Input your search keywords and press Enter.

او آئی سی کے دباو سے مسئلہ کشمیر و فلسطین پر پیشرفت ممکن

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پالیسی اور جبر پر گفتگو کرنا تعصب نہیں، فلسطین کی طرح کشمیر میں بھی حق خود ارادیت کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے شاہ محمود قریشی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کے حالات ایک جیسے ہیں، جیسے غزہ میں انتظامی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں بھی صورتحال ابتر ہے، بھارتی فورسز کی فائرنگ کے باعث کشمیریوں کی زندگی بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ میں آج یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کشمیر پر ہمارا موقف واضح اور دو ٹوک ہے کہ کوئی باعزت طریقے سے بات کرنا چاہے تو کریں گے لیکن کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔

صارفین کی حفاظت، واٹس ایپ کے زبردست سیکیورٹی فیچر کی آزمائش شروع
آج مسلم دنیا کو دو بڑے اور بھیانک مسائل درپیش ہیں، ایک فلسطین اور دوسرا کشمیر ایشو ہے۔ یہ کوئی منفرد اور انوکھے تنازعات نہیں مگر پون صدی سے لاینحل چلے آ رہے ہیں۔ ایسے ہی مشرقی تیمور اور شمالی سوڈان بھی تھے جو اقوام متحدہ اور بااثر قوتوں نے حل کرنے میں تاخیر نہیں کی۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین دونوں آسانی سے حل ہو سکتے ہیں مگر جن نامراد قوتوں نے یہ تنازعات پیدا کئے ہیں وہ قوتیں بدستور پورے کروفر کے ساتھ موجود ہیں وہ ان کو کیسے حل کریں گی اور ہونے دیں گی۔

اقوامِ متحدہ کا کردار پوری دنیا کے سامنے ہے۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان ، عراق یا لیبیا کا معاملہ ہو تو ان پر یلغار کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ فلسطین اور کشمیر پر اقوام متحدہ کی دہائیوں قبل کی قراردادیں موجود ہیں ان پر اُسی روح کے مطابق عمل کی کوشش کی جاتی جس طرح مشرقی تیمور اور شمالی سوڈان کو الگ ریاست بنایا گیا تو پون صدی تک فلسطین اور کشمیر میں انسانی المیہ بدترین شکل نہ اختیار کئے ہوتا۔ دونوں علاقوں میں بدترین خونریزی ہو رہی ہے، چادر اور چاردیواری کا تحفظ عنقا ہے جبکہ سرِدست دونوں تنازعات طے ہوتے نظر نہیں آ رہے۔

مختلف مقدمات میں ملوث 6ملزموں کا ریمانڈ منظور‘5 جیل چلے گئے
فلسطینیوں کو آج ایک بار پھر وزیر اعظم نیتن یاہو کی ذاتی سیاست کے مفاد کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔ 23 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں یاہو کی لکود پارٹی اکثریت حاصل نہ کر سکی۔ صدر روِلن نے ان کو حکومت سازی کی دعوت اس لیے دی کہ اس نے 120 کے ایوان میں 52 نشستیں حاصل کیں۔ حکومت بنانے کے لیے 61 کی ضرورت تھی مگر وہ چار ہفتے سر ٹکرانے کے باوجود مطلوبہ حمایت حاصل نہ کر سکا تو 5 مئی کو صدر کو اپنی ناکامی سے آگاہ کر دیا۔ 6 مئی کو صدر نے دوسرے نمبر پر آنے والے اتحاد کو حکومت سازی کی دعوت دی ۔ نیتن یاہو نے بیت المقدس پر حملہ کرا کے آگ لگوا دی۔ اس کے بعد غزہ پر بمباری اور مغربی کنارے میں مظاہرین پر بدترین تشدد کیا گیا۔ نیتن یاہو کی یہ حالات کو دوبارہ انتخابات کی طرف لے جا کر شدت پسندوں کے ووٹ حاصل کرنے کی سازش تھی ۔ اگلے روز یاہو نے جو مقصد حاصل کرنا تھا وہ اس نے کافی حد تک حاصل کر لیا لہٰذا جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی۔ امریکہ بدستور اسرائیل کی پشت پر کھڑا نظر آیا۔ سلامتی کونسل میں اسرائیل کی جارحیت پر قرارداد منظور نہ ہونے دی تو مسلم ممالک کی کوششوں سے جنرل اسمبلی کا اجلاس طلب کرنا پڑا اس وقت تک اسرائیل جنگ بندی پر آمادہ ہو چکا تھا۔ فلسطین نے بھی جنگ بندی سے اتفاق کیا۔ اس کے بعد سلامتی کونسل کی طرف سے بیان سامنے آ گیا۔ اسرائیلی بربریت پر خاموش سلامتی کونسل کا یہ پہلا بیان ہے جس میں غزہ میں سیز فائر کا خیرمقدم کیا گیا۔ سلامتی کونسل نے سیز فائر پر مکمل کاربند رہنے پر زور دیا اور ثالثی میں مصر کے کردار کو بھی سراہا۔ سلامتی کونسل نے فلسطینیوں کی فوری امداد پر بھی زور دیا ہے۔ اس بیان سے اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں پر کوئی فرق پڑے گا نہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملیں گے۔

بیوہ کی اراضی پر ملزمان قابض تحقیقات کرائی جائیں: نسیم مائی
کشمیریوں اور فلسطینیوں کے ساتھ بربریت اور سفاکیت کی دنیا بھر میں عوامی سطح پر مذمت اور ان کے حقوق کی حمایت کی جاتی ہے۔ اکثریت کی ہمدردیاں مظلوموں کے ساتھ ہیں مگر اس کا فلسطینیوں اور کشمیریوں کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ اُدھر اسرائیل اور بھارت کے مظالم کی بھی حکومتی سطح پر اکثر ممالک مذمت اور تشویش کا اظہار کر رہے ہیں مگر عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ دونوں تنازعات اسی وقت حل ہو سکیں گے جب طاقتور ممالک مثبت کردار ادا کریں گے۔ اقوام متحدہ جن ممالک کے زیر اثر فیصلے کرتی رہی ہے۔

مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حل کے لیے مسلم ممالک کو لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔ او آئی سی 57 ممالک کا اتحاد ہے۔ کل تک یہ ممالک شدید اختلافات کا شکار تھے۔ آج اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں یہ ایک دوسرے کے قدرے قریب آئے ہیں۔ جوبائیڈن کی پالیسیوں نے بھی مسلم ممالک کے مابین کشیدگی میں کمی لانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے مابین اختلافات کم ہوئے ہیں۔ فلسطین کے خلاف اسرائیلی مظالم پر تمام مسلم ممالک میں غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ تازہ ترین اسرائیلی جارحیت پر مسلم ممالک کے علاوہ مسلم ممالک بھی تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں البتہ بعض اوقات معاملات جنگوں تک بھی چلے جاتے ہیں مگر جنگوں سے بہرحال گریز ضروری ہے۔ 57 مسلم ممالک ایک بڑی طاقت ہیں یہ مسئلہ کشمیر اور فلسطین حل کرانے کے لیے اپنی طاقت اور رابطوں کو استعمال کر سکتے ہیں۔عالمی قوت کے منبع ممالک پر کشمیر اور فلسطین تنازعات طے کرنے کے لیے دبائو ڈالا جا سکتا ہے۔ دنیا کی معیشت میں مسلم ممالک کا بڑا حصہ ہے جو ان تنازعات کے حل میں کام آ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے