پاکستان نے ایک با ر پھر واضح کیا ہے کہ اگر بھارت 5 اگست 2019 کے اپنے یکطرفہ فیصلے واپس لے تو کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب معاملات پر مذاکرات کیلئے تیار ہیں، دونوں ممالک جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ،ہمیں بیٹھنے کی ضرورت ہے ،،خدا نخواستہ اگر افغانستان میں کوئی معاہدہ یا کوئی سیاسی تصفیہ نہیں ہوتا ہے تو90 کی دہائی میں واپس جانے کا خدشہ ہے ، افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی کا خطرہ ہمارے سروں کے اوپر منڈلا رہا ہے . اتوار کو دو روزہ دورے کے موقع پر ترک میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر بھارت 5 اگست ، 2019 کے اپنے فیصلوں پر نظر ثانی کرے تو بھارت کے ساتھ کشمیر ، سیاچن ، سر کریک ، پانی اور دیگر معاملات پر بات چیت کیلئے تیار ہیں .
انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین بات چیت ہی مسائل کے حل کا واحد راستہ ہے.انہوں نے کہا کہ ہم جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ، یہ خود کشی ہوگی. کوئی بھی ذی شعور فرد اس پالیسی کی حمایت نہیں کرے گا لہذا ، ہمیں بیٹھنے بات کرنے کی ضرورت ہے.انہوں نے کہا کہ یہ بھارت ہی تھا جو مذاکرات سے بھاگ گیا اور جامع بات چیت کے عمل کو معطل کردیا.انہوں نے کہا کہ 5 اگست ، 2019 کو ہندوستان کی یکطرفہ اور قانونی کارروائی بین الاقوامی قوانین ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی تھی جس نے جنوبی ایشیاء کے خطرے ، استحکام اور امن کو خطرہ میں ڈال دیا ہے. تاہم ، انہوں نے کہا کہ حال ہی میں دونوں ملکوں کے فوجی آپریشنز کے ڈائریکٹر جنرل کے درمیان بات چیت کے دوران جنگ بندی سے متعلق مثبت پیشرفت ہوئی ہے، ہم نے اور کشمیریوں نے اس کا خیرمقدم کیا ہے،میری نظر میں اس پیشرفت نے تناؤ کو کم کیا ہے. شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس اقدام کا دونوں ملکوں کے ذی شعور عناصر نے اس نئی پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے. وزیر خارجہ نے پاکستان کے قومی دن پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے وزیر اعظم عمران خان کو خیر سگالی پیغام کا بھی حوالہ دیا جس کا پاکستانی وزیر اعظم نے مثبت جواب بھی دیا.یہ ایک اچھی پیشرفت ہے لیکن اس بارے میں کوئی اہم فیصلہ کرنا قبل از وقت ہے.افغان امن عمل کے سلسلے میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس عمل میں خدشات بھی بہت زیادہ ہیں ،خدا نخواستہ اگر کوئی معاہدہ یا کوئی سیاسی تصفیہ نہیں ہوتا ہے ، تو90 کی دہائی میں واپس جانے کا خدشہ ہے ، افغانستان میں دوبارہ خانہ جنگی کا خطرہ ہمارے سروں کے اوپر منڈلا رہا ہے. افغانستان سے فوجی انخلا کے امریکی فیصلے کے بارے میں وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ مذاکرات کے دوران طالبان کا ایک بہت اہم مطالبہ تھا،اس لئے فوجی انخلا کے اعلان سے امریکیوں نے اس مطالبے کو پورا کیا.شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم یقینی طور پر کوشش کرینگے اور ان (طالبان) پر زور دیں گے کہ امن عمل میں شامل ہوجائیں ، جو عمل دوحہ میں شروع ہوا تھا ، اسے استنبول کانفرنس کے ذریعے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے. ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے کے لئے اپنی جغرافیائی محل وقوع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جبکہ سی پیک کے زریعے پاکستان ،افغانستان اور وسطی ایشیائی جیسے خشکی میں گھرے ممالک کو بڑا موقع فراہم کر رہا ہے. ہم تمام ممالک کیلئے برابری کے مواقع پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہر ایک اس سے فائدہ اٹھا سکے. وزیر خارجہ نے کہا کہ اس منصوبے سے چین ، روس، وسطی ایشیائی ممالک اور پورا خطہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں ، یہ صرف ایک خطے تک ہی محدود نہیں ہے،مزید یہ کہ مغربی ممالک ، امریکہ یا یورپی یونین سمیت کوئی بھی ملک اگر سرمایہ کاری کرنا چاہے تو ان کا خیرمقدم کیا جائے گا.افغان فریقوں کے مابین اختلافات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے ، آپس میں بیٹھ کر فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ کس طرح کا آئین چاہتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے پاکستان صرف مدد اور سہولت فراہم کرسکتا ہے اور کوئی فیصلہ نہیں کرسکتا تاہم وزیر خارجہ نے امن عمل میں رکاوٹیں ڈالنے والوں کے کردار سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر موجود ہیں جنھیں جنگی معیشت سے فائدہ ہیاور وہ یہاں امن دیکھنا نہیں چاہتے.انہوں نے کہا کہ لوگوں نے اربوں کی کمائی کی ہے اور افغانستان سے باہر بھی ایسے عناصر موجود ہیں،جو افغانستان کی سرزمین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کو شش کر رہے ہیں. انہوںنے کہاکہ ہم سمجھتے ہیں کہ قیام امن کا یہ نادر موقع ہے جسے ضائع نہیں کرنا چاہئے.پاک ترکی دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے وزیر خارجہ نے مسئلہ کشمیر پر واضح موقف اختیار کرنے پر ترک حکو مت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسلامو فوبیا کے معاملے پر ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور وزیر اعظم عمران خان کے خیالات میں مماثلت ہے. انہوں نے کہا کہ ترکی اور ایران دونوں سے بات ہوئی ہے جبکہ مشورہ اور رائے کیلئے جلد ہی انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سے بھی بات کریں گے. انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ ، رمضان کے مہینے میں ، جب میں وزیر اعظم (عمران خان) کے ساتھ سعودی عرب جائوں گا ، تو میں اس مسئلے کو سعودی عرب کے وزیر خارجہ کے ساتھ اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہوں ، تاکہ اہم مسلم ممالک امت کے اندر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے.
..
