جنوبی کشمیر سے جموں کشمیر پولیس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک لیڈر کو دو نوجوانوں کی پولیس حراست سے رہائی کے بدلے روپئے وصولنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
دو نوجوانوں کی رہائی کے بدلے اہل خانہ کے ساتھ بی جے پی سرپنچ کی ایسی گھٹیا حرکت، گرفتارجنوبی کشمیر سے جموں کشمیر پولیس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک لیڈر کو دو نوجوانوں کی پولیس حراست سے رہائی کے بدلے روپئے وصولنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔
جموں کشمیر: جنوبی کشمیر سے جموں کشمیر پولیس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک لیڈر کو دو نوجوانوں کی پولیس حراست سے رہائی کے بدلے روپئے وصولنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ مزکورہ لیڈر کی پہچان نثار احمد خان ساکن گوپالپورہ اننت ناگ کے طور پر ہوئی ہے اور یہ لیڈر بھارتیہ جنتا پارٹی کا سرپنچ بھی ہے۔تفصیلات کے مطابق سرپنچ کو دو کنبوں سے دھوکہ دہی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے جب اس نے مبینہ طور پر ملیٹینسی سے متعلق ایک معاملے میں پوچھ گچھ کے الزام میں پولیس کی جانب سے تحویل میں لۓ دو افراد کے اہل خانہ سے 1.1 لاکھ روپے حاصل کۓ۔
پولیس کے مطابق اننت ناگ کے علاقے کوکرناگ سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو پولیس نے ملیٹینسی کے معاملات سے منسلک ایک کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں تھانے طلب کیا تھا اور اس دوران دونوں نوجوانوں کے اہل خانہ نے اننت ناگ کے علاقے کاڈی پورہ کے عارضی رہائشی ، بی جے پی سرپنچ ، نثار احمد خان سے رابطہ کیا۔ پولیس کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس سرپنچ نے اہل خانہ سے دونوں افراد کی رہائی کے بدلے بھاری رقم کا تقاضہ کیا جسکے بعد ہی وہ سفارش کی بنیاد پر دونوں نوجوانوں کی رہائ کو یقینی بنائیں گا۔”
تفتیش کے دوران ، پولیس کو معلوم ہوا کہ دونوں نوجوان ملیٹینسی کے معاملات میں ملوث نہیں تھے جس کے بعد دونوں کو رہا کردیا گیا تھا۔ تفتیش کے دوران ، یہ بھی پتہ چلا کہ ان خاندانوں نے گوپال پورہ کے علاقے سے تعلق رکھنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرپنچ رہنے والے نثار احمد خان کو رقم دی تھی۔
پولیس نے بی جے پی لیڈر کی جانب سے دھوکہ دہی کے تحت دو کنمبوں سے روپے وصولنے کے خلاف باضابطہ طور پر، "ایف آئی آر نمبر 238/2021 کے تحت ملزم کے خلاف پولیس اسٹیشن اننت ناگ میں دفعہ 420 آئی پی سی (دھوکہ دہی اور بے ایمانی) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور ملزم سے دھوکہ کے دوران وصولی گئ رقم کو بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
