Input your search keywords and press Enter.

بھارت کو مذاکرات کی نئی پیشکش، مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا روڈ میپ ہی دیدیا جائے تو ہمیں قبول ہوگا، برصغیر میں ایک دوسرے کیساتھ تجارت سے ہی غربت کم ہوگی: عمران خان

بھارت کو مذاکرات کی نئی پیشکش، مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا روڈ میپ ہی دیدیا جائے تو ہمیں قبول ہوگا، برصغیر میں ایک دوسرے کیساتھ تجارت سے ہی غربت کم ہوگی: عمران خاندنیا اخبار
اپنے آپ کو جمہوری کہنے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ فوج کو کہتی ہے حکومت گرادو: وزیراعظم ، بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصو صی حیثیت ختم کر کے ریڈ لائن پار کی، ہمیشہ کھلے اور مہذبانہ تعلقات کا حامی رہا ، مذاکرات کیلئے انہیں ہمارے پاس آنا ہوگا: وزیراعظم ، افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ کم کرنے کیلئے سیاسی تصفیے کی کوششیں کررہے :انٹرویو،یہ تاثر دیا گیا کہ بٹن دبانے سے نیا پاکستان بن جائیگا:خطاب، ایم کیو ایم وفدکی ملاقات

لاہور(رائٹرز) وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو مذاکرات کی نئی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی پرانی حیثیت بحال کرنے کا روڈ میپ ہی دے دیتی ہے تو ہمیں قبول ہوگا اور پاکستان مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے تیار ہے ۔ برطانی خبر رساں ادارے رائٹرز کو انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر بھارتی حکومت صرف منصوبہ پیش کرے کہ وہ اگست 2019 کے فیصلے کو ختم کرنے کیلئے فلاں فلاں اقدامات کرے گی تو بات چیت کی بحالی کیلئے یہ منصوبہ بھی قابل قبول ہے حالانکہ بھارتی اقدام عالمی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے خلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بھارت کیساتھ ہمیشہ سے مہذبانہ اور کھلے دل سے تعلقات کے خواہاں رہے ہیں۔ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ اگر آپ برصغیر میں غربت کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کیلئے بہترین راستہ ایک دوسرے کیساتھ تجارت ہے ، اس سلسلے میں انہوں نے یورپی یونین کی مثال دی۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کرکے ’’ریڈ لائن ‘‘پار کی تھی، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کیلئے انہیں خود ہمارے پاس آنا ہوگا جبکہ اس وقت تک بھارت کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا،اٖفغانستان کے ذکر پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ غیر ملکی فوجی انخلا سے قبل افغانستان میں خانہ جنگی کا خطرہ کم کرنے کیلئے پاکستان سیاسی تصفیے کی کوششیں کر رہا ہے ، افغانستان کے حوالے سے اس وقت پاکستان میں بھی کافی خوف پایا جاتا ہے ۔ امریکا کی جانب سے انخلا کی تاریخ دینے کے بعد طالبان کو لگتا ہے کہ وہ جنگ جیت چکے ہیں، امریکی فیصلے کے بعد طالبان سے رعایتیں حاصل کرنا آسان نہیں، اگر خانہ جنگی اور اس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کا بحران پیدا ہوتا ہے تو افغانستان کے بعد سب سے زیادہ متاثر پاکستان ہو گا، جس سے ہم پر دباؤ بنے گا کہ ہم بھی اس کا حصہ بن جائیں، انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دوست حکومت یقینی بنانے کیلئے اسلام آباد نے سٹریٹجک گہرائی کی عشروں پرانی پالیسی تبدیل کر دی ہے ، کوئی بھی افغان حکومت جسے وہاں کے عوام منتخب کریں، اسی سے پاکستان کو ڈیل کرنا ہے ، افغانستان میں چھیڑ چھاڑ کی کوئی کوشش نہیں ہونی چاہیے ۔ افغانستان کو مزید خونریزی سے بچانے کیلئے پاک افغان تعاون سے واضح سیاسی تصفیہ تیار کرنے کی زیادہ ذمہ داری امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد پر عائد ہوتی ہے ۔ اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو جمہوری کہنے والی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ فوج کو کہتی ہے کہ حکومت گرادو ، ان کی جنگ ذاتی مفادات کی جنگ ہے ،ان کے اربوں ڈالر باہر پڑے ہیں، ان کی ساری چوریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح حکومت گرادیں ۔ لودھرا ں تا ملتان شاہراہ کی اپ گریڈیشن و بحالی کے منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا گزشتہ ادوار سے ہم نے تین گنا زیادہ سڑکیں بنائی ہیں۔ جب ہماری حکومت آئی تو پہلے ہفتہ ہی یہ سوال اٹھانا شروع ہو گئے کہ کہاں ہے نیا پاکستان اور حکومت کی ناکامی کی باتیں شروع ہو گئیں، ہم نے اڑھائی سال بڑے صبر سے گزارے ، اپوزیشن کے بارے میں علم تھاکہ این آ ر او ملنے تک تنقید جاری رکھے گی، میڈیا میں بھی ہمارے اوپرتنقید ہو رہی تھی،یہ بہت مشکل وقت تھا جس سے گزرنا پڑا، ہر روز ہم پر تنقید کی جاتی تھی، میڈیا نے یہ تاثر دیا تھاکہ کوئی بٹن دبانے سے نیا پاکستان بن جائے گا۔ تبدیلی جدوجہد سے آتی ہے ، بغیر جدوجہد کوئی معاشرہ تبدیل نہیں ہوتا، وہ نظام جس میں لوگوں نے اپنے مفاد کے لئے پنجے گاڑ لئے ہوں اس کو جدوجہد کے بغیر تبدیل کرنا ممکن نہیں، انگریزوں کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد ہمیں آزادی ملی، قائد اعظم کی جدوجہد کو دیکھیں تو اس میں بھی نشیب و فراز آتے رہے ، ایک وقت وہ دلبرداشتہ ہو کر برطانیہ چلے گئے ۔ وزیراعظم نے کہا مافیا سے آزادی یا نظام کی تبدیلی کے لئے جدوجہد کی جاتی ہے ، 1947 کے بعد پاکستان کا نظام بدلنے اور مافیا سے آزادی کے لئے یہ بڑی جدوجہد ہے ، اس دوران مافیاحکومت کی ناکامی کے لئے کوشاں ہے ، سارے خوشحال ممالک میں قانون کی حکمرانی ہے ، وہاں کوئی قبضہ مافیا، چینی مافیا اور سیاسی مافیا نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود شرح نمو 4 فیصد رہی ، بھارت ہمارے مقابلے میں معاشی اعتبار سے بہتر تھا اس کا روپیہ مستحکم تھا ، اس کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم تھے لیکن ا س کے مقابلہ میں ہم اپنے لوگوں اورمعیشت کو بچانے میں کامیاب رہے ۔ پاکستان مشکل وقت سے نکل گیا ہے ۔ 1960 کی دہائی میں پاکستان ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت تھا، پھر سے ہم اسی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، صنعت اور زراعت کو ترقی دی جارہی ہے ۔ زرعی فصلیں تاریخ کی بلندترین سطح پر ہیں، کسانوں کو گنے کی قیمت کی ادائیگی بروقت کرانے سے گنے کی ریکارڈ پیداوار ہوئی ۔ چین کے ساتھ سی پیک کے دوسرے فیز میں صنعت لگ رہی ہے ،آئی ٹی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے ۔ پاکستان کی کثیر آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ۔ 20 سال پہلے اس شعبہ میں جو کام کرنا چاہیے تھا وہ اب ہم کررہے ہیں۔ ملک میں 10 بڑے ڈیم بنا رے ہیں۔ آنے والی نسلوں کو عالمی حدت سے نکالنے کے لئے 10 ارب درخت اور قومی پارکس بنا رہے ہیں۔ پاکستان سے مشکل وقت گزر گیا ہے ۔ اب معیشت کی ترقی، دولت بڑھانے اور روزگار کی فراہمی کا وقت ہے ۔ تعمیراتی شعبہ سے 30 صنعتیں وابستہ ہیں۔ آنے والے دنوں میں قوم کو مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کسی کے وہم و گمان میں نہیں تھا کہ جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ ترقیاتی پروگرام رکھا جائے گا۔ جنوبی پنجاب صوبہ بننے سے سیاسی استحکام ہوگا۔اس موقع پر وفاقی وزیرمواصلات مراد سعید کا کہنا تھا کہ ڈھائی سال میں 1753 کلو میٹر سڑک کے منصوبے مکمل کیے ، 6 موٹر ویز کے منصوبے اس سال شروع ہو جائیں گے ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے اپنے ٹویٹ میں کہا معاشی استحکام حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ اب اسلام آباد کو ایک مثالی شہر بنانے کا وقت آ چکا ہے ، اس مقصد کیلئے اصلاحات اور تنظیم نو ترجیح ہوگی۔پاکستان بدل رہا ہے ، ہماری اقتصادی بہتری اور تعمیراتی پالیسی کی کامیابی کے نتائج مختلف شعبوں میں نظر آ رہے ہیں ۔ 2017 میں سی ڈی اے کو 5 ارب 80 کروڑ روپے کے خسار ے کا سامنا تھا اور ادارہ دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن رواں مالی سال کے اختتام پر سی ڈی اے کے پاس 73 ارب روپے فاضل ہوئے جبکہ 26 ارب روپے پہلے ہی اکائونٹس میں موجود ہیں، ویل ڈن !ٹیم سی ڈی اے ۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے ماحولیات کے حوالے سے ورچوئل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل ہے کہ وہ ماحولیاتی تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے کردار ادا کرے ، عالمی برادری ماحول اور ایکو نظام کے تحفظ کیلئے اجتماعی کردار ادا کرے ۔ انہوں نے کہا پاکستان 10 ارب درخت لگانے کے منصوبے کے تحت ایک ارب درخت لگانے کا ہدف حاصل کر چکا ہے ۔ ہم 9 قومی پارک بنانے جا رہے ہیں یہ پارک بنانے کا مقصد جنگلات کو بڑھانا، درختوں کی حفاظت اور جنگلی حیات کو تحفظ دینا ہے ۔ مینگرووز آکسیجن کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں، ہم مینگرووز جنگلات کے رقبے کو بڑھانے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔ پانی کی سطح کو بلند کرنے کیلئے اپنی آب گاہوں کو بحال کرنے کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں، ہم نے ماحولیاتی اقدامات سے 80 ہزار گرین روزگار کے مواقع پیدا کئے ، دیہی خواتین اور نوجوانوں کو اس سے روزگار ملا۔ دوسری جانب وزیر اعظم سے ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کی،وفد میں امین الحق، فیصل سبزواری، خالد مقبول صدیقی، جاوید حنیف، عامر خان، وسیم اختر اور کنور نوید جمیل شامل تھے ،گورنر سندھ عمران اسمعیل بھی ملاقات میں موجود تھے ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا وفاقی حکومت سندھ کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کے حوالے سے پہلے بھی اپنا ہر ممکن کردار ادا کر رہی ہے اور مستقبل میں بھی کرتی رہے گی،آئندہ بجٹ کی تیاری کے دوران کراچی اور حیدرآباد کی ترقیاتی ضروریات پر غور کیا جائے گا۔ کراچی ملک کا معاشی مرکز ہے ۔ کراچی کی ترقی ملک کی ترقی ہے ۔وزیر اعظم سے مختلف حکومتی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے ملاقات کی جن میں محمد شفیق آرائیں، نواب امان اللّہ خان، ڈاکٹر شیر محمد اعوان، ملک آصف اعوان، رانا شہزاد انور، میاں سلیم رضا، ملک عبدالمجید آرائیں، محمد نواز، محمد ریاض، عفت طاہرہ سومرو، آسیہ بی بی، محمد فیاض آرائیں،ملک فراز ، شُنیلا روتھ، نصرت واحد، ریاض فتیانہ ، غلام بی بی بھروانہ، عبدالشکور شاد، مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی، پرنس نواز الائی، عبدالغفار وٹو، مخدوم باسط بخاری، جعفر خان لغاری، رکن صوبائی اسمبلی ملک شہزاد اور مینا لغاری شامل تھے ۔اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا حکومت کی بہتر معاشی و اقتصادی پالیسیوں کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں ، آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں عام آدمی کا بھرپور خیال رکھا جائے گا۔ وزیراعظم سے وفاقی وزیر اقتصادی امور ڈویژن عمر ایوب خان، اکبر ایوب خان، ارشد ایوب خان اور یوسف ایوب خان نے بھی ملاقات کی۔ وزیرِ اعظم نے ہری پور میں سیاحت کے فروغ، کم لاگت رہائش کی فراہمی اور ڈیجیٹل سٹی کے قیام کیلئے منصوبوں کی تجاویز کو سراہا اور جاری منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے