میرے مطابق
ڈاکٹر جمیل احمد میر
جب شیخ عبداللہ جواہر لعل نہرو سے سیاسی تعلق استوار کر رہے تھے تو اسی دوران ڈوگرہ حکومت نے 1935 ء میں گلگت کا علاقہ 60 سال کے لئے پٹے پر تاج برطانیہ کی تحویل میں دے دیا۔ برطانیہ کی اس علاقے میں دل چسپی تو پہلے سے تھی، مگر اب یہ خطہ اس کے لئے زیادہ اہمیت اختیار کر گیا تھا۔ روس میں زار کی حکومت کے خاتمے کے بعد کمیونسٹ آمریت نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ بنابریں اب کیمیونزم کشمیر کے دروازے پر دستک دینے لگا تھا۔
پامیر کے پہاڑی سلسلے کے اس پار کمیونزم کے غلبے نے برطانوی سامراج کے زیر تسلط علاقوں بالخصوص بر صغیر پاک و ہند اور مشرق بعید کی ریاستوں کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی۔ جرمنی میں ہٹلر کا اقتدار اور نازی ازم کی ترویج اور اٹلی میں مسولینی کی فسطائیت کے بعد اب روس میں کمیونزم کا استحکام اور اس کی ممکنہ توسیع برطانیہ کے لئے بڑا چیلنج تھا۔ مؤخر الذکر کی پیش بندی کے لئے دفاعی حکمت عملی کے تحت برطانوی فوج کے زیر اثر ایک فورس کی گلگت میں موجود گی کی ضرورت محسوس کی گئی۔
گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت
ڈوگرہ راج سے قبل گلگت اور بلتستان اور لداخ کے علاقے، 1339 ء سے 1585 ء تک مسلمان حکمرانوں (شاہ میر خاندان اور چک خاندان) کے دور حکومت، جو کشمیر پر آزاد و مختار حکمران تھے، کے تحت تھے اور مغلوں، افغانوں اور سکھوں کے دور غلامی میں یہ علاقے ان کی طرف سے مقرر کیے گئے گورنروں کے ماتحت رہے (ممتاز ہاشمی۔ گلگت و بلتستان میں ایجنسی نظام کیوں ) ۔ اب، 1935 ء میں، یہ علاقے ڈوگرہ راج کے تسلط میں تھے۔ یہ علاقہ جات، ریاست جموں کشمیر میں موجود کچھ دوسری جاگیروں یا راج دھانیوں ؛ راجوری، پونچھ، جسروٹا، رام نگر، بسوہلی اور کشتواڑ کی طرح، چھوٹی چھوٹی خود مختار ریاستوں پر مشتمل تھے۔
یہاں نگر، ہنزہ، کھرمنگ، خپلو، شگر، دیامر، خذر، سکردو، استور اور گانچھے کے راجواڑے تھے، جو ایک دوسرے سے مسلسل بر سر پیکار رہتے تھے۔ معاہدہ یا بیع نامہ امرتسر ( 16 مارچ 1846 ) کے تحت صرف وہ پہاڑی یا ملحقہ علاقے جو دریائے سندھ کے مشرق اور دریائے راوی کے مغرب میں واقع تھے، گلاب سنگھ کو فروخت کیے گئے تھے۔ گلگت کا علاقہ چوں کہ دریائے سندھ کے مغرب میں واقع تھا اس لئے اس دستاویز انتقال میں شامل نہیں تھا۔ 1846 ء تک یہ علاقے خالصہ راج کے تحت تھے۔
گلگت میں خالصہ فوج اور ان کی طرف سے مقرر گورنر کریم خان موجود تھے۔ برطانیہ سرکار نے ریاست جموں کشمیر کی حد بندی کے لئے دوسروں علاقوں کی طرح کشمیر کے شمالی علاقہ جات میں بھی اپنی فوج کو دو افسر، لیفٹیننٹ وانز ایگنیو (Vans Agnew) اور لیفٹیننٹ رالف ینگ (Ralph Young) مقرر کیے۔ انہوں نے دریائے سندھ کے شمالی علاقے، بشمول گلگت، مہاراجہ کی ریاست میں شامل کر دیے۔ (چیف جسٹس یوسف صراف۔ کشمیریز فائٹ فار فریڈم) ( 1 ) ۔
مارٹن سوک فیلڈ (Martin Sökefeld) ( 2 ) جو میونخ کی لڈ وگ میکسی ملینز (Ludwig۔ Maximilians۔ Universität) یونیورسٹی میں سماجی اور ثقافتی بشریات کے پروفیسر ہیں اپنے انگریزی کے ایک آ رٹیکل، ’استعماریت سے استعماریت کے بعد ، پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں تسلط کی بدلتی شکلیں (جنرل آف ایشین سٹڈیز کے نومبر 2005 ء ) میں لکھتے ہیں کہ بادی النظر میں اگرچہ معاہدہ نامہ امرتسر ( 16 مارچ 1846 ) کے تحت گلگت کا علاقہ گلاب سنگھ کو فروخت نہیں کیا گیا تھا لیکن فریڈرک ڈریو (Frederick Drew) جو گلاب سنگھ کے بیٹے، رنبیر سنگھ کے دور حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے، نے برطانوی سرکاری دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے ان علاقوں پر ڈوگرہ راج کے اقتدار کو قانونی قراردیا ہے (1) ۔ وہ کہتے ہیں کہ معاہدہ امرتسر میں گلگت کو شامل نہ کرنا ان علاقوں کے تفصیلی جغرافیائی علم سے عدم واقفیت کی بنا پر تھانہ کہ عمداً ایسا کیا گیا تھا۔
انگریز، معاہدہ امرتسر میں گنجائش نہ ہونے کے باوجود، حیلوں بہانوں سے ریاست جموں کشمیر کے شمالی علاقہ جات میں اپنی دلچسپی کی خاطر ساٹھ کی دہائی سے وہاں اپنا ریزیڈنٹ مقرر کرنے کی کوششیں کرتے چلے آرہے تھے۔ انہوں نے یہ موقع رنبیر سنگھ کے دور حکومت کے آخری سالوں میں ان علاقوں میں تاج برطانیہ کے مفادات کے تحفظ پر، اس کی وفاداری پر سؤالیہ نشان لگا کر پیدا کر لیا ( 3 ) ، ( 4 ) ۔ چناں چہ مہاراجہ کی مخالفت کے باوجود انہوں نے کرنل جان بڈولف کو اپنے پہلے ایجنٹ کے طور پر گلگت میں تعینات کر دیا۔
مہاراجہ رنبیر سنگھ کے نزدیک انگریزوں کی یہ کارروائی، کشمیر میں اس کی سر گرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے کی گئی تھی۔ دوسرے لفظوں میں اس کے اقتدار کو محدود کرنا اور اس میں دراڑ پیدا کرنا مقصود تھا۔ کرنل جان بڈولف کے لئے مشکلات نہ صرف ڈوگرہ راج کے گورنر کی طرف سے پیدا کی گئیں بلکہ مقامی (ہنزہ نگر اور یاسین کے ) لوگوں نے بھی اس سے ساتھ تعاون نہ کیا۔ اس طرح اس ایجنسی کو 1881 ء میں بند کر دیا گیا (مارٹن سوک فیلڈ) ۔
رنبیر سنگھ کی وفات کے بعد مہاراجہ پرتاب سنگھ جو ایک کمزور حکمران ثابت ہوا تھا کو انگریزوں نے بالکل بے اختیار کر کے اس ایجنسی کا 1889 ء میں دوبارہ اجراء کیا اور کرنل الگرنن ڈیورنڈ (Algernon Durand) کو پولیٹیکل ایجنٹ مقرر کر دیا۔ ڈیورنڈ نے ڈوگرہ راج سے اپنے آپ کو علیحدہ رکھتے ہوئے ایجنسی کے مقامی لوگوں سے روابط بڑھائے اور اس طرح وہ اس علاقے میں برطانوی اثر رسوخ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ڈیورنڈ کی حکمت عملی کے تین ستون تھے ( 6 ) :
1: مکمل یقین اور اعتماد کہ تاج برطانیہ ایک ناقابل تسخیر قوت ہے۔
