بھارتی حکومت کی ہدایات پر مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔
ظہور حسین جمعہ
بھارتی حکومت کی ہدایات پر مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک حکم نامے میں خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہے۔
کشمیر کے محکمہ اینیمل/شیپ ہسبنڈری اینڈ فشریز کے ڈائریکٹر پلاننگ جی ایل شرما کی جانب سے جاری پابندی کے حکم نامے کے سجبیکٹ (عنوان) میں لکھا ہے: ‘بقر عید کے موقع پر گائیں/بچھڑوں، اونٹوں اور دوسرے جانوروں کی غیر قانونی ہلاکتیں/ذبح روکنا اور جانوروں کی ٹرانسپورٹیشن کے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنا۔’
یہ پوچھے جانے پر کہ اس حکم نامے سے تو لوگوں میں کنفیوژن پیدا ہوا ہے کہ شاید عید الاضحیٰ کے موقع پر سبھی جانوروں کی قربانی پر پابندی عائد کی گئی ہے تو ان کا کہنا تھا: ‘ہم کنفیوژن جلد دور کریں گے۔’
بعد ازاں کشمیر انتظامیہ نے چوطرفہ تنقید کے بعد جمعے کی شام دیر گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے جانوروں کی قربانی کے متعلق کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا ہے۔
مسلم اکثریتی خطہ کشمیر میں بڑے جانوروں کے ذبح پر مکمل پابندی سے لوگوں میں شدید ناراضگی پیدا ہوئی ہے اور اکثر لوگوں کا الزام ہے کہ بھارت کشمیری مسلمانوں کی مذہبی آزادی سلب کر رہا ہے۔
کشمیری مورخین کا ماننا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ عید الاضحیٰ کے موقع پر تمام بڑے جانوروں کی قربانی پر پابندی لگائی گئی اور خلاف ورزی کرنے پر سخت سزا کی دھمکی دی گئی۔
