Input your search keywords and press Enter.

مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے فلسطین کی طرح موثر سفارتی مشن کی ضرورت ہے،راجہ نجابت

 جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چیئرمین راجہ نجابت حسین اور یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے صدر عبید الرحمٰن قریشی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے لیے فلسطین کی طرح ایک بھرپور اور مؤثر سفارتی مشن کی ضرورت ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی مسئلہ فلسطین کے لیے سفارتی مشن سے کامیاب واپسی خوش آئند ہے، ہم انہیں اس کامیاب مشن پر مبارکباد پیش کرتے ہیں لیکن پاکستان کے وزیر خارجہ کو مسئلہ کشمیر کے لیے اس سے زیادہ مؤثر اور مضبوط انداز میں سفارتی مشن پر کام کرنا چاہیے، مسئلہ فلسطین مڈل ایسٹ اور امت مسلمہ کا بڑا مسئلہ ہے لیکن کشمیر پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے اور کشمیری پاکستان سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اسی طرز پر مؤثر اور بھرپور کوششوں کی توقع رکھتے ہیں، آج فلسطین اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور عالمی دباؤ نے ثابت کیا ہے کہ نیک نیتی سے سفارتی کوششوں کو دنیا بھر میں اہمیت دی جاتی ہے، اس وقت بھارت کو اس کے اقدامات سے باز رکھنے کے لیے عالمی برادری کو باور کرانے کے لیے فلسطین طرز کے سفارتی مشن کی ضرورت ہے، پاکستان ترکی، ملائیشیا سمیت دنیا کے دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کو ساتھ ملا کر سفارتی کشمیر مشن شروع کرے۔ اس مشن میں امریکہ، روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور دیگر ممالک کے دورے کئے جائیں، عالمی برادری پر اس مشن کا ناقابلِ فراموش اثر ہو گا۔ ان خیالات کا اظہار جموں وکشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل کے چئیرمن راجہ نجابت حسین اور یوتھ پارلیمنٹ آف پاکستان کے صدر عبید الرحمن قریشی نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے سفارتی فلسطین مشن سے واپسی پر اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ 70 برس سےمظلوم کشمیری عوام کی امیدیں پاکستان سے وابستہ ہیں۔ مظلوم کشمیری بھی پاکستان کے وزیر خارجہ سے یہی توقع رکھتے ہیں جو کردار انہوں نے فلسطین کے لیے ادا کیا ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کا بنیادی فریق ہے اس لیے اس کی اولین ذمہ داری کشمیر اور کشمیریوں کو بھارتی تسلط سے نجات دلانا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے