حجت الاسلام احمد مروی نے کہا کہ ہم پاکستان کے وقار اور آزادی کو اپنا وقار اور آزادی سمجھتے ہیں اور ہم ہمیشہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق پاکستانی موقف کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان 920 کلومیٹر پر پھیلی ہوئی سرحدوں اور بے پناہ مشترکات پر تبصرہ کرتے ہوئے دونوں قوموں کے درمیان تعلقات کے فروغ پر زور دیا۔
مروی نے مغرب اور سامراجیوں کیجانب سے اسلاموفوبیا کے فروغ کی سازشوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے شرانگیز اقدامات سے نمٹنے کیلئے ایران اور پاکستان درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ صیہونیوں نے اسلامی سرزمینوں پر ناجائز قبضہ کرلیا ہے اوراگر ہٹلر نے یہودیوں کو مار ڈالا ہے اور اگر ہولوکاسٹ سچ ہے تو کیوں مسلمان اس جرم کی قیمت ادا کریں؟
مروی نے کہا کہ صیہونی ریاست نے اسلام کیخلاف پروپیگنڈا پھیلانے اور دنیا میں اسلامو فوبیا کے فروغ کے علاوہ، اپنے شوم منصوبے کو آگے بڑھانے کیلئے عملی میدان میں بھی داعش کو تشکیل دیا ہے۔
دراین اثنا پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورے ایران میں صدر روحانی، اسپیکر اور وزیر خارجہ سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں انتہائی تعمیری قرار دے دیا۔
قریشی نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق قائد اسلامی انقلاب اور دیگر ایرانی عہدیداروں کے تعمیری موقف کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے پاکستانی زائرین کی اچھی میزبانی کا شکریہ بھی ادا کیا۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ان کا یقین ہے کہ اسلامی ممالک، یکجہتی اور اتحاد سے ایک بہتر دنیا بن سکتے ہیں۔
