Input your search keywords and press Enter.

آزاد کشمیر: جلتے کوئلوں کی دلالی

آپ نے اس احمق کی کہانی تو سنی ہوگی‘ جس درخت کی شاخ پر بیٹھا تھا اسی پر آری چلا رہا تھا۔ قریب سے کسی کا گزر ہوا‘ خبردار کیا کہ شاخ کٹی تو تم بھی گر جائو گے‘ احمق کا وصف ہوتا ہے کہ وہ کس سچائی‘ انتباہ اور تجزیئے کو قبول نہیں کرتا۔ آری چلانے والے نے بھی عقل کی بات نظر انداز کی اور شاخ کٹنے کے ساتھ گر کر اپنی ہڈیاں تڑوا بیٹھا۔ آزادکشمیر کے انتخابات کے لیے بہت سے رہنما ہاتھ میں آریاں لے کر قومی یکجہتی کے پیڑ پر چڑھ بیٹھے ہیں۔ دس روز ہوئے میں نے سب سے پہلے آگاہ کیا کہ انتخابی مہم میں تلخی گھولی جا رہی ہے، ایسی آلودگی پھیلائی جا رہی ہے جو تعفن سے ماحول کو بھر دے گی۔ پیپلزپارٹی‘ ن لیگ اور تحریک انصاف اپنے اختلافات اٹھا کر آزادکشمیر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔جہاں رواداری،تحمل اور برداشت جیسی اعلیٰ اقدار کا راج تھا وہاں انتخابی دشمنی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ اس امر کی نشاندہی ارشاد احمد عارف صاحب ‘ ہارون الرشید صاحب اور ارشاد محمود نے بھی کی۔ ایک نہیں کئی بار کی۔ ٹی وی کے شو ہوئے‘ لیکن معاملے کی حساسیت کا ادراک متعلقہ افراد اور اداروں کو نہیں اس لیے کشمیر اور کشمیریوں کے معاملات پر بات تو کسی نے نہ کی‘ ایک دوسرے کو برا برا کہتے رہے۔ عابد ضمیر ہاشمی آزادکشمیر میں علمی و ادبی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں‘ ان کی مختصر تحریریں اخبارات میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔کل ایک ویڈیو بھیجی۔ پنڈال سجا ہے‘ لوگ کچھ کم ہیں لیکن تین چار سو ضرور ہوں گے۔ ایک صاحب وزیراعظم عمران خان اور سکیورٹی اداروں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں، ویڈیو میں جو لہجہ اور الفاظ استعمال ہوئے ہیں ان کو برا بھلا کہہ کر میں شدت کم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دو دن پہلے کا واقعہ ہی ہے کہ وفاقی وزراء علی امین گنڈا پور اور مراد سعید،وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے حلقے میں انتخابی مہم پر تھے۔ کچھ لوگوں نے ان کے قافلے پر پتھر اور انڈے پھینکے‘ جواب میں علی امین گنڈا پور خود ہی ہوائی فائرنگ فرماتے رہے۔ پتھرائو سے تنویر الیاس کا ایک سکیورٹی گارڈ زخمی ہوا۔علی امین گنڈا پور وزیر برائے امور کشمیر ہیں ،وہ ریاست پاکستان کی نمائندگی کرتے ہیں،ٹارگٹ بنائے جانے سے متعلق ان کی شکایت ہو سکتا ہے کہ درست ہو لیکن گنڈاپور نے جس طرز عمل کا مظاہرہ اب تک کیا ہے وہ وزیر برائے امور کشمیر کی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔پہلے وہ ایک امیدوار کو اپنے ہاتھ سے رقم دیتے پائے گئے ،اب پستول سے فائرنگ نے کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑا ، جس نے دیکھنا ہو دیکھ لے ،نادان دوست ایسے ہوتے ہیں۔ اب کشمیر کی مہم اور اس میں اچھالی جانے والی گندگی کو ایک طرف رکھ کر یہ دیکھ لیں کہ نریندرمودی آزادکشمیر میں کس طرح کی افراتفری چاہتے ہیں۔ نومبر 2019ء کے شمارے میں او آر ایف ایشو بریف نے چین کی کشمیر پالیسی پر جناپا بھٹ کا ایک مضمون شائع کیا۔ اس میں آزادکشمیر کے حوالے سے مودی کے عزائم کا ذکر بھی موجود ہے۔ 26 ستمبر 2016ء کو مودی نے مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی پشت پر پاکستان کا کردار بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ آزادکشمیر اور بلوچستان میںریاست پاکستان کے خلاف بغاوت کی حوصلہ افزائی کریں گے۔پڑھنے والوں کو یاد ہو گا اس وقت مودی کے اس بیان پر پاکستان نے بہت احتجاج کیا تھا، اسی طرح کے خیالات کا اظہار اگست 2016 میں جب مودی نے کیا تو دیپک سنہا نے ایک مضمون میں اپنا تجزیہ پیش کیا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی یوم جمہوریہ کے موقع پر اگست 2016ء میں آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ایک کھلی مداخلت کی دھمکی تھی۔ یاد رہے نریندر مودی یہ سب کچھ اس وقت کہہ رہے تھے جب دسمبر 2015ء میں پاکستان کا اچانک دورہ ہو چکا تھا اور مریم نواز کی بیٹی کی شادی میں شرکت کے بعد پاک بھارت تعلقات میں بہتری کی باتیں بنائی جا رہی تھیں۔ کیا کوئی کشمیر کے عوام کی آرزوئوں کا مذاق اڑا سکتا ہے؟ مریم نواز نے انتخابی مہم میں عمران خان یا دیگر سیاستدانوں کے بارے میں جو کہا ان کا جواب حکومتی ترجمان دیتے رہے۔ جواب کیا‘ گالی کے جواب میں گالی، لیکن مریم نواز نے جب بھرے جلسے میں کہا کہ عمران خان کشمیر کو صوبہ بنانا چاہتا ہے۔ ہم کشمیر کو صوبہ نہیں بننے دیں گے تو اس سے ایک فساد کی منصوبہ بند ی پس پردہ محسوس ہوئی۔ اہل کشمیر کی اکثریت پاکستان سے الحاق کی حامی ہے‘ الحاق کے بعد ریاست جموں و کشمیر اور پاکستان کا باہمی تعلق کس طرح سے ہو اس پر متعلقہ حلقوں میں بات ہوتی رہی ہے۔ گزشتہ برس عمران خان نے کہا تھا کہ بھارت سے آزادی کے بعد کشمیری عوام جو فیصلہ کریں گے پاکستان کو قبول ہو گا۔ یہ ایک پالیسی بیان تھا۔ فاٹا کے علاقے ستر سال تک وفاق کے زیر انتظام رہنے کے بعد کے پی کے میں مدغم ہو چکے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے حالیہ انتخابی مہم کے دوران مطالبہ کیا کہ جی بی کو پانچواں صوبہ قرار دیا جائے۔ آزادکشمیر میں سردار عبدالقیوم اور سردار ابراہیم کی قیادت میں الحاق کی تحریک مقبول رہی ہے۔ کشمیری کراچی‘ لاہور اور راولپنڈی میں لاکھوں کی تعداد میں آباد ہیں۔ ابھی کشمیر کے بطور صوبہ الحاق کی بحث کا موقع نہیں تاہم اس طرح کے بیانات کشمیری باشندوں کے خلوص اور محبت کو غلط راستے پر ڈالنے کا موجب ہو سکتے ہیں۔ دنیا ترقی کر گئی‘ اب کوئی ریاست دوسری ریاست میں افراتفری پھیلانے کے لیے اپنے جاسوسوں اور تخریب کاروںکی فوج نہیں بھیجتی دوچار لوگ بھیج دیئے جاتے ہیں۔ دوسرا طریقہ ریاست سے بدگمان سیاستدانوں کی اشتعال انگیزی کو جمہوری جدوجہد کہہ کر ان کی پشت پناہی کرنا ہے۔ مریم نواز باپ کی محبت میں ریاست کے مفادات دائو پر لگا رہی ہیں۔کشمیر میں روزگار، سیاحت ،بھارت سے آزادی ،ترقیاتی منصوبوں اور اداروں کو مستحکم بنانے کی جو بحث ہونا تھی وہ جلتے کو ئلوں کی دلالی کا کاروبار بن گئی ہے ،اب ہاتھ تو کالے ہوں گے،دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا گیا تو دامن بھی جلے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے