Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی تک بھارت سے بات چیت ممکن نہیں: وزیراعظم عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسلام کو شدت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑنے کی وجہ سے اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس لے۔

اسلام آباد: عمران خان نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کی پرانی حثیت بحالی کرنے تک بھارت سے بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کے دورے پر موجود تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے خطہ کی مجموعی صورتحال پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت تعلقات کافی عرصہ سے تعطل کا شکار ہیں جسکی وجہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ جب تک بھارت 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس نہیں لیتا اس وقت تک کسی قسم کی تجارت اور مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔

وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں دہشت گردی اور انتشار بڑھنے سے پاکستان اور تاجکستان کی تجارت متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان اور تاجکستان کے لئے خطرہ ہیں، اس سے دہشت گردی کو مزید فروغ ملے گا۔ گوادر بندرگاہ کے ذریعے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت ممکن ہو گی اس سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔

اس موقع پر وزیر اعظم نے اسلاموفوبیا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آزادی اظہار رائے کو ڈھال بنا کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کی جاتی ہے۔ اسلام در حقیقت عالمگیر مذہب ہے جو امن کا داعی ہے۔ بدقسمتی سے اسلام مخالف قوتیں اسلام کو شدت پسندی سے جوڑتی ہیں اسی وجہ سے اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے