منہ میں پکڑی کسی یہودوہنود کمپنی کی تلی ہوئی بوٹی پرکالی پیپسی کاچھڑکائوکرنے کے بعد مونچھوں کوتائودیتے ہوئے وہ میری طرف گویا ہوئے۔جوزوی صاحب۔ فلسطین کی آزادی کے لئے آج ہم ریلی نکال رہے ہیں جس میں روڈبلاک کرنے سمیت نامی گرامی سیاستدانوں،تاجرتنظیموں کے عہدیداروں اورمذہبی رہنمائوں کی بھرپورشرکت کرنے کے ساتھ دھواں دارتقریریں بھی ہونگی،جوش وجذبہ گرم اورکلیجہ ٹھنڈاہوگا۔آپ ضروراس ریلی میں شرکت کرکے غیرت کاثبوت دیں۔میںنے کہاکیوں نا۔انشاء اللہ ضرور۔مفت میںبے غیرتی کاداغ ماتھے پرلگنے سے بچنے کے لئے پھر فلسطین کاپرچم ہاتھوں میں اٹھائے ہم بھی ریلی میں پہنچے۔ریلی میں شریک سیاسی،سماجی،مذہبی اورتاجرتنظیموں کے قائدین نے امریکہ،اسرائیل اوردیگریہودنوازممالک کے خلاف پہلے خوب دل کی بھڑاس نکالی پھرجب گرمی کی سختی اورپیاس کی شدت نے ہرایک کوبے چین کیاتواس مونچھوں والے صاحب کی طرح یہاں بھی سب پیپسی،کوک اور دیگر ’’یہودمارکہ مشروبات‘‘ سے اپنے دل و کلیجے ٹھنڈے کرنے لگے۔ہاتھوں میںپیپسی اورکوک کی رنگ برنگی بوتلیں پکڑے وہ کافی ٹائم تک پیپسی وکوک کی چس پر اسرائیل مردہ بادکے نعرے لگاتے رہے اورہم بصدادب واحترام سرجھکائے مردہ بادمردہ بادکہتے رہے۔ سناہے غیرت وثواب کایہ کام صرف ہمارے شہرمیں نہیں بلکہ مغرب سے مشرق اورشمال سے جنوب تک پورے ملک میں ہواہے۔ویسے اس میں حیرانگی کی بھی تو کوئی بات نہیں۔کیونکہ یہ کوئی پہلی بارتونہیں ہوایانہیں ہورہا۔ہم 73سال سے انڈین مارکہ شیمپووہیئر کلرزبالوں پرلگائے اورانڈین کاٹن پہنے بھارت کے خلاف احتجاج ،جلسے ،جلوس اورمظاہرے توکررہے ہیں۔سب کوپتہ ہے کہ اس طرح چیخنے،چلانے،روڈبلاک اورجلائوگھیرائوسے کچھ نہیں ہوتالیکن پھربھی اس عمل کوایک فرض سمجھ کرہم اس طرح نبھارہے ہیں کہ جس طرح یہ کوئی بہت بڑاجہادہو۔مظلوم کشمیریوں کے بعداب فلسطین کے عوام سے اظہاریکجہتی ،پیاراوریہ محبت اچھی بہت اچھی بات ہے لیکن کیا اس عمل اورفعل سے ہمارے ان مظلوم مائوں،بہنوں ،بیٹیوں اوربھائیوں کوکچھ فائدہ پہنچ سکتاہے۔؟ 73سال سے ہم کشمیری عوام سے اظہاریکجہتی کیلئے یہی کچھ کررہے ہیں ۔73سال سے ایساکرنے سے انہیں
کچھ فائدہ نہیں پہنچاتواب بے چارے فلسطینیوں کوان چنددنوں کے احتجاج اورمظاہروں سے کیا فائدہ پہنچے گا۔؟ہمارے احتجاج، روڈ بلاک، مظاہروں اورجلائوگھیرائو سے کشمیروفلسطین کے مظلوم مسلمانوں کوکچھ فائدہ پہنچتاہے یانہیں لیکن اس کانقصان ہمارے اس ملک اور عوام کو ضرور پہنچتا ہے۔ آپ خود سوچیں۔ روڈکی بندش سے ایمرجنسی مریضوں کو ہسپتال، خواتین، بچوں اور بزرگوں کو گھروں تک پہنچنے میں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب احتجاج کی وجہ سے ایک مریض بروقت طبی امدادنہ ملنے کے باعث ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر موت کے منہ میں چلاجاتاہے تواس کے گھروالوں پر پھرکیاگزرتی ہے۔؟احتجاج وہڑتال کی وجہ سے جب ایک دیہاڑی دارمزدورکام نہ ملنے کے سبب شام کو خالی ہاتھ گھرواپس لوٹتاہے توپھراس کی بیوی بچوں پرکیاگزرتی ہے ۔؟ہمارے اس طرح کے احتجاج اورمظاہروں سے نہ جانے ہمارے کتنے مسلمان بھائی،بہنیں اورمائیں روزانہ اذیت سے دوچار ہوتے ہوں گے۔؟اپنے ہاتھوں سے دوسروں کوپہنچنے والی اس تکلیف،اذیت اورپریشانی کاہم سب کواچھی طرح اندازہ ہے لیکن پھربھی اگرکسی کوکہیں ۔توجواب ملتاہے کہ ہم احتجاج اورمظاہروں کے سوا اور کربھی کیاسکتے ہیں۔؟ اپنے ہاتھوں سے دوسروں کوتکلیف ومشقت میں ڈالنایہ کوئی جہاد و ثواب نہیں۔آپ اگرفلسطین اور کشمیرکے مظلوم مسلمانوں کو ظالموں کے چنگل سے آزادنہیں کرا سکتے تو خدارا۔ خدارا۔ پھر اپنے ملک کے اندر اپنے ہی مسلمان بھائیوں، مائوں اور بہنوں کوبھی تکلیف ومشقت میں نہ ڈالیں۔اپنے بالوں پر انڈین مارکہ شیمپو اور کلرز لگا کربھارت اورہاتھوں میں پیپسی وکوک کی بوتلیں پکڑکراسرائیل کے خلاف احتجاج ومظاہرے کرنایہ کوئی غیرت نہیں۔غیرت یہ ہے کہ ہم سب کشمیراورفلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی محبت میں بھارت سمیت ان تمام مسلمان دشمن ممالک کی ہرقسم پراڈکٹ کامکمل طورپربائیکاٹ کر دیں۔ کشمیری وفلسطینی مائوں،بہنوں،بیٹیوں اورمعصوم بچوں کے جسموں میں پیوست ہونے والی گولیوں، راکٹ لانچروں اوربموں کی قیمت ہم یہودیوں کی پراڈکٹ خریدکرخوداداکررہے ہیں اورپھراحتجاج اسرائیل وبھارت کے خلاف کررہے ہیں۔اس احتجاج اورہڑتال کاحق توسب سے پہلے ہمارے جیسے ’’بے حس ومردہ ضمیرلوگوں‘‘ کے خلاف کرنے کابنتاہے جن کے پیسوں سے فلسطین اورکشمیرکے مسلمانوں پربرسانے کے لئے اسلحہ خریدا جاتا ہے۔ ہم اگرہاتھ سے اسرائیل کامقابلہ نہیں کرسکتے تویہودیوں کے ہاتھوں اورکمپنیوںکی بنائی گئی اشیاء پرلعنت بھیج کرامت مسلمہ کے ان دشمنوں کومعاشی طور پر کمزور توکرسکتے ہیں۔جب تک اسرائیل ،بھارت اور یہود نوازقوتیں معاشی طورپرکمزورنہیں ہوں گی اس وقت تک کشمیرسے لیکر عراق، افغانستان سے لیکرلیبیااوربرماسے لیکر فلسطین تک ہمارے مسلمان بھائی اسی طرح ظلم وستم کانشانہ بنتے رہیں گے۔ ماناکہ اپنی مائوں،بہنوں،بیٹیوں اور بھائیوں کی لاشوں پرآنسوبہانا،چیخنااورچلانامحبت ویکجہتی کی بہت بڑی نشانی ہے لیکن انتہائی معذرت کے ساتھ غیرت مندلوگ دشمن کے سامنے صرف آنسونہیں بہایاکرتے۔اپنے مظلوم مسلمانوں کی مددکے لئے اسرائیل اورکشمیرجانااگرہمارے لئے مشکل ہے تویہاں بیٹھ کریہودنوازممالک کی پراڈکٹ کے ذریعے اپنے ان دشمنوں کی جڑیں کاٹناتوہمارے لئے کوئی مشکل نہیں۔پھریہ جوکام ہمارے کرنے کے ہیں وہ ہم کیوں نہیں کرتے۔ہم کسی ماں ،کسی بہن،کسی بیٹی،کسی بھائی،کسی بیمار اور کسی بزرگ کوکوئی تکلیف دیئے بغیرمظلوم فلسطینیوں اورکشمیریوں سے اظہاریکجہتی کے لئے احتجاج بھی کریں،مظاہرے بھی کریں،جلسے بھی کریں ،جلوس بھی نکالیں کیونکہ پرامن احتجاج ہماراحق ہے اوراس حق کے استعمال سے ہمیںکوئی نہیں روک سکتا لیکن خداکیلئے اس احتجاج سے پہلے ہمیںاپنے ان ہاتھوں میں پکڑی یہودیوں کی بنائی گئیں یہ تمام پراڈکٹ بھی اپنے سے دور بہت دور پھینکنا ہونگی۔آپ یقین کریں جس دن ہم نے یہودوہنودکی پراڈکٹ پرلعنت بھیج کراس سے اپنے ہاتھ پیچھے کھینچ لئے اس دن سے نہ صرف فلسطین اور کشمیربلکہ عراق،برمااورلیبیا سمیت یہودوہنود کے زیراثردیگرمسلم ممالک میں بھی مسلمانوں پرگولیوں کی یہ تھرتھراہٹ اوربارش ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بندو ختم ہوجائے گی ۔لیکن ۔اگرہم عملی طور پر یہودو ہنود کے ان پراڈکٹ کابائیکاٹ نہیں کرتے توپھرہمیں پیپسی اورکوک کی ایک یخ وٹھنڈی گھونٹ لیکرنہ صرف اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے بلکہ اپنے ضمیرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے خودسے یہ سوال بھی ضرور کرنا چاہئے کہ وہ یہ ’’کشمیر اور فلسطین آزادکریں گے‘‘۔۔؟
