Input your search keywords and press Enter.

پاک بھارت مذاکرات کا ایجنڈا خفیہ کیوں رکھا جا رہا ہے؟

تحریک انصاف حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے بھارت کے ساتھ خفیہ مذاکرات اور کشمیر پر سودے بازی کے الزامات پر اب ماضی میں کشمیر کاز پر ریاستی بیانیے کی ترویج کرنے والے ریٹائرڈ فوجی افسران اور سفارتکار بھی تنقید کرتے نظر آتے ہیں اور انکا موقف ہے کہ اس معاملے پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں اور عوام کو اعتماد میں لے کر فیصلہ ہونا چاہیے۔
خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے حالیہ دنوں سینئر صحافیوں کو ایک آف دی ریکارڈ ملاقات یہ بتایا تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اور بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سربراہان نہ صرف پاک بھارت تعلقات بلکہ کشمیر کے معاملے پر بھی بیک چینل مذاکرات کر رہے ہیں۔ تاہم ملک کے سیاسی حلقوں میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ اتنے اہم اور حساس ایشو پر شفافیت کے ساتھ عوام کو اعتماد میں لے کر بات چیت آگے بڑھنے کی بجائے معاملات کو بلاوجہ سات پردوں میں چھپانے کی کیوں کوشش کی جا رہی ہے جس سے کشمیر کا سودا کیے جانے کے شکوک کو تقویت ملتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کار متفق ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ماضی کی پالیسی سے یوٹرن لیتے ہوئے اب مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا ذہن بنا لیا ہے یہی وجہ ہے کہ کنٹرول لائن پر فائر بندی کے بعد پاک بھارت سیاسی قیادت کے مابین روایتی تند و تیز جملوں کے تبادلے کے بجائے باہمی تعاون اور ماضی کو دفن کر کے آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سفارتی ذرائع اور سیاسی تجزیہ کار مطالبہ کررہے ہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ مسئلہ کشمیر جیسے اہم موضوع پر خود آگے آنے کی بجائے ماضی میں اس پر کام کرنے والی مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو اعتماد میں لے کر آگے لائے کیونکہ فوجی قیادت یا تحریک انصاف کی اس معاملے میں ڈیلنگ پر کوئی مثبت پیش رفت کی بجائے مزید اعتراضات اور شبہات پیدا ہوں گے جس سے کشمیر کا دیرینہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے مزید پیچیدہ ہو کر الجھ جائے گا۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان معاملات کا قریبی علم رکھنے والے ذرائع نے رائٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا ہے کہ جنوری 2021 میں دوبئی میں دونوں ملکوں کی ایک خفیہ میٹنگ ہوئی تھی جس میں دونوں ملکوں کے انٹیلیجنس حکام شریک ہوئے تھے۔ اپنی صحافیوں سے ملاقات میں جنرل باجوہ بھی اس ملاقات کی تصدیق کر چکے ہیں جو کہ بھارتی اور پاکستانی خفیہ ایجنسی کے سربراہان کے مابین ہوئی تھی۔ جوہری طاقت رکھنے والے دنوں ملکوں کے درمیان 2019 سے تعلقات انتہائی کشیدہ ہیں جب جموں کشمیر میں بھارتی فوجی قافلے پر ایک خود کشمیر حملے میں چالیس بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔ بھارت نے ان حملوں کے لیے پاکستان سے سرگرم دہشت گردوں کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اور جوابی کارروائی کرتے ہوئے اپنے جنگی طیاروں سے پاکستانی علاقوں کونشانہ بنایا تھا۔ 2019 میں ہی پانچ اگست کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کردی تھی جس کا مقصد بھارت کے زیر انتظام کشمیر پر گرفت کو مضبوط کرنا ہے۔ اس اقدام کے جواب میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کی سطح گھٹا دی تھی اور تجارتی تعلقات معطل کر دیے تھے۔ لیکن دونوں ممالک نے گذشتہ کئی ماہ کے دوران بیک چینل ڈپلومیسی کا آغاز کیا اور تعلقات کو معمول پر لانے کی کوشش جاری ہے۔
پاکستانی دفاعی تجزیہ کار عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی اور بھارتی ایجنسیوں کے عہدیدار کسی تیسرے ملک میں پچھلے کئی مہینوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں اعلی عہدیداروں کے درمیان تھائی لینڈ، دبئی اور لندن میں ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ تاہم پاکستانی دفاعی ماہرین سمجھتے ہیں کہ چونکہ پاکستانی عوام کشمیر کو اپنی شہہ رگ سمجھتے ہیں اس لئے سیاسی قیادت کو ہی اس مسئلے کے حل کے لئے آگے لانا چاہیے نہ کہ فوج کے خفیہ ادارے عوام سے معاملات چھپاکر کوئی بڑا فیصلہ لے لیں جسے عوام کشمیر کے سودے سے تعبیر کریں۔
نجم سیٹھی جیسے تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اس کام کے لئے پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا چاہئے کیونکہ ماضی میں انہی دو بڑی جماعتوں نے بھارت کے ساتھ کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے حل کی کوششں کی۔ یہ اور بات کہ ہر بار فوجی اسٹیبلشمنٹ آڑے آتی رہی کیونکہ تب ایسا کرنا قومی سلامتی کے منافی سمجھا تھا لیکن اب بدلتے ہوئے زمینی حالات کو دیکھ کر فوج خود اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی کر رہی ہے۔
تاہم کیونکہ مذاکرات کے اس سارے عمل کو عوام اور پارلیمنٹ سے خفیہ رکھا جا رہا ہے اس لیے اس حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔بھارت سے بیک چینل رابطوں پر خدشات اس کیے بھی بڑھ رہے ہیں کیونکہ اس معاملے پر اسٹریٹیجک وضاحت کی عدم موجودگی دیکھی جارہی ہے۔ پاکستان بھارت بات چیت میں کن امور پر گفتگو ہو رہی ہے؟ اس کی ناکافی تفصیلات کی وجہ سے بھی مسئلہ کشمیر پر خدشات کو تقویت مل رہی ہے۔
سابق سیکریٹری دفاع لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ آصف یاسین ملک کے بقول دونو ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے خیالات میں اختلاف ہے۔ انہوں نے حکومت اور فوجی قیادت کو خبردار کیا کہ کشمیر پر سمجھوتے کی قیمت پر بھارت کے ساتھ امن نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مختلف حلقوں کی جانب سے بھارت کے ساتھ امن کے اقتصادی ثمرات کے حوالے سے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ کیا بیک چینل عمل سے بھارت کی پاکستان کے خلاف ففتھ جنریشن جنگ، اس کا افغانستان میں منفی کردار اور ایف اے ٹی ایف جیسے عالمی اداروں میں اس کی طرف سے پاکستان کی مخالفت ختم ہوجائے گی۔آصف یاسین ملک کا کہنا تھا کہ سیلیکتڈ اہداف کو حاصل کرنے کی بجائے متناسب اور جامع امن کے لیے مظبوط فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔
اقوام متحدہ میں سابق مستقل مندوب اور برطانیہ و امریکا میں بطور سفیر خدمات انجام دینے والی ڈاکٹر ملیحہ لودھیی کہتی ہیں کہ یہ پتہ چلنا ابھی باقی ہے کہ اگر بھارت واقعی تمام معاملات پر بات چیت کے لیے تیار ہے تو اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ دیکھنا یہ ہے کہ انڈیا مسئلہ کشمیر پر کس حد تک بات کرنا چاہتا ہے۔ ملیحہ لودھی نے مزید کہا کہ ہم سب عزت کے ساتھ امن کے خواہاں ہیں لیکن کشمیر کے بارے میں اپنے بنیادی موقف پر سمجھوتہ کرنے کی قیمت پر نہیں کیونکہ اس صورت میں تعلقات معمول پر لانا دیرپا ثابت نہیں ہوگا اور نہ ہی ایسا کرنا پاکستان کے عوام کو منظور ہوگا۔ انہوں نے دونوں فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بیک چینل مذاکرات کاروں کو نامزد کریں اور ان کے نام سامنے لائیں کیونکہ اس سے اصل سنجیدگی کا پتہ چلے گا، بصورت دیگر تمام اقدامات شاطرانہ لگیں گے۔
بھارت میں پاکستان کے سابق سفیر ڈاکٹر عبدالباسط کے بقول بھارت کا پاکستان سے بات چیت کرنا ایک چال ہے اس لیے اس میں حصہ لینے والے پاکستانی مذاکرات کاروں کو چاہیے کہ وہ بہت احتیاط کے ساتھ ہر قدم آگے بڑھائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں اس صورتحال میں لے جایا جاتا ہے جہاں ہم باضابطہ مذاکرات کے ایک اور مرحلے کی حامی بھر لیں تو اس سے ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس مرحلے پر یہ طے کرنے پر زور ہونا چاہیے کہ جموں و کشمیر کے حوالے سے روڈ میپ کیا ہوگا۔ عبدالباسط کہتے ہیں کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ کشمیر پر اقدامات اٹھا کر تنازع کے حل کے حوالے سے اپنی سنجیدگی ظاہر کرے۔ باسط نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں کی رہائی اور انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دینا ایک اشارہ ہوگا کہ بھارت تنازع کے حل کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر قابل عمل امن کا حصول ممکن نہیں اور اس عمل میں کشمیریوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے جن کے بغیر کوئی بھی پاک بھارت امن عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔

رائٹر کے تجزیے سے متفق ہونےکا ادارہ پابند نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے