Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کا تنازع، حقائق کی روشنی میں قسط۔ 6

2: لوگوں میں اس بات کی دھاک بٹھا نا کہ برطانوی افسر، خاص کر پولیٹیکل ایجنٹ، آسمان سے اتری مخلوق ہے جو اس علاقے کے لوگوں کی کسی بھی بھوت پریت کے خلاف حفاظت کر سکتا ہے۔ اس کی بات ہر حال میں سنی جائے اور اس کا کہا اسی طرح مانا جائے جیسے خدا کا حکم مانا جاتا ہے

3: پولیٹیکل اضلاع کے لوگوں اور مقامی حکمرانوں سے کشادہ دلی سے منصفانہ اور فیاضانہ سلوک روا رکھا جائے۔ ان کے معاملات میں کم سے کم مداخلت کی جائے اور (برطانوی حاکموں پر ) ان کے اعتماد پر آنچ نہ آنے دی جائے۔

یہ حکمت عملی، ڈوگرہ صوبے داروں کے آمرانہ، ظالمانہ اور متشدد رویے کے مقابلے میں زیادہ کار گر ثابت ہوئی اور لوگوں کو برطانوی سرکار کے خلاف مزاحمت یا بغاوت سے باز رکھنے میں کامیاب رہی اور اس طرح وہاں کے حالات کافی حد تک پر سکون ہو گئے (ای ایف نائٹ۔ برطانوی صحافی نمائندہ ٹائمزلنڈن 1893 / 1991، 285 ) ) ۔ جب سے گلگت ایجنسی دوبارہ سے قائم کی گئی تھی، ریاست کشمیر کے حکام اور فوج بدستور وہاں موجود رہے اور امور ریاست کے بارے میں ان کی انگریزوں سے رقابت جاری رہی، جس کا گاہے بگاہے برملا اظہار بھی ہوتا رہا۔

یہ دہرا اقتدار آخر کار عملداری کے ضمن میں علاقوں کی تقسیم کا سبب بنا۔ گلگت وزارت جس میں تحصیل گلگت یعنی گلگت شہر، پونجی اور استور شامل تھے، براہ راست ریاست کشمیر کی عملداری میں رہے اور دوسرے علاقے (ہنزہ اور نگر) بالواسطہ برطانوی راج کے تحت رہے۔ گورنر (صوبہ دار) اور پولیٹیکل ایجنٹ کے درمیان اختیارات سے متعلق کھینچا تانی بہر حال جاری رہی۔ ایک وقت میں اختلافات اس حد تک بڑھے کہ جب انڈین ایکٹ 1935 ء منظر عام پر آیا تو یہ سؤال پیدا ہوا (یا برطانوی شہ پر پیدا کیا گیا) کہ کیا یہ علاقے آزادانہ حیثیت میں فیڈریشن میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں یا انہیں ریاست جموں و کشمیر کا حصہ سمجھا جائے ﴿سوک فیلڈ (Sokefeld 1997 b، 261۔ 62 ) ﴾۔ لیکن جب تاج برطانیہ نے خود ہی گلگت وزارت

کو ساٹھ سال کے لئے ریاست جموں وکشمیر سے پٹے پر لینے کی درخواست کی اور معاہدہ بھی کر لیا جس میں یہ اقرار کیا گیا کہ محروسہ (پٹے پر لیے گئے) علاقے ہز ہائی نس مہاراجہ بہادر جموں و کشمیر کی حدود کے اندر شامل ہیں، تو ان علاقوں کی اصل حیثیت خود بخود آشکار ہو گئی۔

عہد نامہ برائے گلگت ایجنسی 26 مارچ 1935 ء

یہ عہد نامہ مہاراجہ ہری سنگھ، والی ریاست جموں و کشمیر اور ایف ایف تھامس، وائسرائے اور گورنر جنرل ہند کے درمیان طے ہوا اور اس پر مہاراجہ ہری سنگھ، برطانوی راج کی طرف سے کرنل ایل ای لینگ (Col۔ L E Lang) اور ایچ آر مٹکاف (H R Mecalfe) فارن سیکریٹری ہند، ایچ آئے ایف مٹکاف کے دستخط ثبت ہیں۔

دفعہ اول:وائسرائے، گورنر جنرل ہند کو اختیار ہو گا کہ وہ اس معاہدہ کے بعد ، ریاست جموں و کشمیر کی وزارت صوبہ گلگت کا دریائے سندھ کے پار کا وہ علاقہ جو اس کی تحویل میں دیا جائے گا، کا ملکی اور فوجی انتظام اپنے ہاتھ میں لے لے، لیکن یہ علاقے بدستور ریاست کی حدود میں شامل رہیں گے۔

دفعہ دوم: یہ اقرار کیا جاتا ہے کہ محروسہ علاقے ریاست کا حصہ رہیں گے اور ریاستی تقریبات کا حسب سابق انتظام کیا جائے گا اور مہاراجہ کو سلامی دی جائے گی۔ ریاست کا جھنڈا ایجنسی کے صدر مقام پر ہمیشہ قائم رہے گا۔

دفعہ سوم: عام حالات میں برطانوی افواج، انگریزی یا ہندی اس علاقے سے نہیں گزریں گی جو دریائے سندھ کے باہیں جانب واقع ہے۔

دفعہ چہارم: اس علاقے میں حقوق معدنیات بحق مہاراجہ محفوظ رہیں گے۔

دفعہ پنجم : یہ عہد نامہ تاریخ اجراء سے 60 سال تک نافد رہے۔ اس میعاد کے پورا ہو نے پر یہ خود بخود ختم تصور کیا جائے گا۔

یہ عہد نامہ 26 مارچ 1935 ء سے 30 جولائی 1947 ء تک نافذ رہا۔ برطانوی سرکار نے تقسیم ہند کے اعلان کے بعد 30 جولائی 1947 ء کر خود ہی اس معاہدے کی تنسیخ کا اعلان کر دیا ( 2 ) ۔ یکم اگست 1947 ء کو گلگت میں ایک اجتماع ہوا، جس میں برطانیہ کی طرف سے برٹش کمانڈر انچیف (کشمیر آرمی) میجر جنرل ایچ ایل سکاٹ اور مہاراجہ کی طرف سے متعین گورنر برگیڈیر گھنسارا سنگھ نے شرکت کی۔ اس اجتماع میں برٹش پولیٹیکل ایجنٹ، کرنل راجر بیکن (Col۔ Roger Bacon) نے یونین جیک اتار کر یہ علاقے برگیڈیر گھنسارا سنگھ کے حوالے کر دیے ( ( 7 ) ”Sajjad Ahmad“ ) اور بھمبر کے راجہ نور علی خان کو ایجنسی کا وزیر وزارت مقرر کر دیا گیا (چیف جسٹس صراف، ممتاز ہاشمی) ۔

انڈیا ایکٹ 1935 ء

ایک اور قابل ذکر اقدام جو تاج برطانیہ کی طرف سے اسی سال کیا گیا وہ انڈیا ایکٹ 1935 ء کا اجراء تھا۔ اس ایکٹ سے بہت پہلے 1858 ء میں ایک ایکٹ منظر عام پر آیا تھا، جسے ہندوستان میں بہتر انداز حکمرانی کا قانون کہا گیا تھا ( 8 ) ۔ اس کی آخری شق میں یہ اعتراف کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں تمام آزاد ریاستوں کے ساتھ کمپنی کی طرف سے کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد کے لئے ملکہ عالیہ پابند ہوں گی۔ یہ بھی تسلیم کیا گیا تھا کہ آزاد ریاستیں برطانوی ہند کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے باشندے برطانوی شہری ہیں لہذا برطانوی پارلیمان ان کے بارے میں کسی قانون سازی کی مجاز نہیں ہے (چیف جسٹس یوسف صراف) ۔

1927 ء میں ریاستوں کے سربراہان نے شملہ کانفرنس کے موقع پر وائسرائے ہندسے مطالبہ کیا تھا کہ ان کی ریاستوں اور برطانوی راج کے درمیان تعلق کے تعین پر تحقیقات کے لئے ایک غیر جانبدارانہ کمیشن قائم کیا جائے، چناں چہ لارڈ برکن ہیڈ (Lord Berkenhead) سیکریٹری آف سٹیٹس نے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی، جس میں سر ہار کورٹ بٹلر (Sir Harcourt Buttler) بطور چیئر مین اور پروفیسر ڈبلیو ایس سکاٹ کے سی (Lord Berkenhead K C) اور ایس سی پیل (Hon۔ S C Peel) بطور ممبر تعینات کیے گئے۔ اس کمیٹی کے سامنے والیان ریاست کے آئینی وکلاء، جن کی سربراہی سر لیزلی سکاٹ (Sir Leslie Scott) کر رہے تھے پیش ہوئے۔ اس کمیٹی نے اپنی سفارشات پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ ریاستوں کے سربراہان کے اختیارات، کسی نئے جنم لینے والے خودمختار ملک کو، ان کی مرضی کے بغیر منتقل نہیں کیے جا سکتے (یوسف صراف بحوالہ وی پی مینن) ۔ انڈیا ایکٹ 1935 ء جس کا نفاذ اپریل 1937 ء میں کرنے کی کوشش کی گئی، میں ایک فیڈریشن کے وجود میں آنے پر برطانوی ہند اور ہندوستانی ریاستوں کے تعلق پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اس میں تسلیم کیا گیا تھا کہ اولاً ریاستوں اور صوبوں کا مرتبہ و مقام اور معاملہ ایک جیسا نہیں ہے چناں چہ وہ انہی شرائط پر، جو صوبوں کے لئے تجویز کی گئی ہیں، فیڈریشن میں مدغم ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ دوم ریاستیں، شخصی حکومتوں کے تحت خودمختار ہیں، چناں چہ ان کا فیڈریشن میں ادغام ان کے سربراہوں کے رضاکارانہ فیصلوں کے بغیر ناممکن ہے (وی پی مینن) ۔ شیخ عبد اللہ نے اس ایکٹ میں ریاستوں کے فیڈریشن میں شمولیت اور فیڈرل اسمبلی میں ممبران کی نامزدگی کا اختیار ریاستوں کے سربراہوں کو دینے پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ”برطانوی آئین سازوں نے یہ آئین تیار کرتے وقت جس طرح ریاستوں کے آٹھ کروڑ عوام کو نظر انداز کیا ہے، یہ تاریخ میں سیاہ باب کا اضافہ ہے۔

آٹھ کروڑ ریاستی عوام کو جانور خیال کرتے ہوئے انہیں اس قابل بھی نہیں سمجھا گیا کہ ان کی آراء اور خواہشات کو قابل اعتناء سمجھا جاتا۔ فیڈرل اسمبلی میں ممبر نامزد کر کے بھیجنے کا اختیار ایسے لوگوں (راجوں، مہاراجوں ) کو دیا گیا ہے، جن کے ناروا سلوک سے ان کی رعایا پہلے سے ہی تنگ ہے۔ اگر فیڈریشن میں شمولیت کے لئے ریاستوں کی مدد کی ضرورت ہے تو وہ ان کے حاکموں کے نہیں ریاستی عوام کے دل جیت کر ہی حاصل کی جا سکتی ہے ”(ایم ڈی تاثیر) ۔ اس قانون کے اطلاق سے پہلے ہی مسلم لیگ نے 23 مارچ 1940 ء ایک علیحدہ ملک کا مطالبہ کر دیا۔ اس طرح یہ ایکٹ کہیں پس منظر میں چلا گیا۔

نیشنل کانفرنس اور مسلم کانفرنس کی سیاست

نیشنل کانفرنس کی سیاست کے روح رواں شیخ عبد اللہ تھے۔ کشمیر کی سیاست میں وہ ایک خاص مقام حاصل کر چکے تھے۔ ان کا سیاسی قد کاٹھ اتنا بڑھ چکا تھا کہ کسی اور راہنما کو ان کے مدمقابل کھڑا نہیں کیا جاسکتا تھا۔ چوہدری غلام عباس جموں میں اپنا حلقہ اثر رکھتے تھے۔ وہ شیخ عبد اللہ کے ساتھ زیادہ عرصہ نہ چل سکے اور مسلم کانفرنس کے دوبارہ اجراء پراس میں فعال ہو گئے۔ اگر کشمیر کی وادی اور جموں صوبے کی سیاست کا معروضی یا خارجی تجزیہ کیا جائے تو دونوں خطوں کی سیاست میں نمایاں فرق نظر آتا ہے۔

وادی کشمیر کے لوگ، وادی کے جغرافیائی خط و خال کی وجہ سے اس خطہ میں ہی محدود تھے۔ ان کے بیرونی دنیا سے روابط بہت کم تھے۔ وادی سے بانہال کے راستے جموں اور پنجاب تک رسائی ممکن تھی۔ راستہ کٹھن اور سارا سال کھلا نہیں رہتا تھا۔ مزدور طبقہ اسی راستے سے پیدل ہی پنجاب جاتا تھا اور چار چھ ماہ کی محنت مزدوری کے بعد ، برف پڑنے سے پہلے پیدل ہی گھروں کو واپس آ جاتا تھا۔ سری نگر سے بارہ مولہ اور مظفر آباد اور پونچھ سے راولا کوٹ اور پلندری کے راستے بھی تھے۔ مگر یہ پہاڑی اور دشوار گزار تھے۔ الغرض وادی کا پنجاب سے بعد تھا اور روابط نہ ہونے کے برابر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ پنجاب کی سیاست کے وادی پر اثرات بہت کم تھے۔ وادی میں مسلمانوں کی اکثریت تھی، ہندو اقلیت آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اگرچہ راج ہندو کا تھا مگر مسلمان عددی اکثریت کی بنا پر یہاں اپنے آپ کو قدرے محفوظ خیال کرتے تھے۔ شیخ عبداللہ کا ’کشمیر‘ بھی صرف وادی میں کشمیری زبان بولنے والوں تک محدود تھا۔ ان کی نظر میں ریاست جموں و کشمیر کے دوسرے علاقے ’کشمیر‘ نہیں تھے۔ وہ جو اپنے آپ کو بلا شرکت غیرے، جموں کشمیر کا سیاسی راہنما سمجھتے تھے، لداخ اور گلگت بلتستان کے عوام میں کوئی پذیرائی نہیں رکھتے تھے۔ وادی کے لوگ مذہبی اور سیاسی شخصیت پرستی کے قائل تھے۔ جس شخص نے ان کے دل کی بات کہہ دی، وہی ان کا دیوتا ٹھہر جاتا تھا اور اس شخص کی خامیاں کہیں پس منظر میں چلی جاتی تھیں۔ اس کے نظریات کی کجی یا اس جھول سے ان کے مستقبل پر مرتب ہونے اثرات سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی تھی۔

کشمیر کے مقابلے میں جموں، ادھم پور اور کٹھوعہ میں ہندؤوں کی اکثریت تھی۔ اگرچہ جموں کے صوبے میں بحیثیت مجموعی، مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن یہاں کے ہندؤوں کی متشددانہ ذہنیت کے پیش نظر مسلمان اپنے آپ کو غیر محفوظ خیال کرتے تھے۔ صوبہ جموں کی سرحدیں پنجاب سے ملتی تھیں اور سڑک اور ریل کے ذریعے آمد و رفت بھی تھی اور مسلمانوں کے سرحد پار رشتے ناتے بھی تھے، لہذا پنجاب کی سیاست کے اثرات یہاں براہ راست مرتب ہوتے تھے۔

شیخ عبداللہ اور چوہدری غلام عباس پر صدیوں غلامی کی چھاپ تھی۔ ریاست جموں و کشمیر 1585 ء سے غلامی کا طوق گلے میں ڈالے ہوئی تھی۔ 1846 ء میں پوری ریاست ہی شخصی غلامی میں دے دی گئی تھی۔ گلاب سنگھ اور اس کے وارثین نے اس ریاست کے عوام پر ظلم و جبر کی انتہاء کر دی تھی۔ یہ لوگ روز مرتے اور روز جیتے تھے اور وہ اس چنگل سے رہائی چاہتے تھے، خواہ یہ رہائی انہیں کسی قیمت اور کسی کی ہی مداخلت سے نصیب ہو۔ چوہدری غلام عباس، جموں سے ہونے کی بنا پر، مسلم لیگ کی طرف رجحان رکھتے تھے۔

وہ اپنے پڑوس میں ایک ممکنہ ملک ’پاکستان‘ کے قیام کے ساتھ اپنی ریاست کی نجات منسلک کر بیٹھے۔ ان کا خیال تھا کہ مسلم لیگ کی مدد و حمایت سے ان کی آزادی کی منزل آسان ہو جائے گی۔ چوہدری صاحب اپنی ذات کی نفی کر کے کشمیر کی سیاست میں کامیاب ہونا چاہتے تھے۔ یہ ایک جذباتی طرز عمل تھا۔ سیاست ایک بے رحم کھیل ہے۔ اپنی ذات کی نفی سے خدا تو مل سکتا ہے، سیاسی مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکتے، یہی دنیا کی ریت ہے۔ قائد اعظم نے پاکستان کے حصول میں اپنی ذات کی نفی نہیں کی تھی، وہ بدستور قائد اعظم رہے اور پاکستان کے وجود میں آنے پر اس کے گورنر جنرل بھی بنے۔ چوہدری غلام عباس، پاکستان سے اپنی بے لوث محبت، اپنی دیانتدارانہ سیاست اور اپنے گھر بار کو لٹانے کے باوجود، قائد اعظم کی جیب کے کھوٹے سکوں کے ہاتھوں بے بس ہو کر اس دنیا سے بے نیل و مرام رخصت ہوئے اور محض جھکنے اور بکنے والوں نے رفعتیں اور خلعتیں پائیں۔ گویا منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے۔

چوہدری صاحب کے مقابلے میں شیخ عبداللہ کہیں زیادہ سمجھ بوجھ کے مالک تھے۔ ان کا رویہ جذباتی سے زیادہ حقیقت پسندانہ تھا۔ انہیں علم تھا کہ اپنی ذات کو پس پشت ڈال کر سیاست نہیں کی جا سکتی۔ جہاں کسی کی ذات معدوم ہوئی، وہاں اس کی سیاست کا باب بھی بند ہو گیا۔ شیخ عبداللہ اپنی ذات کے بارے میں کسی ابہام کا شکار نہیں تھے۔ وہ اپنی سیاسی قدر و منزلت خوب سمجھتے تھے۔ انہیں اس بات کا کلی ادراک تھا کہ وہ کشمیر کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور یہ کہ ریاست کے مستقبل میں ان کا کردار فیصلہ کن ہوگا۔

اس سب کے باوجود، شیخ صاحب کا سیکولر ازم کے واہمے کے پیچھے مسلم کانفرنس کو نیشنل کانفرنس میں تبدیل کرنا ایک سعی لا حاصل تھی۔ جموں صوبہ کے ہندؤوں کو تو دور کی بات ہے، اس جھنجھنے سے وادی کے مٹھی بھر ہندؤوں کی بھی بہلایا نہ جا سکا۔ شیخ صاحب نے ساری عمر وادی کے مسلمان کے سر پر سیاست کی لیکن ٹھوس بنیادوں پر اس کے لئے کچھ نہ کر پائے اور آخر کا ر ان کی سیاست اپنی ذات اور اپنے خاندان کے مفادات تک محدود ہو کر رہ گئی۔

جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے