مسئلہ کشمیر اور فلسطین کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہیں۔ بد قسمتی سے کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد بھی مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا حل نہ نکالا جا سکا۔فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کا آغاز 1948 سے ہوا تھا۔جو کہ تا حال جاری ہے۔جس کے بعد لاکھوں فلسطینیوں کو شہید کیا جاچکا ہے۔اسرائیلی مظالم کا اگر تذکرہ کیا جائے تو لکھنے والا قلم بھی کانپ اٹھے۔اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کی نسل کشی کے لئے مختلف حربے استعمال کیے۔ اسرائیلی جنرل موشے نے فلسطینیوں کا قتل عام کرنے اور آبادی کا تناسب کم کرنیکے لئیتائپس نامی مواد پانی کی پائب لائنوں میں ملایا،جس سے کئی فلسطینی آہستہ آہستہ کرتے موت کے منہ میں چلے گئے۔ فلسطینیوں پر اسرائیلی حملوں کی ایک طویل فہرست موجود ہے جس پر پوری کتاب لکھی جا سکتی ہے فلسطینی جوانوں کی جانب سے شروع کی جانے والی تحریک کو دبانے کے لیے کیمیائی مواد کا استعمال بھی کیا۔جس کے استعمال کے بعد سانس بند ہونے لگتی ہیاور انسان قے کرتے کرتے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی مظالم میں دن بدن اضافہ ہو تا گیا ۔اور اسرائیل نے غزہ سمیت نابلس اور دیگر شہروں میں مہلک اور کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال بھی کیا۔پوری دنیا اس بات سے باخبر ہے کہ اسرائیل مشرقی وسطی میں کیمیائی ہتھیاروں کی سب سے زیادہ پیدوار بھی کر رہا ہے اور بھارت اسرائیل کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔بھارتی فوج نے بھی کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لئے کشمیریوں کے خلاف اسرائیلی طرز کے آپریشن کیے۔کشمیریوں کے خلاف بھارتی فوج نے کیمیائی مواد کا استعمال بھی کیا۔ کیمیکل مواد کا استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں کو گھروں میں زندہ جلانا بھارتی فوج کا معمول بن چکا ہے۔کشمیریوں کی لاشوں کو کیمیکل کے ذریعے مسخ کیا جارہا ہے۔بھارتی فوج نے پیلٹ جیسی گن کا استعمال بھی کشمیریوں پر کھل کر کیا۔اسرائیلی فوج اور بھارتی فوج کے مظالم دنیا سے ڈھکے چھپے نہیں۔لیکن کئی دہائیوں سے دنیا مقبوضہ کشمیر میں مظالم پر خاموش تماشائی بنی ہے۔جبکہ دنیا میں مظالم رکوانے کی دعویداراقوام متحدہ کی خاموشی نے اسرائیلی اور بھارتی فوج کو تھپکی دینے کا کردار ادا کیا۔دنیا میں مسلم ممالک بھی محض مذمت تک محدود رہے۔جس سے فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔امت مسلمہ کو مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر مذمت سے آگئے نکل کر کردار ادا کرنا ہوگا مسلم ممالکوں کے سوئے ہوئے ضمیر کو جگانا ہو گا۔کشمیری اور فلسطینی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزرنے کے باوجود تاریخ رقم کر رہے ہیں۔مگر اگر مسلم ممالک نے اس میں عملی کردار ادا نہ کیا تو تاریخ میں ہم صرف دعا کرنے والے ممالک کے طور پر جاننے جائے گئے۔بانی پاکستان نے کشمیر کو اقتصادی شہ رگ قرار دے کر پاکستان کے لیے کشمیر کی آزادی کی اہمیت کو واضع کر دیا تھا جس طرح تقسیم برصغیر سے قبل سے بانی پاکستانؒ نے پالیسی بیان دیا تھا کہ ہمارے لئے آزادی محض زمین کے ٹکڑے کا حصول نہیں بلکہ ہم ایسے خطے کے خواہش مند ہیں جہاں مسلمان آزادانہ ماحول میں اپنی سیاسی ‘ معاشرتی ‘معاشی اور مذہبی آزادی کی شمع فروزاں رکھ سکیں۔ قیام پاکستان اور تکمیل پاکستان کے لیے کشمیر کا حصول ناگزیر ہے۔ 14 اگست 1947 ء فوری بعد فوج کا انگریز کمانڈر بانی پاکستان کے فرمان کی حکم عدولی نہ کرتا تو آج کشمیر کا نقشہ کچھ اور ہوتا!فلسطین اور مقبوضہ کشمیر کی حالت اقوام عالم کی بے حسی‘ عدم دلچسپی اور تعصب کا پتہ دے رہی ہے۔
کشمیر اور فلسطین پر خاموش عالمی ضمیر
