غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرتسلط جموں و کشمیر میں حریت رہنمائوں نے جموں و کشمیر کے آزادی پسند عوام کے خلاف بھارت کی بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما اور جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ جب دنیا بھر کے مسلمان عیدالفطر کی تیاریوںمیں مصرو ف ہیںمقبوضہ جموںوکشمیرمیں نہتے کشمیریوں کو کورونا وبا کے نام پر بدترین بھارتی ریاستی دہشت گردی کی سامنا ہے۔
انہوںنے کہاکہ مودی کی فسطائی بھارتی حکومت سروس سے متعلق قواعد و ضوابط میں ترمیم کر رہی ہے تاکہ بھارتی شہریوںکو کشمیرمیں ملازمین مل سکیں۔
انہوںنے کہاکہ ایک طرف توقابض انتظامیہ مسلمان ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کیاجارہا ہے جبکہ دوسری طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کے غنڈوں کو ملازمتیں دلوانے کیلئے ریاستی قوانین میں ترامیم کی جارہی ہے ۔شبیر ڈار نے کہاکہ جموں و کشمیر کے پانچ میڈیکل کالجوں میں خالی آسامیوں پربھارتی شہریوںکو بھرتی کرنے کا حالیہ حکم بدترین ریاستی دہشت گردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے واضح ہو تا ہے کہ بھارت تنازعہ کشمیر کے مذاکرات کے ذریعے پرامن حل میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا ہے۔ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماء اور جموںکشمیر پیپلز موومنٹ کے چیئرمین میر شاہد سلیم نے جموں سے جاری ایک بیان میں شہدائے اسلام آباد کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے فوجی کارروائیوں کے دوران شہری آبادی کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال پر قابض فورسز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اپنے حق خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی ضمانت انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی متعلقہ قراردادوں میں فراہم کر رکھی ہے ۔ انہوں نے وادی لولاب میں شہید محمد اشرف صحرائی کی نماز جنازہ کا اہتمام کرنے پر انکے رشتہ داروں اور قریبی ساتھیوں کے خلاف مقدمے کے اندراج کی شدید مذمت کی۔میر شاہد سلیم نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور انسانی حقوق کی دیگر بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارتی حکومت کے فسطائیت پر مبنی رویہ کا سخت نوٹس لے جس سے محکموم کشمیری عوام کی جان و مال اور عزت و آبرو کو سخت خطرہ لاحق ہے ۔
