Input your search keywords and press Enter.

کشمیریوں کا منظم معاشی قتل

بھارت مقبوضہ جموں کشمیر میں جمہوری و ثقافتی دہشتگردی،کشمیریوں کی نسل کشی اور انفارمیشن دہشتگردی کا مرتکب ہے۔ بھارت کشمیریوں کے حق خوارادیت کو نظرانداز کرنے اور کشمیریوں کی سیاسی قیادت کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے کے بعد اب کشمیریوں کے منظم معاشی قتل میں ملوث ہے۔دنیا کی پراسرار خاموشی انسانیت کیلئے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے اور ترقی یافتہ ممالک کو تجارتی اور مارکیٹ مفاد کی خاطر انسانیت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔کشمیری سات دہائیوں سے بھارتی جارحیت کامقابلہ کرنے کے باوجود اپنی معیشت کو خود سنبھال ر ہے تھے۔ مقبوضہ کشمیر میں میوہ جات کی کاشت،دستکاری و قالین بانی کی صنعت ،فروٹ انڈسٹری ، سیاحت اور سیاحت سے وابستہ ہوٹل اور ٹرانسپورٹ کی صنعت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے منسلک صنعتیں کشمیری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان صنعتوں نے ہمیشہ کشمیریوں کیلئے بھارت کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔بھارتی فوجی محاصرے کے باعث مقبوضہ جموں و کشمیر کی معیشت مکمل طور پر جمود کا شکار ہوگئی ہے۔ کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق کشمیر میں بھارتی فوجی محاصرے کے ابتدائی ایام میں کشمیری انڈسٹریز کو 396ارب روپے (تقریبا 2.4 بلین امریکی ڈالر) کا نقصان اُٹھانا پڑا جبکہ اس دوران وادی میں4 لاکھ 99 ہزار کشمیری بے روزگار بھی ہوئے۔ کرفیو اور پابندیوں کے باعث اب تک مقامی معیشت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے ۔سب سے زیادہ متاثرہ شعبہ زراعت ،باغبانی، تعمیرات،دستکاری،مینوفیکچرنگ ، رئیل اسٹیٹ ، ٹرانسپورٹ ، سیاحت ، آئی ٹی اور چھوٹے کاروبار ، بشمول اسٹارٹ اپس ،اور مالی خدمات ہیں۔ جن کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کی کمی آچکی ہے۔ انڈسٹریز اور ورکرز کرفیو کے باعث ہونے والے معاشی نقصان سے تاہم نکلنے سے قاصر ہیں۔مقبوضہ کشمیر کی فروٹ انڈسٹریزخصوصاً سیب کی پیداوار اور ترسیل شدید متاثر ہوئی جس سے تقریباً 30 لاکھ سے زائد لوگوں کا روزگار وابستہ ہے۔ فوجی محاصرے کے باعث نقل و حمل کی محدود سہولیات کی وجہ سے تقریباً 1 لاکھ 35 ہزار میٹرک ٹن سیب ضائع ہوا۔ کشمیری عوام کے اپنے گھروں میں محصور ہونے کی وجہ سے آدھی سے زائد فصل تو درختوں سے اتار ی ہی نہ جا سکی۔مقبوضہ کشمیر میں سیب کا تجارتی حجم 2 ارب ڈالر ہے جو وہاں کی معیشت کا 10 فیصد بنتا ہے۔ ہندوستان کی نیشنل زرعی کوآپریٹو مارکیٹنگ فیڈریشن صرف 155 کروڑ روپے مالیت کے سیب خریدنے میں کامیاب رہی، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں سیب کی سالانہ آمدنی 31 ہزار کروڑ روپے ہے۔کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے مطابق رواں سال کے آغاز تک دستکاری اور قالین کی صنعت سے منسلک تقریباً70ہزار لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ صرف قالین کی صنعت میں 50 ہزار سے زائد نوکریاں ختم ہو چکی ہیں۔ عام طور پر قالین کے بیشتر آرڈربیرون ملک سے جولائی سے ستمبر کے دوران آتے ہیں، تاکہ وہ کرسمس تک قالین بنا کر آرڈر مکمل کر سکیں۔ تاہم بھارتی حکومت کی جانب سے نافذ کرفیو اور مواصلاتی رابطے منقطع ہونے کی وجہ سے قالین برآمد نہیں کیے جا سکے۔

2019 ء کے آخر میں وادی میں سیاحوں کی تعداد میں 71 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔ سال 2018 میں اگست اور دسمبر کے درمیان 3لاکھ16ہزار سے زائد سیاحوں نے کشمیر وادی کا رخ کیا البتہ اگست 2019 کے غیر قانونی فوجی محاصرے کے بعد سے یہ تعداد 43 ہزارپر آ گئی ہے۔وادی میں اس وقت تقریباً 3000 ہوٹل خالی پڑے ہیں۔ مسلسل کرفیو اور معاشی جمود کے باعث 74ہزار500 افراد سیاحت کے شعبے سے بیروزگار ہوئے ہیں۔ ان میں ہوٹل مالکان،ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ مالکان،شکارا والے ،گھوڑے اور ٹیکسی ڈرائیورز شامل ہیں۔ انٹرنیٹ سروس معطل ہونے کے باعث تقریباً 5ہزار ٹریول ایجنٹ بیکار بیٹھے ہیں۔ سری نگر کی مشہور ڈل جھیل میں تقریباً ایک ہزار شکارے بھی خالی پڑے ہیں۔کرفیو کے باعث ٹرانسپورٹ سروس کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگست 2019 سے اب تک کشمیر میں ٹرانسپورٹ پر مکمل پابندی ہے، جس کے باعث زراعت کی تیار فصل کی نقل و حرکت نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو گئی۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر سے منسلک افراد یا تو ٹیکسی اور بسیں چلاتے ہیں یا پھر سامان کی ترسیل کرتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی گاڑیاں قرض پر ہیں۔ نقل و حمل پر پابندی کے باعث وادی میں ادویات، خوراک اور دیگر اشیائے ضرورت کی شدید قلت ہے اور آبادی کا ایک بڑا حصّہ متاثر ہوا ہے۔جبری لاک ڈاؤن کے دوران انٹرنیٹ سروس کی بندش نے بھی کشمیر میں ہونے والے معاشی نقصانات میں اپنا حصہ ڈا لا ہے۔ وہ تمام کاروبار جن کا دارومدار صرف انٹرنیٹ پر تھا،انٹرنیٹ سروس کی بندش کے باعث مفلوج ہو کر رہ گئے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے عالمی دباؤ کے باعث 2 جی سروس کی فراہمی کی گئی۔ البتہ، 2جی سروس کی سست رفتاری کے باعث بیشتر کاروباری افراد اپنے گاہکوں سے رابطہ کرنے سے قاصر رہے۔زیادہ تر آئی ٹی سیکٹر سے منسلک افراد کے کلائنٹ بیرون ملک ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ سروس کی منسوخی کے باعث سافٹ وئیر ہاؤسز نے کثیر تعداد میں اپنے دفاتر وادی کشمیر سے ختم کر دئیے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے