بنیادی تشویش انسانیت ہے اور وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے عالمی رد عمل درکار ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی — فائل فوٹو:اے پی
اسلام آباد: کشمیر سے متعلق پارلیمانی کمیٹی نے اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی انسانیت پسند (طبی راہداری) میڈیکل کوریڈور قائم کرے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ مطالبہ مقبوضہ کشمیر میں تیزی سے بگڑنے والی کووڈ 19 کی صورتحال کے پیش نظر منعقدہ کمیٹی کے ایک ہنگامی اجلاس کے دوران کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بنیادی تشویش انسانیت ہے اور وبائی امراض سے نمٹنے کے لیے عالمی ردعمل درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت میں صورتحال نازک ہے اور ہمسایہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اس پر تشویش ہے، پاکستان نے مشکل صورتحال کے پیش نظر امداد کی پیشکش کی، ہمیں ابھی تک بھارت کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘مقبوضہ جموں و کشمیر بھی پریشانی کا شکار ہے اور ہمیں اس کا احساس ہے کیونکہ ہم ان سے تاریخی اور مذہبی طور پر جڑے ہوئے ہیں’۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستانی اپنے ملک میں مشکل صورتحال کے باوجود بھارت کی مدد کے لیے تیار ہیں۔
اجلاس کی صدارت کرنے والے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار خان آفریدی نے مقبوضہ کشمیر سمیت بھارت میں بگڑتے ہوئے طبی نظام کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی اور عالمی برادری سے انسانی بنیادوں پر مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا۔
بھارت میں بحران کا جائزہ لیتے ہوئے شہریار خان آفریدی نے کہا کہ رپورٹ کیے گئے فعال کورونا کیسز 34 لاکھ 87 ہزار سے زیادہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 2 لاکھ 26 ہزار 188 اموات ہوچکی ہیں اور ہر روز 3 لاکھ 50 ہزار اضافی کیسز سامنے آرہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں کووڈ 19 کے ایک لاکھ 91 ہزار 869 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے 2 ہزار 458 اموات ہوئیں۔
انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘گزشتہ روز ہی مقبوضہ کشمیر میں 4 ہزار 650 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں’۔
شہریار خان آفریدی نے کہا کہ صرف 13 ہزار لیٹر فی منٹ آکسیجن موجود ہے جو ماہرین کے مطابق کیسز میں جاری اضافے کو پورا کرنے کے لیے بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صحت کی سہولیات بگڑ رہی ہیں اور قابض حکومت نے خطے کے عوام کو بہت کم مدد فراہم کی ہے۔
شہریار خان آفریدی نے کہا کہ انسانی بنیادوں پر بین الاقوامی میڈیکل کوریڈور کے قیام کی درخواست ‘پوری قوم کی طرف سے موصول ہوئی ہے’ کیونکہ کشمیر کمیٹی کو پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی حاصل ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان اور قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔
بعدازاں کمیٹی نے متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے اقوام متحدہ، ڈبلیو ایچ او، آئی سی آر سی اور دیگر تنظیموں سے مداخلت کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو طبی امداد اور ادویات کی فراہمی کے لیے ایک بین الاقوامی میڈیکل کوریڈور قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔
