آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے چند دن قبل کنٹرول لائن پر جوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت آگیا ہے کشمیر کے انسانی المیے کو ختم کیا جائے۔ جنرل قمر جاوید کی اس بات کو فلسطین کی موجودہ حالت زار کیساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ زمینی حقائق کو بدلنے اور وقت کے بہاؤ کے باوجود حقیقی مسائل ختم نہیں ہوتے۔ وقت نے ثابت کیا ہے کہ کشمیر اور فلسطین دو بدترین انسانی المیے ہیں۔ دونوں مسائل کی عمر بھی ایک ہے اور دونوں کم وبیش ایک طرح کے حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ دونوں دو ایسی طاقتوں کے جبر وستم کا شکار ہیں جو کچھ عالمی طاقتوں کے منظور نظر ہیں اور یہ پہلو ان مسائل کو گمبھیر اور لاینحل بنائے ہوئے ہے۔ دونوں مقامات پر عوامی مزاحمت کا سٹائل بھی مرحلہ وار انداز میں ایک ہے اور اس مزاحمت کو کچلنے کیلئے طاقت کے بے محابا استعمال کا انداز بھی ایک ہے۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد سری نگر کے مناظر کی تصویروں کو آج فلسطین کے مناظر کیساتھ جوڑ کر دیکھا جائے تو پہچان کرنا مشکل ہوگا کہ کونسی تصویر اور منظر کس علاقے کا ہے۔ بھارت اور اسرائیل دونوں کو امریکہ کی سرپرستی حاصل ہے۔ اسرائیل کی طرف سے درجنوں بچوں کو قتل کرنے والے آپریشن کو امریکی صدر جوبائیڈن کی طرف سے اپنے بچاؤ اور تحفظ کی تدبیر قرار دینا اسرائیل کو قتل عام کا لائسنس دینے کے مترادف ہے۔ اسرائیل اس لائسنس کا جم کر فائدہ اُٹھا رہا ہے۔ اس پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے چین کے ایک سرکاری ٹی وی نے واضح انداز میں کہا کہ امریکہ اپنے دولت مند یہودیوں کے دباؤ کی وجہ سے فلسطینیوں کے قتل عام کی حمایت کر رہا ہے۔ یہ دولت مند یہودی امریکی معیشت کو کنٹرول کئے ہوئے ہیں، جس دنیا میں انصاف اور فیصلے کے یہ پیمانے رائج اور مستعمل ہوں گے اس کا حال یہی ہونا چاہئے جو ہو رہا ہے۔ اسرائیل نے فلسطین کے زمینی حقائق کو بیک جنبش قلم پہلے ہی مرحلے میں بدل دیا۔ اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کی زمینیں خریدیں یا انہیں جبری بے دخل کرکے ایک مصنوعی ملک بنا دیا جس میں کوئی آرمینیا سے آیا، کوئی سپین سے تو کوئی روس اور امریکہ سے۔ بھارت نے اس مقام تک پہنچنے کیلئے تہتر برس انتظار کیا اور حیلوں بہانوں سے اس راہ پر آگے بڑھتا رہا۔ تب جاکر پانچ اگست کا فیصلہ لیا۔ اب بھارت قوانین بنا کر اپنے اس مقصد کا حصول چاہتا ہے جس کیلئے اس نے دہائیوں تک خاموش پیش قدمی اور انتظار کیا ہے۔ فلسطین دنیا کا ہر ممکنہ حربہ استعمال کرکے بھی فلسطینیوں کی آواز سے جان نہ چھڑا سکا یہ آوازآج بھی ان کے کانوں میں ہلچل اور طوفان بپا کئے ہوئے ہے۔ اسرائیل نے جس مسئلے کو اپنی طاقت کے پیروں تلے روند ڈالا تھا وہ اس وقت دنیا کا سب سے سلگتا ہوا مسئلہ بن کر بھارت کا منہ چڑا رہا ہے۔ اسرائیل کو طاقت کے نشے میں کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ وہ بے گناہ اور معصوم لوگوں کا خون بہا رہا ہے۔ کشمیر میں انسانی المیہ اس سے بھی سنگین ہے کہ کشمیریوں کی آواز اُٹھانے والا واحد ملک پاکستان ہے، اسرائیل نے جو مقاصد ستر سال پہلے حاصل کئے بھارت اس جانب بڑھنا چاہتا ہے مگر اسرائیل اور فلسطین کے موجودہ حالات بھارت کیلئے سبق رکھتے ہیں۔ اسرائیل سب کچھ حاصل کرکے بھی کاغذ کی ناؤ کی مانند حالات کے پانی پر تیر رہا ہے۔ حماس کے چند راکٹوں سے پورے اسرائیل میں خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے اور لوگ چوہوں کی طرح بلوں میں گھس جاتے ہیں۔ خوف کی ایک فضا پورے ماحول میں رچ بس کر رہ گئی ہے۔ بھارت کشمیر میں اس سے زیادہ کامیابیاں حاصل نہیں کرسکتا جو اسرائیل کو حاصل ہوئی ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود بھارت کشمیر میں ایک ناکام پالیسی کو گلے سے لگائے ہوئے ہے۔ پانچ اگست کے بعد بھارت کشمیر میں کہانی کا آغاز وہیں سے کرنا چاہتا ہے جہاں سے اسرائیل کی کہانی ختم ہو رہی ہے۔ اسرائیل فلسطین کی ڈیموگرافی کو تبدیل کر چکا ہے اور اب اپنی حدود کے اندر اسے کوئی بڑا اور حقیقی چیلنج درپیش نہیں مگر فلسطین کا آتش فشاں اب بھی لاوا اُگل رہا ہے، ہر سال دوسال کے بعد فلسطین آمادۂ مزاحمت دکھائی دیتا ہے۔ آج کا فیز بھی کھیل کا اختتام نہیں بلکہ ایک اور فیز کی بنیاد ہے۔ پورے اسرائیل کا فلسطین کے زمینی حقائق کے بدلنے کے باوجود بنکروں میں دُبک کر بیٹھ جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ آگ ابھی تک بھڑک رہی ہے۔ یہ حالات بھارت کیلئے سبق ہیں کہ وہ طاقت کا استعمال کرکے جنوبی ایشیا کو امن واستحکام کی منزل سے دور تو رکھ سکتا ہے مگر اپنے مقاصد حاصل نہیں کرسکتا۔ بھارت اب کشمیر کی ڈیموگرافی کو بدلنے کیلئے فلسطین ماڈل اپنانے لگا ہے۔ اس سے مسئلہ حل ہونا ہوتا تو آج اسرائیل اور فلسطین میں پرتشدد مناظر دیکھنے کو نہ ملتے بلکہ یہ علاقہ امن وعافیت کی کہشکشاؤں میں محوِ سفر ہوتا۔ حالات اس کے قطعی برعکس ہیں۔ فلسطین کی طرح کشمیر کا امن بھی ایک معمولی سے حادثے کی دوری پر ہے۔ ان حالات میں جنرل باجوہ کی طر ف سے کشمیر کے انسانی المیے کو ختم کرنے کی تجویز صائب اور بروقت ہے مگر بھارت لاتوں کا بھوت ہے باتوں سے کب مانے گا۔ تجاویز کیساتھ ساتھ بڑے اور بھاری بوٹوں والی لاتوں کا سامان بھی تیار رکھنا ہوگا۔
انسانی المیہ کو ختم کرنے کا وقت؟
