Input your search keywords and press Enter.

کشمیر میں مسلمانوں نے ہندو پنڈت کی آخری رسومات ادا کیں

سرینگر (این این آئی) غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میںکشمیری مسلمانوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ، انسانی ہمدردی اور ایکدوسرے کا خیال رکھنے کے جذبے کے تحت جنوبی کشمیر کے ایک گاؤں میں ایک ہندو پنڈت شخص کی آخری رسومات ادا کیں۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 70 سالہ چمن لال کبھی کشمیرچھوڑ کر نہیں چلے گئے اور پلوامہ کے آبائی گاؤں ٹہب میں رہنے کو ترجیح دی اور وہ اپنا وقت اپنے مسلمان دوستوں کی صحبت میں گزارتے تھے۔چمن لال اور ان کے بھائی نے 1990 کی دہائی میں اپنے گائوں کو نہیں چھوڑاجب ان کے گاؤں اور وادی کشمیر کے دیگر علاقوں سے پنڈتوں کی اکثریت نے گورنر جگموہن کے اکسانے پر جموں اور دیگر مقامات کی طرف ہجرت کی۔مقامی مسلمانوں نے چمن لال کی آخری رسومات ادا کیں اور ان کی وفات پر اپنوں کی طرح سوگ منایا۔ کورونا وائرس کی وبا کے باوجود سینکڑوں مسلمانوں نے ان کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ چمن لال کے بھائی نے بتایا کہ مقامی مسلمانوں نے ان کی میت کو کندھا دیا اور ان کی آخری رسومات کے لئے لکڑیوں کا بندوبست کیا۔ان کے بیٹے اور بیٹی جموں سے گائوں پہنچے اور انہوں نے اظہار محبت اوران کا خیال رکھنے پر مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ایک مقامی بزرگ شخص نے کہاکہ وہ ہم میں سے ایک تھا۔ ہم نے آخری رسومات کے لئے ہر چیز کا انتظام کیا۔ ہم نے اس کے ساتھ خوشیاں اور غم بانٹے ہیں اور ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہمارے ہی خاندان کے فرد کا انتقال ہوگیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے