں اورتلاشی کارروائیوں کے دوران کشمیریوں خاص کر خواتین اور بچوں کو ہراساں کر رہی ہیں۔آزاد میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کے مطابق بھارتی فوجیوں نے ذی پورہ ، بادی گام ، علشی پورہ ،سوپور اور شوپیان ، پلوامہ اوراسلام آباد کے دیگر علاقوںمیں خواتین کے ساتھ بدتمیزی کی،نوجوانوںکو تشددکا نشانہ بنایا اور بچوں کو ہراساں کیا۔ چندروز پہلے پلوامہ میں ایک فوجی آپریشن کے دوران خدیجہ نامی ایک بزرگ خاتون خوفزدہ ہوکر جاں بحق ہوگئی تھی جبکہ ایک دوسری خاتون کو چھاپوں اورتلاشی کارروائیوںکے خلاف آواز اٹھانے پر کالے قانون کے تحت گرفتارکیاگیا ۔

حریت رہنما شبیر احمد ڈار، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی اور تحریک وحدت اسلامی نے اپنے الگ الگ بیانات میں بھارتی فورسز کی طرف سے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی خلاف ورزیوں پرشدید تشویش کا اظہار کیا۔شبیر احمد ڈار نے کہا کہ بھارتی فوجی کشمیریوں کو نشانہ بناتے ہوئے تہذیب اور اخلاق کی ہر حد کو عبور کررہے ہیں۔ تحریک وحدت اسلامی نے کہا کہ نریندر مودی کی فسطائی حکومت کشمیریوں کو اپنی جائز جدوجہد سے دستبردارکرانے کے لئے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی خلاف ورزی کررہی ہے۔دریں اثناءمقبوضہ جموںوکشمیر میں ہندوتوا کو فروغ دینے کی مودی حکومت کی کوششوں کے خلاف سرینگر اور دیگر علاقوں میں پوسٹرزچسپاں کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جموں و کشمیر ڈیموکریٹک جسٹس پارٹی کی طرف سے چسپاں کئے گئے پوسٹروں میں کہاگیا ہے کہ حق خودارادیت تنازعہ کشمیر کے حل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

نیشنل کانفرنس کے جنرل سیکرٹری علی محمد ساگر نے سرینگر میں ایک بیان میں 5 اگست2019 کے مودی حکومت کے فیصلے کی واپسی تک مقبوضہ جموںوکشمیر کے حالات میں بہتری کو خارج از امکان قراردیا ہے۔ سینئر کانگریس رہنماوں مولا رام اور رمن بھلا نے جموں میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے پاس مقبوضہ علاقے میں جاری بحران سے نمٹنے کے لئے حکمت عملی کا فقدان ہے۔جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ نے ایک بیان میں ممتاز آزادی پسند رہنما ایس حمید وانی کو ان کے23 ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا۔ بھارتی فورسز نے ایس حمید کو 18 اپریل 1998 کو سرینگر میںگرفتارکرکے دوران حراست شہید کیاتھا۔جموں و کشمیرپر بھارت کے غیر قانونی قبضے اور علاقے میں بھارتی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے خلاف مظفرآباد میں ایک احتجاج ریلی نکالی گئی ۔

ریلی کا اہتمام پاسبان حریت جموں و کشمیر نے کیاتھا۔ادھر بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی کے باوجود ہندو تہوار کمب میلے کے انعقاد سے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کا دوہرا معیارایک بار پھر بے نقاب ہوگیا ہے۔ سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے اپنی ویڈیوز اور پوسٹس میں کہاہے کہ گزشتہ سال اسی مودی حکومت نے دہلی میں تبلیغی جماعت کے اجتماع کو”کورونا بم“ قراردیاتھا جبکہ کمب میلے کی صورت میں ”کورونا کے جوہری بم “ سے اس نے اپنی آنکھیں بند کررکھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے