محمد علی یزدانی
مودی سرکار نے 5اگست 2019 کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370اور 35۔اے کو غیر موثر کرکے کشمیریوں کو اقلیت میں بدلنے کا آغاز کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر نہ ختم ہونے والا لاک ڈاؤن نافذ کردیا اور آج مقبوضہ وادی کے کشمیر ی 9لاکھ سے زائد بھارتی سامراج کی فوج کی سنگینوں کے سائے میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بن چکا ہے۔ جہاں پر معصوم و مجبور مقہور و مقید کشمیری ہر روز ظلم وجبر کے تازیانے برداشت کررہے ہیں۔مودی سامراج نے تمام کشمیری قیادت کو بھی مختلف جیلوں میں مقید کرکے ظالم عفریت کے پنجوں میں جکڑ رکھا ہے۔80لاکھ سے زائد معصوم و بے بس کشمیری گھروں میں جبری قید ہیں جبکہ 17ہزار سے زائد نوجوان کشمیریوں کو گھروں سے اٹھا کرغائب کر دیا گیا ہے یا جیلوں میں ڈال دیا گیا ہے۔ 90کی دہائی کے آغاز سے لے کر 2020کے اختتام تک بھارتی سفاک درندے فوجیوں نے ایک لاکھ 1192کشمیروں کو شہید کیا۔17ہزار 900خواتین کی بے حرمتی کی گئی ایک لاکھ 20ہزار آٹھ سو بچے یتیم ہوئے 2لاکھ سے زائد املاک تباہ ہوئیں اور اسرائیل و دیگر یورپی ممالک سے درآمد شدہ پیلٹ گنوں سے ہزاروں بچے بوڑھے اور جوان کشمیری اندھے ہوگئے لیکن پھر بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو ختم نہیں کیا جاسکا اور ان سے بڑھ کر بھی اگر ظلم کئے جائیں گے تب بھی جذبہ آزادی ختم نہیں کیا جا سکے گا۔
’بلاول بھٹو کو ایسی گری ہوئی باتیں نہیں کرنی چاہئیں‘شاہد خاقا ن عباسی نے ایسی بات کہہ دی کہ اپوزیشن جماعتوں میں مزید دوریاں پیدا ہو جائیں
آج بھی ہر روز مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور کشمیریوں کے قتل و غارت کی نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے،بھارتی مظالم کا ذکر کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ اس کے مقابلے میں جب ہم پاکستانی کشمیر یعنی آزاد کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے یہاں کے باسیوں کو شخصی و اجتماعی ہر قسم کی آزادی میسر ہے،پاکستانی آزاد کشمیر میں دو ماہ کے دوران دو اہم ایونٹ ہونے جا رہے ہیں ایک اس ماہ کے آخر میں عام انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے اور دوسرا اگلے ماہ کشمیر میں کشمیر پریمیر کرکٹ لیگ منعقد ہو رہی ہے جس میں پاکستان کے مایہ ناز کھلاڑی شرکت کر رہے ہیں۔کھیلو آزادی سے سلوگن کے ساتھ شروع ہونے والی کشمیر پریمیر لیگ (کے پی ایل) کے انعقاد سے کشمیری نوجوانوں کو اپنی کرکٹ صلاحیتیں دکھانے کا بھرپور موقع ملے گا جس سے نیا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آئے گا۔اس کے ساتھ ساتھ کشمیر پریمیر لیگ دنیا کیلئے کشمیر کاز سے آگاہی کا سبب بنے گی۔
انتخابی عمل میں تمام طبقات کی شمولیت ، چیف الیکشن کمشنر نے بڑی یقین دہانی کرا دی
کشمیر پریمیر لیگ سے دنیا کو پتہ چل جائیگا کہ بھارت کے قبضہ میں مقبوضہ جموں وکشمیر میں کیا حالات ہیں اور آزاد کشمیر میں کیا حالات ہیں، وہاں گلیاں کوچے بند ہیں کرفیو نافذ ہے اور یہاں کرکٹ ہو رہی ہے لوگ کرکٹ کھیل رہے ہیں غیر ملکی کھلاڑی اس لیگ کا حصہ بن رہے ہیں،کشمیر پریمیرلیگ کے انعقاد سے عالمی سطح پر کشمیر کے خوبصورت مناظر اور ثقافت کو فروغ ملے گا اورلیگ کے انعقاد سے پوری دنیا میں کشمیر کاز اجاگر کرنے اور کشمیر کو عالمی کھیلوں میں متعارف کرانے میں بھی مدد ملے گی جس کیلئے کشمیر پریمیر لیگ کے صدر عارف ملک، صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر، شہریار آفریدی اور ہر وہ شخص داد کا مستحق ہے جس نے کشمیر کے نام سے لیگ شروع کرا کر بھارت کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کا اہتمام کیا ہے.اس لیگ کے صدر عارف ملک اور لیگ کے پیٹرن انچیف اور آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود احمد خان نے کشمیر کاز کو کرکٹ کے ذریعہ اجاگر کرنے کا جو بیڑا اٹھایا ہے یقینا یہ کامیابی سے ہمکنار ہو گا۔
