Input your search keywords and press Enter.

کشمیر میں قربانی روکنے کے حکم سے انڈین حکومت کی پسپائی

کشمیر میں مسلمانوں کے تحفظات کے پیش نظر انڈیا کی حکومت نے قربانی کی اجازت دے دی۔

ڈیلی اسٹار کے مطابق جموں کشمیر حکام کے مطابق عید قربان پر خواہشمند افراد قربانی بلا روک ٹھوک انجام دیں سکتے ہیں۔

صرف ایک دن پہلے حکام نے آرڈر کردیا تھا کہ علاقے میں گائے، اونٹ اور دیگر حیوانات کے زبح کو روک دیا جائے۔

سنئیر حکومتی ترجمان جی ایل شرما کا کہنا تھا کہ حکومتی پیغام کو غلط لیا گیا ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ حیوانات کو حمل و نقل اور ان پر ظلم سے گریز کیا جائے۔

شرما کے مطابق حیوانات پر ظلم نہ کرنے کا مطلب انکو زبح کرنے سے روکنا نہیں تھا۔

اس پہلے والے حکم پر مسلمانوں کے جانب سے سخت اعتراضات سامنے آئے اور علما نے اس کو غیر قابل قبول قرار دیا تھا اور کہا گیا کہ اسلام میں قربانی ایک اہم تاکید ہے اور حکومت کو اس متعصبانہ حکم سے فوری طور پر پسپائی کرنی چاہیے۔

انڈیا میں اکیس سے تیئس جولائی تک عید کی تعطلیلات ہوں گی۔

دوسری جانب بعض مسلم سوشل ایکٹویسٹوں کے مطابق حکومت نے علاقے میں سینکڑوں مسجد گرانے کا فیصلہ کیا ہےاور کشمیر کے ادارہ ثقافت کی سربراہ مشعل حسین مالک کا کہنا ہے کہ پانچ سو مساجد کو گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مشعل کشمیری رہنما یاسین ملک کی اہلیہ ہے اور انہوں نے ایک سیمینار میں یہ بات کہی ہے۔

انکا کہنا تھا کہ انڈیا نے ہندوں کی عبادت کے لیے جموں کشمیر میں مساجد گرانے کا فیصلہ کیا ہے اور مودی حکومت نے دہشت گردی کی نئی لہر شروع کی ہے۔

کشمیری مسلمانوں کو خدشہ ہے کہ نریندرمودی کی حکومت کشمیر کی خودمختاری سلب کرنے کے بعد اب کشمیر کی مسلم آبادی کو بدلنے کی سازش شروع کی ہے۔

مودی حکومت آنے کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا ہے اور شدت پسند ہندو عام طور پر مسلمانوں کو ٹارگٹ بناتے ہیں۔ انڈیا کی آبادی کا چودہ فیصد حصہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جبکہ ۴۔۱ ارب کے لگ بھگ آبادی کا اسی فیصد ہندو ہے۔/

3984949

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے