Input your search keywords and press Enter.

کشمیریوں کی جہد آزادی……قسط 6

S.Mعبداللہ نے ذاتی طور پرخطرہ مول لیتے ہوئے سول نافرمانی کی تحریک کو معطل کیا اور اپنے آپ کو کشمیر میں جاری احتجاج سے علیحدہ کر لیا اور سری نگر کشمیر میں کسی جلسے جلوس میں نہ ہی شرکت کی اور نہ ہی خطاب کیا۔کشمیرمیں مقامی لوگوں کو جیل بھیجنے کی مشق جاری تھی۔تاہم ستمبر1934میں ہونے والے الیکشن میں جموں و کشمیر مسلم کانفرنس نے33میں سے14 نشستیں جیت لی اور دوسری بڑی اپوزیشن جماعت بن کے ابھری۔مسلم کانفرنس نے شیخ عبداللہ پر آزاد خیال(Liberals)کے ساتھ گٹھ جوڑ کا الزام لگایا تو اس نے سیاست سے کنارہ کش ہونے کا اعلان کر دیا اور انگریز نمائندے سے کہا کہ اسے انگلینڈ میں مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے حکومت سے گرانٹ کے حصول میں مدد دی جائے۔دوسرے مسلمانوں کی طرح محمد علی جناح نے بھی کہا’’عبداللہ کی بڑی فتح ابھی باقی ہے‘‘۔کشمیر کے انقلاب آزادی سے کشمیری مسلمانوں کو اپنا وقت،دولت اور زندگیاں کھو کر صرف معمولی سی مذہبی آزادی،سرکاری ملازمتوں میں تھوڑے سے مزید مواقع،قانون ساز اسمبلی میں چند مخصوص نشستیں اور دیہاتوں میں ٹیکس وصولی کے بوجھ میں معمولی سی رعایت مل سکی لیکن اس کے علاوہ کچھ دوسرے فائدہ بھی تھے جن کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا مثلاً شعوری برداشت اور مسلمان قومیت کا اعتماد وغیرہ۔کشمیری مسلمانوں نے سیاسی طاقت کا مزہ بھی چکھا اور اس کے حصول کیلئے احتجاج بھی کیا گیا۔اس انقلاب آزادی نے ڈوگرہ راج کو گہنا دیا یہ بات ثابت ہو گئی تھی۔14سال سے بھی کم عرصے میں اکتوبر1947یںمیں مہاراجہ ہری سنگھ نے معمولی پس و پیش بعد انڈین یونین سے علیحدہ خود مختاری مان لی۔شیخ عبداللہ کی سربراہی میں ایک معروف انتظامیہ کو حوالگی کے بعد اپنی وراثتی طاقت سے دستبردار ہونا پڑا۔کشمیر کی آزادی کی جدو جہد سے ایک نمایاں فائدہ یہ ہوا تھا۔مارچ1935میں مہاراجہ کو حکومت کی بھاگ دوڑ حوالے کرنے سے پہلےColvinحکومت نے برطانوی حکومت ہند کو گلگت کے صوبے کی60سال کیلئے گروی(Lease)دے دی تھی۔دوسری طرف ایک مذہبی اقلیت نے کوششیں کرکے لوگوں کوConvertکیا لیکن مرزا محمود کی توقع سے یہ تعداد بہت کم تھی بلکہ ناکافی تھی۔جب انہوں نے کشمیر میں مداخلت کی تو انہیں ایسا لگا کہ عبداللہ اور حمدانی کے ساتھیوں نے قادیانیوں کی قیادت کے بارے میں جو پروپیگنڈا کیا تھا اسکی تلافی کی جائے گی مزید یہ کے انکے کشمیر میں کردار نے ہمدردی پائی اور پنجاب گورنمنٹ کےProceationکے محکمے نے احرار کو تبلیغی کانفرنس احمدیہ مرکز کے قریب منعقد کرنے سے روک دیا۔احرار کو بھی کشمیری تحریک میں حصہ ڈالنے سے متوقع نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے کوئی بھی کشمیر میں مستقل اور موثرحمایت حاصل نہ کی۔درحقیقت انکی مختصر مدد کی مقبولیت جلد ہی ختم ہو گئی جب مسلکی پیروکاروں نے مسجد شہید گنج تنازع میں حصہ لیا۔برطانوی حکومت ہند میں ہونے والے1937کے الیکشن میں انکی کارکردگی مایوس کن تھی۔Unionistپارٹی نے متذکرہ الیکشن میں95سیٹیں جیت لیں۔اس مقابلے میں مجلس احرار صرف دو سیٹیں جیت سکی۔کشمیر کی جہد آزادی نے برطانوی پنجاب اور نوابی ریاستوں پر برے نتائج ظاہر کئے۔انکی جدوجہد سے متاثر ہو کر انکے ہم مذہبوں نے راجھستان کی ریاست بھرت پور کی حکومتی دربار کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے،اسی طرح چھوٹے پیمانے پر کپور،تھلاجنڈ اور بہاولپور میں تحریکیں شروع ہو گئیں۔تاہم کشمیر کی تحریک سے سبق حاصل کرنے والے صرف مسلمان ہی نہ تھے۔اس واقعے1933تا1934سے دیکھا گیا کہ بڑی نوابی ریاستیں بھی بیرون مداخلت سے کمزور و گئیں اور کانگرس نے ذہن بنا لیا کہ1933میں پرانی چلی آ رہی نوابی ریاستوں نےعدم مداخلت سے بازیافت کر لی اور ان سے کہا گیا کہ آپ آل انڈیا فیڈریشن میں شمولیت سے پہلے اپنے ہاں ذمہ دار حکومتوں کا قیام عمل میں لائیں۔بیک وقت ہندو محاسبہ نے مسلمان حاکموں کی ریاستوں میں احتجاج شروع کر دیا انہوں نے حیدر آباد ریاست کے خلاف بہت بڑی جتھ بندی مرکزی صوبوں اور ممبئی سے شروع کردی۔یہ بات بہت واضع ہوئی کہ کشمیر کی جہد آزادی نے بے پناہ اثر ڈالا لیکن کیا اس میں مذہب کی کوئی اہمیت تھی؟ اور بطور خاص ہمیں پتہ چلتا ہے سیاسی تحریکوں میں مذہب کا کردار بہت اہم تھا۔

(جاری ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے