Input your search keywords and press Enter.

آہ! اشرف صحرائی

محمد اشرف خان ، جنھیں بنیادی طور پر اشرف سحرائی یا صحرائی کے نام سے جانا جاتا ہے ،تحریک آزادی کشمیری کے صف اول کے رہنما سید علی گیلانی کے معتمد خاص اور تحریک حریت کے چیئرمین تھے ۔ انہیں گذشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا ، آج جموں شہر کے جیل کے اسپتال کے اندر دم توڑ گئے۔ جیل حکام نے ان کی صحت کی سنگین صورتحال کے باوجود بروقت علاج کی سہولت فراہم نہیں کی۔کویڈ کی تباہ کن تباہی کے باوجود انسانی بنیادوں پر مختلف جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کی بار بار اپیلوں کو نظرانداز کرتے ہوئے صحرائی صاحب کو ایک سال تک بغیر مقدمہ چلائے جیل میں رکھ گیا اور یہی سلوک دیگر حریت قیادت اور کارکنوں کے ساتھ روا رکھا جا رہا ہے اور ان کی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ اشرف سحر ائ شہید نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سید علی شاہ گیلانی کے قریبی ساتھی کے طور تحریک آزادی کشمیر کے لئے وقف کئے رکھا ان کا باہم تعلق 1960 کی دہائی سے چلا آ رہا ہے جب وہ جماعت اسلامی کا حصہ تھے۔
بھارت نے 5 اگست ، 2019 کو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد جماعت اسلامی اور حریت قائدین کو بڑے پیمانے ہزاروں کشمیریوں سمیت جیلوں میں بند کردیا۔ اس سے قبل جماعت اسلامی پر پابندی لگا کر اس کے دفاتر ،سکولز اور اثاثوں پر قبضہ کر لیا ۔ہندوستان کے زیر تسلط واحد مسلمان اکثریتی خطے پر اب براہ راست ملک کی وزارت داخلہ کا راج ہے۔صحرائی شہید کےچھوٹے بیٹے جنید اشرف کو مئی 2019 میں ہندوستانی فوج نےسری نگر میں فائرنگ کر کے شہید کر دیا تھا

پیدائش : 1944 ، وادی لولاب

وفات: 5 مئی 2021

پورا نام: محمد اشرف خان

تعلیم: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی

بچے:۔ 6
ایک بچہ شہادت کے درجے پر فائز ہوا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے